دی کشمیر فائلس کن لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے؟- رشبھ دوبے

کشمیر فائلز کو دیکھتے ہوئے مجھے میتھیو کاسووتز کی فلم La Haine کا ایک ڈائیلاگ بار بار یاد آرہا تھا:

Hate Breeds Hate

خیر، میں ہر کہانی کو اسکرین پر اتارنے کا حامی ہوں۔ اگر کہانی سفاک ہے، تو اسے ویسا ہی دکھایا جانا چاہیے۔ جب ٹرنٹینو اور گیسپرنوے افسانے میں اتنے سفاک  مناظر پیش کر سکتے ہیں، تو حقیقی کہانیوں پر مبنی فلموں میں ایسی سینماٹوگرافی سے گریز کیوں کرنا؟ اور ویسے بھی تمام سفاک  کہانیاں پوری عریانیت کے ساتھ ماضی میں  بھی سنیما کے ذریعے دنیا کو سنائی اور دکھائی جاتی رہی ہیں۔

رومن پولانسکی کی "The Pianist” ایسی ہی ایک فلم ہے۔ جلیانوالہ باغ کے قتل عام کی بربریت کو شوجیت سرکار کی فلم ’’سردار اودھم‘‘ میں پوری صداقت کے ساتھ فلمایا گیا ہے؛ لیکن یہ کیا ہے کہ پولانسکی کی "دی پیانوسٹ” دیکھنے کے بعد آپ جرمنی کے غیر یہودیوں کے خلاف متشددانہ جذبات سے نہیں بھرتے؟ اور شوجیت سرکار کی "سردار اودھم” دیکھنے کے بعد آپ ہر انگریز کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے؛ لیکن کشمیر فائلس دیکھنے کے بعد آپ کو مسلمان وحشی اور دہشت گرد نظر آنے لگتا ہے۔ ایسا کیوں؟

مجھے اس "کیوں” کا جواب اس جملے میں نظر آتا ہے: "کہانی سنانے کا طریقہ”۔

 

 

اچھے فلم ساز اپنی بات کہنے کے انداز پر توجہ دیتے ہیں۔ کہانی کے ساتھ پوری ایمان داری برتتے ہوئے اپنی ذمے داری کو نہیں بھولتے۔

چلیے میں بات صاف کردیتا ہوں۔ جیسے لنکن نے جمہوریت کی ایک آفاقی تعریف پیش کی تھی "عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے”۔ اسی طرح کی کوئی تعریف وویک اگنی ہوتری کی  اس فلم کے لیے بھی طے کی جا سکتی ہے، جیسے "ایک خاص طبقے کی طرف سے ، ایک خاص طبقے کے لیے اور ایک خاص طبقے کے خلاف”۔

آپ خود سوچیں کہ پوری 170 منٹ کی فلم میں کسی بھی لبرل مسلم کردار کی اسکرین پر ایک آدھ منٹ کی بھی موجودگی نہیں ہے، پوری طرح صفر!

مسلمان خواتین سے لے کر مسجد کے امام تک سبھی کو ولن قرار دیا گیا؛ لیکن اس طبقے کے کسی فرد کو بھی سفید شیڈ میں دکھانے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کہیں گے کہ جب سفید شیڈ میں کوئی تھا ہی نہیں، تو کیسے دکھادیتے؟ میں کہوں گا کہ بکواس بند کریے۔

کیونکہ اسی ہجرت کے وقت کشمیر کی مسلم سیاسی شخصیات سے لے کر مسلم مذہبی رہنماؤں تک کا قتل اس الزام کا جواب ہے کہ وہ لوگ ان مظلوم کشمیری پنڈتوں کے لیے بات کرتے تھے اور دہشت گردی کے خلاف کھڑے تھے۔

لیکن انہیں سکرین پر دکھانے سے آپ کا بیانیہ ہلکا ہو سکتا ہے اور ایسا نہیں ہونے دینا تھا؛ کیونکہ جتنا زیادہ خون اُبلتا ہے، اتنا ہی اچھا، گالی جتنی بھدی نکلے، اتنی اچھی ،نعرہ جتنا تیز گونجے ، اتنا بڑھیا، ووٹ جتنے زیادہ  ملیں ،اتنا بہتر،ہے نا؟

فلم آگے بڑھتی ہے اور ایک کے بعد ایک پروپیگنڈہ سامنے آتا ہے:

سیلولر اصل میں سکیولر ہیں،یعنی بیمار ہیں۔

’’سنگھ واد سے آزادی، منوواد سے آزادی‘‘ جیسے نعرے بلند کرنا ملک سے غداری ہے۔

کشمیر میں خواتین اور عام لوگوں کے ساتھ جو کچھ بھی غلط ہوتا ہے، وہ فوجی وردی پہن کر وہاں کے عسکریت پسند کرتے ہیں؛ تاکہ فوج کو بدنام کیا جا سکے۔

کوئی مسلمان آپ کے لیے چاہے کتنا ہی خاص کیوں نہ ہو، وقت آنے پر وہ اپنے مذہب ہی کی سائڈ لے گاوغیرہ وغیرہ۔

 

 

لیکن ان سب کے باوجود میں آپ سے کہوں گا کہ اس فلم کو تھیٹر میں جا کر دیکھیے؛ تاکہ آپ فلم کے ساتھ ساتھ فلم کا اثر بھی دیکھ سکیں؛ تاکہ آپ اپنے پیچھے بیٹھے لوگوں کے منھ سے  کانگریس کی ماں بہن کو گالیاں دیتے ہوئے سن سکیں اور اپنے آپ کو یہ بتانے سے ڈریں کہ اُس وقت مرکز میں بی جے پی کی حمایت یافتہ جنتا دل کی حکومت تھی، کانگریس کی نہیں؛ تاکہ آپ کو بے وجہ سنیما ہال جے شری رام کے نعروں سے گونجتا ہوا سنائی دے؛ تاکہ آپ ہدایت کار کے ذریعے ایک تصویر کو جھوٹے اور مضحکہ خیز انداز میں پیش کرتے ہوئے دیکھ سکیں اور اس کے ساتھ والے شخص سے اس تصویر میں موجود عورت کے لیے "رکھیل” جیسے الفاظ سن سکیں؛ تاکہ فلم ختم ہونے کے بعد باہر نکلنے والی خواتین کو یہ کہتے ہوئے پائیں کہ "کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو کھل کر بول بھی نہیں سکتے” اور مردوں کو یہ بڑبڑاتے ہوئے سنیں کہ "ہندوؤں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے، ورنہ یہ سالے ہمیں بھی کاٹ دیں گے”۔

یہ فلم ایسے ہی لوگوں کے لیے اور جوغیر جانب دار ہیں،انھیں ان جیسا بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

 

ترجمہ:نایاب حسن

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*