وزیر خارجہ کا اعتراف ،ہند – چین تعلقات کا30-40 برسوں میں سب سے مشکل دور

نئی دہلی:وزیر خارجہ ایس کے۔جے شنکرنے کہاہے کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات شاید پچھلے 30-40 سالوں میں سب سے مشکل مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے یہ بات آسٹریلیاکے لووھی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل فللائو سے گفتگومیں کہی۔ چین کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاہے کہ چین کی جانب سے ایل اے سی پر یکطرفہ کارروائی نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاہے کہ اس سے قبل آخری بار 1975 میں سرحد پر فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے سمجھاجاسکتا ہے کہ معاملہ کتناسنگین ہے۔وزیر خارجہ نے تعلقات کاایک وسیع خاکہ دیتے ہوئے کہاہے کہ سن 1988 سے بھارت چین تعلقات مثبت انداز میں بڑھ رہے ہیں۔ تیس سال پہلے ، بھارت اورچین کے مابین تجارت نہ ہونے کے برابرتھی لیکن آج چین امریکہ کے بعد نمبر دو تجارتی شراکت دار ہے۔وزیر خارجہ نے بھی اپنی گفتگومیں کہاہے کہ ایل اے سی پرگشت کرتے ہوئے دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان بحث ومباحثے ہوتے یاتصادم ہوا۔ یہ چلتا تھا ، جوایک طرح سے معمول تھا۔ لیکن یہ اس وقت ہواجب ہم سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مستقل بات چیت کر رہے تھے۔ ہمارے معاہدوں میں فیصلہ کیاگیاہے کہ دونوں ممالک میں سے کوئی بھی سرحد کے پاس بڑی تعدادمیں فوج نہیں لائے گا۔ لیکن چین نے اس معاہدے کو توڑا اور لداخ میں ہزاروں فوجیوں کے ساتھ فوجی تیاریوں کا آغاز کیا۔ اس نے ایک پریشانی پیدا کردی اور20 فوجی ہماری طرف سے ہلاک ہوگئے۔ اس سے ملک کی روح بدل گئی۔انہوں نے کہاہے کہ اب یہ رشتہ کیسے پٹری پرآئے گا ، یہ سوچنے کی بات ہے۔ ہماراموقف واضح ہے کہ ایل اے سی سے متعلق اسٹیٹس کو بحال کیا جائے۔ اچھے تعلقات کی یہ پہلی شرط ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ سرحد پر کوئی خلل پڑ جائے اور باقی تعلقات معمول پررہیں۔ ہم نے چین کو ہر سطح پر بتایا ہے۔ میں نے چین کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ابلاغ کی کمی کا مسئلہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ معاہدوں کوروک دیاگیاہے۔