عدمِ رواداری اِس ملک کو کہاں تک لے جائے گی؟-صفدرا مام قادری

شعبۂ اردو، کا لج آف کا مرس ،آرٹس اینڈ سائنس ،پٹنہ
کچھ دنوں پہلے الٰہ آباد یو نی ور سٹی کی وائس چانسلر محترمہ کو مسجد سے اذان کی آواز ملنے سے نیند میں خلل اور عمومی تکلّفاتِ زندگی میں پریشانیاں پیداہوئیں، اُنھوں نے باضابطہ تھانے دار کی مدد سے مسجدپر نوٹس کرائی اور مائک سے اذان دینے پر رُوک لگوانے میں اُنھیں کامیابی حاصل ہوئی۔وائس چانسلر محترمہ کے تدریسی تجربے پر حالاں کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے مگر یہ بات سب کو یادرہنی چاہیے کہ اُن کے شوہر گجرات کی عدالتِ عالیہ سے متعلق رہے ہیں جہاں وزیرِ داخلہ کے مقدمات زیرِ سماعت تھے ۔الٰہ آباد کی دیکھا دیکھی ملک کے ہر گوشے میں ایسے سوال قایم کیے جا رہے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور اُس سے متعلق الگ الگ ناموں سے ہزاروں تنظیمیں اِس بہانے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہی ہیں۔مقصد شاید وہی ایک ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کی تذلیل کا کوئی نہ کوئی موقع تلاش کیا جانا چاہیے اور کسی بھی بہانے اُنھیں احساس کمتری میں مبتلا رکھنے کی کوشش ہوتی رہنی چاہیے۔
سوال اگر مائک کا استعمال،صوتی آلودگی وغیرہ سے متعلق ہے تو ہندستان کی ماحولیاتی صورتِ حال کے پیشِ نظر اِسے معقول قرار دیا جانا چاہیے مگر اتنی بڑی حکومت ہے تو اُسے اِس پر عمل در آمد سے پہلے کچھ اعداد و شمار جمع کر لینا ضروری تھا۔مندر، مٹھ اور الگ الگ مواقع سے ہونے والے کیرتن اور اشٹ جام، اکھنڈ پاٹھ جیسے مواقع جو ملک میں ہزاروں جگہوں پر روزانہ آتے رہتے ہیں؛ اِن سے کتنی صوتی آلودگی ہوتی ہے، اِس کا جائزہ لیا جاناضروری ہے۔ہندستان میں شادیات بالخصوص اکثریت آبادی کے خاندانوں کی شادیوں میں ڈھولک ،باجا اور ڈی جے سے جو شور مچتا ہے،سڑکوں پر معمولاتِ زندگی میں خلل پڑتا ہے اورتہذیب و ثقافت کی جو دھجّیاں اُڑائی جاتی ہیں، اُن کے بارے میں آخر غور و فکر کیوں نہیں کیا جاتا کہ اِن سے کتنی صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔سیاسی مٹنگیں، بڑے بڑے جلسے جلوس اور مکھیا سے لے کر وزیرِ اعظم تک کی فتح یابی کے موقعے سے جس طرح لاؤڈ اسپیکر، باجے گاجے اور ڈی جے ، آرکیسٹرا کی دھوم مچائی جاتی ہے، اِن مواقع کی صوتی آلودگی کی اگر جانچ کر لی جائے تو ہماری آنکھیں کھُل جائیں۔ اِن سب کے ساتھ اگر ہندستان بھر کی مسجدوں میں دی جانے والی پانچ وقت کی اذانوں سے جتنی صوتی آلودگی ہوتی ہے، اُس کا مقابلہ کر لیا جائے تو شاید سب سے کم آلودگی کا ذریعہ اذان ہی ثابت ہوگی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کہیں ایک منٹ، کہیں دو منٹ اور کہیں تین منٹ میں یہ اذان اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے۔ لاکھوں مسجدوں میں اب بھی لا ؤڈ اسپیکر نہیں ہیں۔بہت ساری جگہ بجلی کے نہیں رہنے سے اذان بغیر مائک کے ہی دے دی جاتی ہے۔کچھ جگہوں پر ہمارے مؤذن حضرات کچھ اتنی عجلت میں ہوتے ہیں کہ ایک منٹ سے کم میں ہی اُن کی اذان مکمل ہو جاتی ہے۔ایسے میں ان اذانوں سے کتنی آلودگی ہو سکتی ہے،ہم سب اندازہ کر سکتے ہیں۔

 

 

جدید ترقیات سے ٹھیک پہلے جب دیہی نظام سے ہندستان پھل پھول رہا تھا،اذان کی آواز سے مسلمان ہی نہیں ہندو قوم بھی اپنے وقت کا تعیّن کر لیتی تھی۔ فجر کی اذان سے بستر سے اُٹھ جانا ہے، عصر کی اذان سے بازار کے لیے نکل جانا ہے اور مغرب کی اذان کے بعد واپس گھروں میں آ جاناہے۔ہر گھر میں گھڑی نہیں ہوتی تھی اور موبایل میں وقت تلاش کرنے کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔یہ اصلی ہندستان تھا جہاں مسجد سے اذان ہو اور رام اور رحیم دونوں اپنے اپنے کاموں کے لیے تیّار ہونے لگتے تھے۔ اِسی لیے ہزاروں سال بیت جانے کے بعد کبھی کسی غیر مسلم ہندستانی نے اِس اذان پر اعتراض نہیں کیا۔اذان کے عربی الفاظ کے معنی پر اگربرادرانِ وطن یا نام نہاد فرقہ پرست غور کر لیتے تو یہ بات اُن کی سمجھ میں آ سکتی تھی کہ یہ ایمان اور اعتقاد کے ساتھ خدا کی بڑائی اور عظمت کے بیان کے بعدبھلائی کے راستے کی طرف بلانے کی ایک مہم بھی ہے۔’حی علی الفلاح‘ ۔اِس سے کس مذہب اور انسان کی لڑائی ہو سکتی ہے۔
آج سے پچیس تیس برس پہلے کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ راج دھانی اکسپریس کلکتہ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئی اور بہار کے مخدوم پور(گیا) علاقے سے گزرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئی اور ندی پر بنے پُل کے ٹوٹ جانے سے ٹرین کا بڑا حصّہ ندی میں اُتر گیا۔پولس اور انتظامیہ سے اچھی خاصی دوری پر وہ جگہ واقع ہے۔ اندھیری رات میں تقریباً تین بجے یہ واقعہ پیش آیا۔جائے وقوع سے قریب ایک مسجد تھی جہاں سے اختتامِ سحری کا اعلان ہو رہا تھا۔ جیسے ہی گانومیں یہ خبر پہنچی کہ ریل حادثہ ہو چکا ہے، مسجد میں مؤذن صاحب نے اُسی مائک سے اعلان کیا کہ فلاں مقام پر ریل کا حادثہ ہوا ہے۔لوگ بڑی تعداد میں جا کر متاثرین کی مدد کریں۔اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انتظامیہ کے پہنچنے سے کئی گھنٹے پہلے مقامی افراد وہاں پہنچ گئے اور ٹرین سے یا ندی میں ڈوبے ہوئے افراد کو جلدی جلدی نکال پانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔بعد میں ضلع انتظامیہ اور ریل کے افسران نے بھی یہ مانا کہ جتنا بڑا حادثہ تھا، اُس کے مقابلے بہت کم لوگوں کی جانیں گئیں۔مقامی لوگوں کے بر وقت پہنچ جانے سے یہ ممکن ہو سکا۔ اُس دن لوگوں کو مؤذن کی ہوش مندی اور سماجی بیداری کے شعور کا اندازہ ہوا۔ آئے دن چھوٹی جگہوں میںبچوں کے بھولنے ، کسی کی موت ہو جانے یا اِسی طرح کسی خاص موقعے کے اطلاع مسجد کے اُسی مائک سے عوام و خواص کو دی جاتی ہے جو دوسروں کی نظر میں صوتی آلودگی پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ کہیں فساد ہو جائے، کہیں وبا کی زَد میں سماج آ جائے،زلزلہ اور سیلاب ، آگ زنی جیسی ہزاورں واردات میںچندا اکٹھا کرنے سے لے کر متاثرین کی مدد کرنے کے کاموں تک ہر جگہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا عوامی انتظام و انصرام میں استعمال ہوتا ہے۔ کورونا کے پہلے دَور میں جب مہینوں تک حکومت کے غیر دانش مندانہ اقدام کے سبب لوگ سڑک پر پیدل چلتے ہوئے ہزراوں کیلو میٹر کا سفر مرتے جیتے کر رہے تھے، اُ ن سے پوچھیے کہ راستے میں کتنی مسجدوں سے مائک پر یہ اعلان ہورہاتھاکہ یہاں کھانے کا انتظام ہے، چند منٹ رُک کر آپ کھا لیں پھر آگے سفر کے لیے جائیں۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اُس دَور میں اور کتنی مذہبی تنظیمیں اِس سلیقے سے اپنے اداروں کا استعمال کر پائیں؟
ابھی ایک یوگی مہاراج نے دہلی کی بد امنی اور ملک کی عدم ترقی کے پیچھے سبب یہ بتایا کہ دہلی کا نام غلط ہے اور اِسے بدلا جانا چاہیے۔ اِس کا حقیقی نام اندر پرست ہے اور جیسے ہی نام بدل کر ہندستان کے مرکز کو اندر پرست کیا جائے گاتو اِندر مہربان ہوں گے۔اُن کی وجہ سے بارش اور خوش حالی آئے گی اور پھر پورا ہندستان ہرا بھرا اور خوش گوار موسموں کا دیش ہو جائے گا۔وہ سادھو جی دہلی کے وزیرِ اعلا اروند کجریوال اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی خدمت میں یہ عرض داشت پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔یہ اک ایسا فارمولا ہے جس سے نہ کسی پلانگ کمیشن کی ضرورت پڑے گی اور نہ پارلیمنٹ اور بڑے بڑے منصوبوں کا کام ہوگا۔بس دہلی کا نام بدلیے اور خوش حالی اپنے آپ بھگوان اندر کی مہربانی سے چلی آئے گی۔ ہر شہر اور ہر صوبے کا نام اسی طرح بدلتے جائیے اور ہر جگہ ہریالی، روشنی اور ترقی نظر آنے لگے گی۔اِس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔پرانے مغل سرائے اور پرانے الٰہ آباد میں تین چار برسوں میں آخر کیا بدل گیا۔ بنارس، وارانسی اور کاشی تین تین ناموں کو اب تک چلانے کی کون سی مجبوری رہی۔اِن سے کیا بن گیا اور کیا بگڑ گیا؟

 

 

حجاب کے سوال پر تو ہائی کورٹ بھی ایک فریق کی طرح سامنے آ گیا۔اُسے ناگا سادھوؤں کے ڈریس کوڈ میں کوئی قابلِ اعتراض بات نظر نہیں آئی۔ وہاں اُسے مداخلت کرنے کی بات یا د نہ رہی۔حجاب کا استعمال اور اُس سے انحراف دونوں میں حقیقت سے زیادہ سیاسی کھیل مضمر ہے۔مجھے یورپ کے سفر میں سومیں ایک آدھ خاتون حجاب یا نقاب میں ملبوث نظر آ جاتی تھیں۔ایفل ٹاور کے میدان میں وضو کر کے نماز پڑھتے ہوئے میں نے پورے خاندان کو دیکھا۔روم کی مسجد سے اذان کی آواز سنی۔ میٹرو میں چلتے ہوئے بھی کوئی نہ کوئی خاتون نقاب یا حجاب میں ملبوث نظر آ جاتی تھی۔ نہ اُس خاتون کو دوسروں سے الگ ہوتے ہوئے پایا اور نہ ایسا محسوس ہوا کہ وہ قوم اُسے عجوبۂ روزگار سمجھ رہی ہے۔ترکی سے آئے ہوئے ایک کلچرل گروپ کومنچ پر جدید عہد کے پروگرام کرتے ہوئے بھی دیکھا اور پھر اُن خواتین کو با جماعت نماز پڑھتے بھی ملاحظہ کیا۔اسلام نئی دنیا میں اپنے لیے ایک با وقار جگہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔جدید تعلیم اور تکنیکی ترقی میں بھی دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلمان اپنی کار کر دگی سے نئی دنیا گڑھ رہے ہیں۔یورپ ہی نہیں عرب ممالک بھی اپنی دولت کو نئی تعلیم اور جدید کاری میں صرف کر رہے ہیں۔
مگر افسوس کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں جمہوری تقاضوں کا ہی گلا گھونٹنا ہمارا پہلا کام ہو گیا ہے۔آئین روادارانہ انداز میں ملک کو چلانے کی گارنٹی دیتا ہے۔ مگر حکومت اور اُس کی شہ پر الگ الگ ناموں کی تختیاں لیے ہوئے ایسی تنظیمیں کھڑی ہو گئی ہیں جن کا ہندستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت پر کوئی اعتبار نہیں۔سیاسی ادارے اِسی طرح سماجی اقدار کو ملیا میٹ کر دیتے ہیں۔شاید یہ خام خیالی ہو کہ اِس ملک کی بیس پچیس کروڑ اقلیت آبادی کے حقوق کو تلف کیا جانا ہندو راشٹر کے لیے ضروری ہے مگر ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اِس تعمیر میں ایک خرابی کی صورت بھی شامل ہے اور ملک میں بکھراو کا عالَم پیدا ہو جائے گا۔ کاش ایسے سیاست داں اور اُن کے اشارے پر چلنے والی تنظیموں کو ہوش آ جائے۔