وہاٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی بھارتی آئی ٹی قانون کے مطابق نہیں،مرکزی حکومت کا عدالت میں جواب

نئی دہلی:مرکزنے پیر کو دہلی ہائی کورٹ کو بتایاہے کہ وہ وہاٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کو انڈین انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ اور قواعد کی خلاف ورزی دیکھتا ہے ، لہٰذا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو واضح کرنے کی ہدایت کی جائے۔مرکزی حکومت نے یہ دعویٰ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ کے بنچ کے سامنے کیا۔ بینچ متعدد درخواستوں کی سماعت کررہا ہے جو وہاٹس ایپ کی نئی رازداری کی پالیسی کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مطابق ، ان کی یہ پالیسی 15 مئی کو نافذ ہوئی تھی اور اسے ملتوی نہیں کیا گیا ہے۔ وہاٹس ایپ نے بنچ کو بتایا کہ اس کی رازداری کی پالیسی 15 مئی سے نافذ العمل ہے اوراس نے صارفین کے اکاؤنٹ کو حذف کرنا شروع نہیں کیا ہے اور وہ اس کو قبول کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرے گا۔انہوں نے کہاہے کہ اس میں کوئی ٹائم فریم نہیں ہے جس کے بعد وہ اکاؤنٹس کو حذف کرنا شروع کردیں گے بلکہ ہر صارف کے ساتھ کیس بیس کیس کی بنیاد پر نمٹا جائے گا۔بنچ نے مرکزی حکومت اور دونوں سوشل میڈیا فورمز (فیس بک اور وہاٹس ایپ) کونوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ان ایک درخواست پر اپنا موقف واضح کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں درخواست گزار ایک وکیل نے دعویٰ کیاہے کہ آئین کے تحت نئی رازداری کی پالیسی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔مرکز نے کہاہے کہ یہ پالیسی بھارتی آئی ٹی قوانین اور ضوابط کے منافی ہے ، لہٰذا اس نے اس موضوع پر فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو ایک خط لکھا ہے اور جواب کی منتظر ہے ، لہٰذا اس پالیسی کے نفاذ کے سلسلے میں جمود کوبرقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ وہاٹس ایپ نے بنچ کوبتایاہے کہ اس کی پالیسی بھارتی آئی ٹی قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہے اور یہ پالیسی 15 مئی سے نافذ العمل ہے اور وہ اکاؤنٹ کو حذف نہیں کررہی ہے۔اب اس معاملے پر مزید 3 جون کو سماعت ہوگی۔