آنے والے انتخابات میں مسلمان کیا کریں؟ ـ زین شمسی

ابھی اردو فیس بک پر ہیرو بننا ہے تو صرف لکھ دیجیے۔ یوگی تو گیاـ
اس سے بھی کام نہ چلے تو پھر لکھیےکہ اویسی یوگی کو جتا رہے گاـ
جتنا چاہئے تبصرہ بٹوریے اور جتنا چاہیے لائکس سمیٹیے، کھلا آفر ہے، دیر مت کیجیےـ
انتخاب کے موسم کے اس پسندیدہ کھیل میں ادبی اور مذہبی لوگ بھی خوب مزہ لیتے ہیں۔
الیکشن ختم ہوجانے کے بعد پھریہی بحث کہ کوئی امیدوار اپنی وجہ سے نہیں بلکہ دوسروں کی وجہ سے ہارا اوردوسرا کیا بس مسلمانوں کی وجہ سے ہارا، اوربس تجزیہ نگاری کا خاتمہ، فرض منصبی مکمل
سیاسی طور پر یہ سوچ غلط بھی نہیں ہے، سمجھ بھی بالکل ٹھیک ہے، مگر ہندوستان کی سماجی پیچیدگیوں سے ناواقفیت اس کی اصل وجہ ہے۔ ہم یہ سوچ بیٹھے ہیں کہ آزادی کے بعدبھارت کاانصاف پسند غیر مسلم طبقہ ہر طرح سے ہمارا ساتھ دیتا رہے گا، خواہ ہم کچھ بھی کریں۔ غلطی یہیں پر ہے۔ وہ انصاف پسند طبقہ بھی ہماری سرگرمیوں پر نظر رکھ رہا ہے کہ ہم کتنا ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب انہیں ہماری ضرورت پڑتی ہے تو ہم خاموش رہتے ہیں اور مسکراتے ہیں کہ لڑنے دو، ہمارا کیا۔ ایوارڈ واپسی ہو یاکسان و مزدور کا احتجاج یا پھر بے روزگاری یا مہنگائی کے خلاف جلوس و جلسہ ہماری کمی ان لوگوں کو کھلتی ہے۔سماجی خدمات میں ہم پھسڈی ثابت ہو چکے ہیں۔ اسی لئے ہمیں یہ بھی سننا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی تعمیر میں مسلمانوں کا کیا رول ہے۔ کس شعبہ میں ان کی کارکردگی بہتر ہے۔ سماجی طور پر ہم اتنے سمٹ چکے ہیں کہ شہر کے نالے پر بنی بستیاں ہامری شناخت ہیں۔سرکاری اسکیمیں اور منصوبے ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ ہم صرف تحفظ اور مذہبی آزادی کو ہی ہندوستان کا مین اسٹریم سمجھ بیٹھے ہیں۔ ایسی حالت میں دشمنان اسلام نے تو ہمیں پرکھ ہی لیا ہے دوست بھی کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔
سیاسی طور پر ہم نے یادو، دلت، برہمن اور نہ جانے کن کن لوگوں کو کرسیاں سونپ دیں اور خالی ہاتھ رہے اور اتنے رہے کہ اب توعادت ہی بن گئی۔جب بھی الیکشن آتے ہیں اس بات کی فکر رہتی ہے کہ بی جے پی کو ہرانا ہے، اس بات کی فکر کبھی نہیں رہتی کہ ہمیں کسے جانا ہے تاکہ سماجی طور پر ہم بھی جیت جائیں۔ ابھی یو پی میں اکھلیش کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اچھی بات ہے، ایسا گمان ہے کہ وہ یوگی کو ٹکر دے گا۔ ایسا اس لئے کہ ان کے جلسوں میں بھیڑ ہو رہی ہے، بی جے پی کے وہ رہنما جو مسلمانوں کو منہ بھر بھر کر گالیاں دیتے تھے اکھلیش سے مل رہے ہیں۔کیا الیکشن جیتنے کے لئے اتنا کافی ہیں۔ اکھلیش کا ایک مسلمان لیڈر اسپتالوں اور جیلوں میں بند رہا اس کے لئے اکھلیش نے کیا کیا، یہ سب سوچنا بند کر دیا گیا۔ یہ بھی سوچنا بند کر دیا گیا کہ اکھلیش نے مظفر نگر فسادات کو ایک ماہ تک جاری رکھا۔ یہ بھی نہیں سوچنا ہے کہ بے قصوروں کی جیل سے رہائی کے بعد بھی اکھلیش حکومت نے انہیں جیل بھجوایا۔ یہ تو سوچنا ہی نہیں ہے کہ اکھلیش کے ہاتھ میں یوپی دے دینے کے بعد وہاں کے یادووں کا مسلمانوں کے ساتھ کتنا بڑھیا سلوک ہونے والا ہے۔اسے صرف اس لئے جتانا ہے کہ وہ یوگی کو ہرا دے گا اور چونکہ یوگی نے واضح کر دیا ہے کہ ہمیں بیس فیصد کا ووٹ لینا ہی نہیں ہے، ہمیں 80فیصد کا ووٹ لینا ہے، تو ان کے 80فیصد میں یادو بھی ضرور ہوں گے، جیسے بہار میں تیجسوی کو جتانے کے لئے مسلمانوں کا سو فیصد ووٹ تھا اور یادووں نے ہی اسے ہرا دیا تھا۔
دراصل ہم یوگی کے لئے 20فیصد ہیں، لیکن دیگر کے لئے 100فیصد ہیں، لیکن یہ 100فیصد اپنی سیاسی ناسمجھی کی وجہ سے 20فیصد بھی نہیں رہ پاتے۔پھر سوال اٹھتا ہے کہ آخر مسلمان کرے تو کیا کرے۔
کیا وہ اویسی کے پیچھے جائے گا تو ہندوستان کے کسی کونے میں سمٹ جائے گا، سماج وادی کے ساتھ جائے گا تو اس کی اہمیت کیا ہوگی، مایاوتی کے ساتھ جا چکا ہے، لیکن اس سے انہیں کچھ نہیں ملا۔ کانگریس کو تو وہ منھ بھر کر گالیاں ہی دیتا ہے کہ اسی نے ہماری یہ حالت کر دی ہے۔تو آخر مسلمان کرے تو کیا کرے۔
اب میں یہاں سے وہ بات لکھنا چاہتا ہوں جس کے لئے میں نے کہا تھا کہ آپ کو میری بات بالکل پسند نہیں آئے گی۔
پاکستان بننے کے بعد جب ہم یہاں رکے، یا یوں کہیے کہ ہمیں روکا گیا یہ کہہ کر بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور مسلمان اپنے شریعہ کے ساتھ یہاں رہ سکتا ہے، یہ بات کہنے والا نہ ہی سماج وادی تھا اور نہ ہی بہوجن سماج تھا اور نہ ہی راشٹریہ جنتا دل تھا اور نہ ہی ترنمول کانگریس تھا، کیونکہ اس وقت ان سب کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ اس وقت ایک ہی پارٹی تھی اور وہ تھی کانگریس۔ نہرو کے حیات تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا، انہوں نے جو وعدہ کیا تھا وہ نبھایا بھی تھا۔ اس کے بعد کچھ کانگریس پیچھے ہٹی، کچھ مسلمان پیچھے ہٹے اور بکھرتے گئے۔ کچھ سماج وادی آندولن کی طرف بڑھ گئے اور کچھ کمیونسٹ اور دیگر علاقائی پارٹیوں سے چمٹ گئے۔ بابری مسجدکے انہدام تک مسلمان تقریباً کانگریس کو چھوڑ چکے تھے۔ بابری مسجد کی شہادت کا انتقام مسلمانوں نے کانگریس سے لے لیا کہ آج وہ خود اپنی شناخت بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس کے بعد جب واجپئی سرکار آئی اور پھر کانگریس کی متحدہ سرکار تو بھارت کی صورتحال بالکل بدل چکی تھی۔ مسلمانوں کو ایک نیا دشمن مل گیا تھا اور اس دشمنی میں وہ تیرے میرے کو پکڑتے چلے گئے۔
سچ تو یہ ہے کہ کانگریس کے خاتمے کے بعد سے ہی مسلمانوں کی سیاسی ذلالت کی شروعات ہوتی ہے۔ یہ بحث بھی میں کر سکتا ہوں کہ کانگریس نے مسلمانوں کو کیا دیا اور یہ بھی کہ مسلمانوں نے کانگریس کوکیا دیا، لیکن اس پر بحث پھر کبھی۔میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ جس وجہ سے مسلمانوں نے کانگریس کو چھوڑا وہ وجہ اب ختم ہو چکی ہے۔ آج 7سال سے اگر کوئی سیاست داں انصاف کی بات کر رہا اور مسلمانوں پر آئی آفت سے نمٹ رہا ہے تو وہ وہ ہے جسے وہاٹس ایپ اور بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے پپو قرار دیا اور آپ بھی اسے مان بیٹھے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ہی مسلمانوں کو وہ رتبہ دلا سکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ یوں بھی مسلمان پان انڈین کمیونٹی ہیں، کسی ایک خطے میں رہائش پذیر نہیں ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسے کانگریس۔ دونوں ایک ہی درد جھیل رہے ہیں۔ کانگریس کی قربانیاں اور مسلمانوں کی قربانیاں بھارت کو بنانے میں صرف ہوئی ہیں۔اور یہی دونوں ایک بار پھر سے بھارت کو بنا اور سجا سکتے ہیں۔ مانئے یا نہ مانئے۔ جب کھیل ہی کھیلنا ہے تو قومی پارٹی کے ساتھ کھیلئے، یہ کیاچھوٹے موٹے مہرے پر داؤ لگا بیٹھے ہیں۔ ٓٓ