واٹس ایپ گروپ ایڈمن کسی ممبر کی قابل اعتراض پوسٹ کا ذمہ دار نہیں :ہائی کورٹ

ممبئی:بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ نے کہا ہے کہ واٹس ایپ گروپ کے آپریٹر کے خلاف گروپ کے کسی اور ممبر کے ذریعہ کی جانے والی قابل اعتراض پوسٹ پر قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے 33 سالہ شخص کے خلاف دائرجنسی زیادتی کا مقدمہ بھی خارج کردیا۔یہ آرڈر گزشتہ ماہ جاری کیا گیا تھا اور اس کی کاپی 22 اپریل کو دستیاب ہوگئی۔جسٹس زیڈ اے حق اور جسٹس اے بی بورکر کی بنچ نے کہاہے کہ واٹس ایپ کے منتظمین کوصرف گروپ کے ممبروں کوشامل کرنے یا ان کو ختم کرنے کا حق حاصل ہے اور وہ گروپ میں ڈالے جانے والے کسی بھی عہدے یا مواد کو کنٹرول یاروکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔عدالت نے یہ حکم واٹس ایپ گروپ کے آپریٹر درخواست گزار کشور ٹارون (33) کی طرف سے دائر درخواست پر سنایا۔ٹارون نے اپنے خلاف سن 2016 میں گونڈیا ضلع میں دفعہ 354-اے (1) (4) (فحش ریمارکس) ، 509 اور ہندوستانی تعزیراتی ضابطہ کی دفعہ 67 کے تحت ایک مقدمہ درج کیاہے۔استغاثہ کے مطابق ٹارون اپنے واٹس ایپ گروپ کے کسی ممبر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا جس نے اس گروپ میں شامل ایک خاتون ممبر کے خلاف فحش اور غیر مہذبانہ تبصرے کیے تھے۔بنچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اس کیس کا جوہر یہ ہے کہ کیا کسی گروپ کے ممبر کے ذریعہ کی جانے والی قابل اعتراض پوسٹ پر واٹس ایپ گروپ کے آپریٹر کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ہائیکورٹ نے ٹارون کے خلاف درج ایف آئی آر اور اس کے بعد دائر چارج شیٹ کو خارج کردیاہے۔