اسدالدین اویسی سے خوف اور مخالفت کیوں؟-ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی،حیدرآباد

فون:9395381226
”مجھے ایجنٹ اور دلال بولنے والے مسلمانوں قیامت کے اُس حساب کے دن سے ڈرو جس دن میں تمہارے سامنے خدا کے دربار میں انصاف کے لئے کھڑا ہوں گا“۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی کی اس جذباتی اور رونگٹنے کھڑے  کردینے والی تقریر کے الفاظ سوشیل میڈیا پر وائرل ہیں۔ غالباً انہوں نے یہ تقریر اترپردیش کے سہارنپور یا مرادآباد میں کی ہے۔ ان الفاظ کو سن کر لگا کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے۔ کوئی 25برس پہلے مکہ مسجد میں جمعۃ الوداع کے یوم القرآن سے خطاب کے دوران سالار ملت سلطان صلاح الدین اویسی (مرحوم) نے اپنے خلاف عائد کئے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے قرآن پاک کو ہاتھ میں لے کر پہلے تو الزام عائد کرنے والوں کو چیلنج کیا کہ وہ آئیں اور قرآن اٹھاکر قسم کھائیں کہ میں (صلاح الدین اویسی) نے کسی سے کبھی کسی معاملے میں سودے بازی کی ہے۔ پھر سالارِ ملت نے اللہ کے دربار میں اللہ کی آخری آسمانی کتاب کو اپنے سر پر رکھ کر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے لئے، اپنی اولاد کیلئے، اپنے کسی رشتہ دار کیلئے، اپنی جماعت کیلئے یا بابری مسجد کے کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی۔ اگر میں نے سودے بازی کی ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے اور میری اولاد کو نیست و نابود کردے ورنہ جھوٹ الزامات عائد کرنے والوں کو نیست و نابود کردے“۔
جناب صلاح الدین اویسی کے ان الفاظ نے حیدرآباد کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔ وہ لوگ‘ وہ جماعتیں جو منظم طریقے سے ان کے خلاف تحریک چلارہی تھیں، ان کی شدت میں کمی آگئی۔ عام مسلمان کے دل اور دماغ مکمل طور پر بدل گئے۔ حالانکہ اس وقت کے حالات کچھ ایسے بدل گئے تھے کہ حیدرآباد کی پارلیمانی نشست سے مجلس کا انتخاب سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ کیوں کہ اسمبلی انتخابات میں مجلس تین ارکان سے ایک رکن بیرسٹر اسدالدین اویسی تک محدود ہوگئی تھی۔ بابری مسجد کی شہادت کے لئے مسلم قیادت کو پوری طرح سے ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور اس وقت جناب اویسی مرحوم قومی سطح پر اہم مسلم قائدین میں شمار کئے جاتے تھے۔ حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ بابری مسجد رابطہ کمیٹی اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی میں مسلم قیادت تقسیم ہوگئی تھی۔ مسجد کی شہادت اور اس کے بعد کی خاموشی کو میڈیا نے کچھ اس انداز سے پیش کیا تھا کہ مسلم قیادت بابری مسجد کی شہادت کے لئے ذمہ دار سمجھی جانے لگی۔ دہلی، علی گڑھ بلکہ شمالی ہند میں مسلم قائدین تقریباً گوشہ نشین ہوگئے تھے۔ چاہے وہ شہاب الدین ہوں یا امام بخاری۔ سلیمان سیٹھ، بنات والا، صلاح الدین اویسی (مرحومین) کے علاوہ علی میاں ندویؒ  تک پر الزامات عائد کئے گئے تھے۔ حیدرآباد میں مسلم متحدہ محاذ جو جماعت اسلامی، رہنمائے دکن، مسلم لیگ، تعمیرملت، مولانا عاقل مرحوم، مجلس بچاؤ تحریک پر مشتمل تھا‘ اس نے مجلس کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ اس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ ہم بھی اس تحریک کا ایک حصہ تھے۔ ”سو سنار کی ایک لوہار کی“ کے مصداق صلاح الدین اویسی مرحوم کا مکہ مسجد میں اعلان اور قرآن کو سر پر اٹھالینا تمام مخالفین کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے کافی ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے مجلس نے دوبارہ پلٹ کر نہیں دیکھا۔ 1999 کے الیکشن کے بعد سے آج تک اس کے ارکان کی تعداد بڑھتی گئی۔ لگ بھگ 25برس بعد بیرسٹر اسدالدین اویسی تقریباً ایسے ہی دور یا مراحل سے گزر رہے ہیں جیسے صلاح الدین اویسی مرحوم کو گزرنا پڑا تھا۔ 3/اکتوبر 2015ء کو خود بیرسٹر اسدالدین اویسی کے فیس بک اکاؤنٹ پر ا ن کے ایک چاہنے والے نے سالارِ ملت کے مکہ مسجد میں قرآن سر پر اٹھانے کے واقعہ کی ویڈیو لنک اپلوڈ جس کے ساتھ یہ نوٹ بھی لکھا گیا کہ بڑے دکھ کی بات تھی تب بھی جب ایک سچے کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے قرآن پاک کی قسم کھانی پڑی تھی‘ آج بھی وہی حال ہے لوگوں کا، اسد صاحب اور اکبر صاحب پر الزامات عائد کرنے کا۔ اس میں یہ بھی لکھا گیا کہ اگر مجلس کے ساتھ نہیں چل سکتے تو خدا را اسے نیچا دکھانے کی کوشش نہ کرو۔ آج ہم شکست کھاتے ہیں تو اپنے ہی لوگوں کی وجہ سے بس اس بات پر غور کرو میرے مسلمانو!
اگرچہ کہ یہ پوسٹ 6برس پہلے کی ہے مگر آج اسد اویسی نے جس طرح اپنی تقریر میں الزام یا بہتان طرازی کرنے والوں کو لتاڑا ہے انہیں خدا کا خوف دلایا ہے‘ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ الزامات کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہا۔ اسد اویسی کی اس تقریر کے ان الفاظ نے جانے کتنے دلوں پر کیا کیا اثر کیا ہوگا! اب کوئی بے ضمیر ہی ہوگا جو اب بھی الزام اور بہتان تراشی کرتا رہے گا۔ رہنمائے دکن کے ایک فرد کی حیثیت سے اس کی پالیسی کے مطابق ہم نے مجلس کے خلاف کئی مضامین لکھے۔ وہ عمر کا ایسا دور تھا جب لوگوں کی تعریف سے آسمان کو چھونے کی کوشش میں ہم زمین سے رشتہ ختم کردیا کرتے تھے۔ حالانکہ نہ تو رہنمائے دکن سے اس کا کوئی صلہ ملا اور نہ ہی مخالف مجلس مہم کا کوئی فائدہ ہوا۔ مجلس سے فاصلے ہمیشہ رہ گئے۔ یہ پروفیسر اخترالواسع تھے جنہوں نے ہمارے نظریہ اور انداز فکر کو تبدیل کیا۔ حیدرآباد کے گیسٹ ہاؤز میں ان سے بہت تفصیل سے بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ سمجھایا تھا کہ مسلم قیادت بد نہیں ہے۔ اسے ایک سازش کے تحت بدنام کیا جارہا ہے۔ میڈیا کے ذریعہ ان کے خلاف اس طرح سے پروپگنڈہ کرکے مسلم ذہن سازی کی جاتی ہے کہ مسلمانوں اور قیادت کے درمیان دڑاڑ پیدا ہوجائے۔ مسلم قیادت مسلمانوں کے اعتماد سے محروم ہوجائے۔ بابری مسجد کی شہادت کے سانحہ کے بعد ایک منظم طریقے سے ایسی ہی تحریک چلائی گئی تھی تاکہ مسلم قیادت کروڑوں مسلمانوں کو احتجاج کے لئے سڑکوں پر لانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مسلم قائدین کو عام مسلمانوں کی نظروں سے گرادیا گیا۔ جس کا فائدہ بابری مسجد کے قاتلوں کو ہوا۔ اخترالواسع کے سمجھانے کا انداز واقعی ایک استاد جیسا تھا۔ اور اسکے بعد پھر ہم نے مسلم قیادت چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق کیوں نہ رکھتی ہو‘ اس کے خلاف اپنا قلم استعمال نہ کرنے کا عہد کیا۔
گواہ کی اشاعت کا آغاز ہی اس کی غیر جانبدار پالیسی کے عزم اور عہد کے ساتھ ہوا تھا اور گزشتہ 22سال کے دوران ہم نے اپنے خصوصی اشاعتوں کے ذریعہ ملی اتحاد کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ حیدرآباد پارلیمانی نشست کے لئے جب آپسی اختلافات میں شدت پیدا ہوگئی تھی تب بھی ہم نے مجلس کے حق میں تحریک چلائی۔ حیدرآباد کی اہم مسلم شخصیات کے باہمی اختلافات کو دور کرنے کے لئے کئی مضامین لکھے۔ 2000ء میں گواہ کے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی شمارے میں ہم نے یہ لکھا تھا کہ ”حیدرآبادی مسلمان چاہتا ہے کہ مجلس اتحادالمسلمین اور تعمیر ملت متحد ہوجائیں“ تعمیر ملت مسلمانوں کی ذہنی اور فکری تربیت کرے اور مجلس مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کرے۔ اُس وقت مجلس اور تعمیر ملت دونوں ہی جانب سے حوصلہ افزا ردعمل کا اظہار نہ ہوا بلکہ ہمارے خیالات کا مذاق اڑایا گیا۔ مگر ایک سال بعد حیدرآباد میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس ہوا تب برسوں بعد مجلس اتحادالمسلمین، تعمیر ملت اور مولانا عاقل اپنے اختلافات کو دفن کرکے ایک ہوگئے۔ وہ دن حیدرآباد کے مسلمانوں کیلئے عید کے دن جیسا تھا گواہ نے سالار ملت اور مولانا عاقل کی مصافحہ کرتی ہوئی تصویر کو سرورق پر شائع کیا۔ تو دارالسلام میں گواہ کے شمارے مونگ پھلی کی طرح فروخت ہوئے تھے۔اب الحمدللہ! روزنامہ سیاست نے بھی اپنی پالیسی کو بھی تبدیل کیا ہے‘ جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ ورنہ حیدرآبادی مسلمانوں نے وہ دور بھی دیکھا کہ حیدرآباد کے تین اردو اخبارات متحدہ طور پر مجلس کی مخالفت کیا کرتے تھے جو گزر گیا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا اور تلخ یادوں میں رہ گیا۔ نہ خان لطیف خان رہے‘ نہ وقارالدین نہ ہی سالار ملت۔ جواں نسل کو عملی سیاست اور صحافت کو ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے اپنی قوم و ملت کی رہنمائی کرنی ہوگی۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی کی لاکھ مخالفت سہی‘ ان کی صلاحیتوں سے انکار ان کا بدترین دشمن بھی نہیں کرسکتا۔ یہ One Man Army ہیں۔ ”ایک اکیلا 100 پر بھاری“کتنے نیشنل ٹی وی چینلس نے کس کس طریقے سے کیسی کیسی دیوقامت سیاسی ہستیوں کے ساتھ ان کے مقابلے کروائے۔ اسد اویسی ہر مقابلے میں اپنے حریف پر حاوی رہے۔ چاہے وہ سبرامنیم سوامی ہو یا کوئی اور۔ پاترا وغیرہ کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ غیر معمولی مطالعہ اردو اور انگریزی میں ولولہ انگیز مگر مدلل خطابت کی خداداد صلاحیت‘ کسی سے مرعوب نہ ہونے کی صفت نے اسد اویسی کو ہندوستانی مسلمانوں کا ایک ایسا رہنما بنادیا جسے چیالنج کرنے کے لئے دو ر دور تک کوئی اور مسلم لیڈر نظر نہیں آتا۔ بعض قائدین اپنے اپنے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں‘ مگر قومی سطح پر انہیں کوئی نہیں جانتا۔ بہترین اردو بولتے ہیں مگر انگریزی سے نابلد۔مذہبی معاملات غیر معمولی ہوں گی مگر دستور ِہند اور دیگر قانونی امور سے بالکل ناواقف۔ اس کے برعکس اسد اویسی کسی بھی موضوع پر اپنے بات کو منوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں بی جے پی یا کسی اور جماعت کا ایجنٹ یا دلال کہنا آسان ہے‘ ثابت کرنا آسان نہیں۔ کیوں کہ جہاں جہاں ایسے الزامات عائد کئے گئے اسد اویسی نے تاریخ اور اعداد و شمار کے حوالے سے یہ ثابت کیا کہ جب وہ مقابلہ میں نہیں تھے تب بھی بی جے پی طاقتور تھی‘ رہی بات سیکولر جماعتوں کے نام نہاد سیکولرزم کی تو ہندوستان میں کوئی بھی جماعت سیکولر نہیں ہے۔ اور سیکولرزم سے بڑا فراڈ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ عیدین کے موقع پر گلے میں رومال ڈال لینے یا سر پر ٹوپی پہن لینے سے کوئی سیکولر نہیں بن جاتا اور نہ ہی مسلمانوں سے متعلق کسی کا نظریہ بدل سکتا ہے۔ سیکولر تو وہ ہے چاہے وہ اپنے ماتھے پر کتنا بھی بڑا تلک لگائے اپنے لباس وضع قطع سے کتنا ہی کٹر کیوں نہ نظر آئے اس میں دوسرے مذہب سے نفرت نہ ہو۔آج تو ہر جماعت ایک دوسرے سے مقابلہ کررہی ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ زیادہ ہندوتوا نظریات کو فروغ دینے کے اہل ہیں۔ ورنہ بدھ مت ا ختیار کرنے والی پرینکا گاندھی کو مندروں کے درشن کی ضرورت نہ پڑتی۔ ایک دور تھا ملائم سنگھ کو مولانا ملائم سنگھ او ررفیق ملت کہا جاتاتھا اور اکھلیش یادو کو مسلمانوں کا ہمدرد۔ مگر 2012ء کے مظفر نگر کے فسادات انہی کے دور میں ہوئے جہاں 62میں سے 42مسلمان قتل ہوئے۔ 50ہزار سے زائد اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جابسنے کے لئے مجبور ہوئے۔ گجرات، بھاگلپور جیسے واقعات پیش آئے۔ کتنے گناہ گاروں کو قانون کے شکنجے میں کسا گیا؟ آج بھی لوگ آزاد پھر رہے ہیں۔بی جے پی ایم ایل اے وکرم سائنی اور اس کے ساتھی کمزور گواہوں کی وجہ سے رہا ہوگئے۔جبکہ سابق مسلم وزیر سعیدالزماں،ایم ایل اے قدیر رعنا اور مولانا جمیل کے خلاف مقدمہ دائر ہوئے۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی، بی ایس پی نے بی جے پی کا خوف دلاکر مسلمانوں کا سیاسی استحصال کیا۔ بی جے پی تو کھلی دشمن ہے۔نام نہاد جماعتیں سیکولرزم کے نقاب اوڑھے چھپ کر وار کرتی ہے۔ بی جے پی کھل کر وار کرتی ہے۔ دہلی میں کیجریوال جیسا تعلیم یافتہ، مہذب چیف منسٹر ہیں مگر دہلی کے فسادات میں کون تباہ ہوئے‘ کون آزاد رہے۔ ممتابنرجی مسلمانوں کے طفیل اقتدار پر آئیں۔ مگر بنگال کے مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت کیا ہے۔ وہاں کے عوام سے پوچھا جائے تو حقیقت معلوم ہوگی۔ اسداویسی ایک طاقت کے طور پر ابھرے ہیں۔ انکے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کم از کم موجودہ حالات سے آپ کو کڑھن، کوفت ہوتی ہے اس کی بھڑاس اسد اویسی کی تقاریر سے نکل جاتی ہے۔ اسد اویسی نے دل کی گہرائیوں سے الزام تراشی کرنے و الو ں کو اللہ کی عدالت میں گھسیٹا ہے کم از کم اب تو غیر ضروری تبصرے اور الزامات سے خود کو روکنے کی ضرورت ہے، ورنہ…