وزیر زراعت نے 3 دسمبر کو مذاکرات کی تجویزپیش کی،کسانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل

نئی دہلی:مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومرنے دہلی میں مارچ کرنے والے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج ختم کریں۔ تومرنے کسانوں کو 3 دسمبر کو بات چیت کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔اس سے قبل کسانوں نے دعویٰ کیا کہ پرامن انداز میں مظاہرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ دہلی پولیس کے ترجمان ایش سنگھل نے کہا کہ کسان رہنماؤں سے بات کرنے کے بعد دہلی پولیس نے کسانوں کو براری کے نرینکاری گراؤنڈمیں پرامن انداز میں مظاہرہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن قائم رکھیں۔ اجازت ملنے کے بعد کسان اب اپنی ٹریکٹر اور گاڑیوں سے براری جارہے ہیں۔ کسانوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ دہلی آسکتے ہیں۔ اس کے بعدبھی ، کسانوں پرآنسوگیس کے گولے داغے جارہے ہیں۔ دہلی پولیس کی طرف سے داخلے کی اجازت ملنے کے بعد دہلی ہری دوار شاہراہ کوکھول دیا گیا ہے۔اترپردیش اور اترانچل کے کسان ہفتے کی صبح دہلی کے لیے روانہ ہوں گے۔ کسان آج رات میرٹھ میں قیام کریں گے۔اہم بات یہ ہے کہ کسانوں کےدہلی چلو’ مارچ کے پیش نظر ، دہلی – ہریانہ سرحد پر پولیس کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیاگیاتھا۔ دہلی میں کسانوں کی آمد کے دوران متعدد مقامات پر پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ کسانوں کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے اور پانی کے چھڑکاؤکیے گئے۔ کھانوں اور دیگر ضروری سامان کوٹریکٹرمیں لے جانے والے کسانوں نے کئی جگہوں سے دہلی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔