ہم اردو کی روٹی کھانے والے- مفتی تنویر خالد قاسمی

’’ارے بھائی آپ فون ریسیو کیوں نہیں کرتے، مستقبل میسج پہ میسج بھیجتا ہوں آپ کی طرف سے جواب ندارد، کیا ہوا بھائی، اب ہم جیسے چھوٹے لوگوں سے کاروبار نہیں کرتے ہیں کیا؟‘‘
’’نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں!‘‘
’’نہیں؛ بتائیں اگر آرڈر لینے کی کچھ شرائط ہوں کہ اتنے سے کم کا آرڈر نہیں لیا جائے گا، تو وہ بھی بتا دیں، لیکن آپ تو کچھ جواب ہی نہیں دیتے‘‘۔

’’ارے تنویر بھائی! بات…. اصل میں یہ ہے نہ کہ  آپ جو آرڈر دیتے ہیں نہ وہ اردو میں لکھ کر دیتے ہیں، دیکھیے ایسا نہیں کہ اردو ہمیں نہیں آتی، الحمد للہ، السلام عليكم وغیرہ ہم خوب اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں، لیکن بس آپ جو کتابوں کے نام، ( اردو زبان کی پہلی… دوسری… تیسری… نورانی قاعدہ…. فضائل اعمال…. عم پارہ… ألم… بغدادی قاعدہ… یسرنا القرآن…. حافظی قرآن… جلی قلم پارہ سیٹ…. معاون نماز… اشرفی نماز…. مسنون دعائیں…. چھبیس سورتیں….) اردو میں لکھتے ہیں نہ تو تھوڑی دقت ہو جاتی ہے،اس وجہ سے آپ کا آرڈر نہیں جا پاتا ہے۔ ایسا کریں اب آپ میرا پرسنل نمبر لکھ لیں اور انگلش میں آرڈر بھیجا کریں، میں یہاں کا ملازم ہوں؛ لیکن إن شاء الله اب آپ کے آرڈر میں تاخیر نہیں ہوگی‘‘۔
شاید اوپر کا مکالمہ آپ کے ہوش و حواس کے ہاتھوں سے طوطے اڑا دے، طوطے نہیں تو توتے تو ضرور ہی اڑا دے گا، میں اردو کی روزی روٹی کھانے والا کتب فروش ہوں، اردو کی درسی و غیر درسی کتابوں کی تجارت سے تقریباً نصف دہائی سے وابستہ ہوں، اردو کی روزی روٹی سے جڑے لوگ بھی اردو کو بس بے گوشت کی ہڈی سمجھتے ہیں، جسے صرف ہوٹل میں آنے والے گراہک کے برتن میں بوٹیوں کی گنتی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک مرتبہ بچوں کو اردو سکھانے والی بلکہ حروف شناسی کی پہلی کتاب منگوائی، تو جو کتاب آئی اس پر بڑے ہی خوبصورت انداز میں لکھا تھا ” اردو کا قائدہ” پتہ نہیں، شاید انہوں نے اس اصول پر عمل کیا تھا کہ جو ملفوظ ہوگا وہی مکتوب ہوگا، اس اصول کی کرم نوازیاں اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ طوطے کے ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے، ” جہاز ” ایک ایسے جزیرے پر پہنچ گیا کہ ” ز” کو ” ج” سے بدلے بغیر داخلے کی گنجائش ہی نہیں تھی کہ اردو کی ایک چار ورقی کتاب میں ” ج” سے ” جہاج ” لکھا ہوا دیکھا، کئی ایک مثالیں ہیں ابھی یاد نہیں۔
دہلی کا جامع مسجد کا علاقہ ہم اردو نوش لوگوں کے لیے بہت بڑا میخانہ ہے، دینی ادبی درسی و غیر درسی کتابوں کی بڑی منڈی ہے، جب ہم نے شروع میں کام کیا تو ہم بڑے ناموں سے ہی واقف تھے، اور یک گونہ آسانی بھی تھی کہ تمام کتابیں ایک ہی جگہ مل جاتی تھیں، کئی ایک دکانوں کے چکر نہیں لگانے پڑتے تھے، ہم بھی ایک بڑے سے نام سے جڑ گئے، واقعی وہ اتنا بڑا نام ہے کہ اردو کتابوں کی طباعت میں شاید آزادی کے بعد کوئی اور نام اس کی برابری کر سکا ہو، مصنفین اپنی کتابوں کی حیثیت بڑھانے کے لیے اس مکتبہ سے اپنے صرفے پر اپنی کتابیں چھپاتے ہیں، ہزاروں سے زیادہ کتابیں اب تک اس مکتبے سے چھپ چکی ہیں، ان کا باضابطہ کمپیوٹرائزڈ بل ہوتا مگر مجھ جیسے اردو کے لکیر کے فقیر کے لیے بسا اوقات بل کا سمجھنا دشوار ہو جاتا ، کتابوں کے نام پڑھنے میں دقت ہوتی کہ سارا بل انگریزی میں ہوتا اور ہم جیسے کم پڑھے لکھے لوگوں والی انگریزی نہیں بلکہ محذوفات و مخففات والی انگریزی، جس کا سمجھنا کارے دارد! عربی طرز و انداز والے نام عجب ٹوٹ پھوٹ کے ہتھے چڑھے ہوتے، ہم قیمت و حجم کے اعتبار سے بل کے پرچے کو حل کر پاتے، یہ سوچ کر صبر کر لیتے کہ شاید کمپیوٹر کا ہاضمہ ابھی اردو کی روٹی کھانے لائق نہیں ہوا ہے، اس لیے مجبوراً انگریزی میں بل بنانا پڑتا ہوگا۔
بعد کے دنوں میں جب ہم بھی اس کمپیوٹر نام والی مخلوق سے روشناس ہوئے تو پتہ چلا کہ ٹکنالوجی کی اس بھاگم بھاگ  میں بھی ہم اردو کا لبادہ اوڑھ کر چل سکتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ سافٹ ویر اور ایپس وغیرہ میں ہمارے ہندوستان میں عام طور پر اردو مقامی زبانوں کی فہرست میں نظر نہیں آتی ہے، مگر شاید اس میں بھی ہم نے ہی صرف اپنی روٹی سینکنے پر اکتفا کیا ہے اور اردو کو” یہ منہ مسور کی دال” کہہ کر چھوڑ دیا ہے، ورنہ سافٹ ویر یا ایپس کسی بھی پلیٹ فارم اینڈرائڈ، ونڈوز، ایپل کے ہوں، اس کی ترتیبات(سیٹنگس) اردو میں نہ ہوں مگر ہم اس میں اپنے اندراجات اگر اردو میں لکھتے ہیں تو کوئی دقت نہیں ہوتی ہے وہ قابل قبول ہوتا ہے، شاید ہم یہ کرتے رہیں تو خود ان ایپلیکیشنز کے Algorithm کے ذریعے ایپس بنانے والوں تک ہم اردو کی دستک دے سکتے ہیں؛ تاکہ باضابطہ وہ اردو پروگرامنگ کے بارے میں سوچ سکیں.
سوشل میڈیا کے عالمی سطح کے جتنے بڑے پلیٹ فارم ہیں سب اردو ترتيبات کے ساتھ دستیاب ہیں، ہم مکمل اردو سیٹنگ نہیں کر سکتے تو کم از کم ہم اپنے تحریری پیغامات، کمنٹس اور ٹوئٹس وغیرہ تو اردو میں کر ہی سکتے ہیں، آسان در آسان کی بورڈز اسمارٹ فون کے ہر ایک پلیٹ فارم پر دستیاب ہے،بس ہم اپنی عادت کو بدلنے کی کوشش کریں۔ راستے خود بہ خود کھلتے چلے جائیں گے۔