وزیر اعظم کو سرحدوں سے زیادہ اپنی شبیہ کی فکر:کانگریس

نئی دہلی:کانگریس نے جمعہ کے روزدعویٰ کیاہے کہ لدخ میں پینگونگ تو اور وادی گلوان کے بعد چینی فوج دیپسانگ کے علاقے میں ہندوستانی سرحد میں داخل ہوگئی ہے اور الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی چین کی دراندازی سے مسلسل انکارکررہے ہیں، کیونکہ انہیں ملک کی سرحدوں سے زیادہ اپنی شبیہ کی فکر ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈران اور سابق وزیر مملکت برائے دفاع پلم راجو اور بھنور جتیندر سنگھ نے بھی دعوی کیا ہے کہ چین کے ساتھ تعطل نہ صرف انٹیلی جنس ناکامی تھی بلکہ اس حکومت کی ذاتی سفارت کاری کی بھی ناکامی ہے۔ راجو نے ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں کو بتایاکہ ہم اس مشکل وقت میں ملک اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن حکومت سے سوالات کرتے رہیں گے۔ ان کے مطابق 2013 میں بھی دیپسانگ میں چین نے یہ حرکت کی تھی اور 21 دن تک تعطل کا شکار رہا،بالآخر چین کو پیچھے ہٹنا پڑا اور سابقہ صورت حال بحال ہوگئی۔ راجو نے کہاکہ1993 سے دونوں ممالک کے مابین بہت سے معاہدے ہوئے ہیں اور چین ان کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو سخت موقف اختیار کرنا چاہئے تھا۔جتندر سنگھ نے میڈیا رپورٹس اور دفاعی ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آج ملک کے سامنے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ آج (ڈپسانگ میں) مودی جی کے ماتحت چینی فوج ایل اے سی کے اندر 18 کلومیٹر اندر گھس گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سیٹ لائٹ کی تصاویر، میڈیا رپورٹس اور دفاعی ماہرین کے ذریعے پتہ چل رہا کہ پی پی10 اور پی پی 13تک ہمارے ہندوستانی فوج کے سپاہی اور افسران گشت نہیں کرسکتے ہیں۔سنگھ نے یہ بھی دعوی کیاکہ پی ایل اے کی افواج بہت آگے پہنچ چکی ہیں،چین کی جوج جہاں ہے، وہاں سے ہماری فضائی پٹی صرف 25 کلومیٹر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ براہ راست فائر کرسکتے ہیں، وہاں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا وزیر اعظم جھوٹ نہیں بول رہے ہیں؟ کیا ملکی فوج کے حوصلے ان کے جھوٹ سے نہیں گر رہے ہیں؟ انہوں نے چین کے صدر سے 18 بار ملاقات کی اور ان ملاقات کاسے ملک کوکیا فائدہ ہوا؟ ۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری فوج چین کو دوبارہ پیچھے دھکیلنے کے قابل ہے لیکن حکومت خود ہی اس مسئلے کی تردید کر رہی ہے اور وہ توجہ ہٹا رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایاکہ وزیر اعظم کو ملک کی حدود سے زیادہ اپنی شبیہ کی فکر ہے، اس لئے ہم مستقل طور پر اس مسئلہ کی تردید کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم اپنی شبیہ کی فکر کرنے میں ملکی سرحدوں کی سلامتی پر کیوں سمجھوتہ کر رہے ہیں؟۔