وزیراعظم نے بیساکھ عالمی تقریبات پر کلیدی خطبہ پیش کیا، دہشت گردی اور بنیاد پرستی کو شکست دینے کے لیے متحدہونے کی اپیل

نئی دہلی:وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ پورنیما کے موقع پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بیساکھ عالمی تقریبات کے موقع پر کلیدی خطبہ پیش کیا۔ قابل قدر مہا سنگھ کے اراکین، نیپال اور سری لنکا کے وزرائے اعظم، مرکزی وزراء پرہلاد سنگھ اور کرن رجیجو، انٹرنیشنل بدھشٹ کنفڈریشن کے سکریٹری جنرل، قابل احترام ڈاکٹر دھما پیا بھی تقریب میں موجود تھے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاہے کہ بیساکھ، مہاتما بدھ کی زندگی کا جشن منانے اور اعلیٰ آدرشوں اور ہمارے کرہ کی بہتری کے لیے ان کے ذریعے پیش کی گئی قربانیوں کا جشن منانے کا دن ہے۔ انھوں نے مزیدکہاہے کہ انھوں نے گذشتہ برس کے یوم بیساکھ پروگرام کو کووڈ-19 کی وبا کے خلاف انسانیت کی جنگ کی قیادت کرنے والے سبھی صفحہ اول کے کارکنان کے نام منسوب کیا تھا۔ ایک سال بعد بھی کووڈ-19 کی وبا نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ہے اور بھارت سمیت متعدد ملکوں کو دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انھوں نے کہ کہ یہ وبا بہت سے لوگوں کے لیے مصیبت اور پریشانی لے کر آئی ہے اور اس نے ہر ملک کو متاثر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وبا کے ذریعے جو اقتصادی اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ بہت وسیع ہیں اور ہمارا کرہ ارض کووڈ-19 کے بعد آج جیسا نہیں رہ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس کے مقابلے متعدد قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ جیسا کہ پہلے کے مقابلے اس وبا کے تعلق سے بہتر سمجھ پیدا ہوئی ہے، جس سے اس وبا کے خلاف لڑنے کی حکمت عملی بنانے اور ٹیکہ کاری کا عمل انجام دینے کے کام میں تقویت ملی ہے، جو زندگیوں کو بچانے اور اس وبا جو شکسٹ دینے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انھوں نے ایک سال کے اندر کووڈ-19 کے ٹیکے تیار کرنے کے لیے سائنسدانوں کی کوششوں کی ستائش کی اور کہاہے کہ اس سے انسان کے عزم اور اس کی قوت ارادی کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔وزیراعظم نے کہاہے کہ مہاتما بدھ کی زندگی کے چار فلسفوں نے ان کے اندر انسانوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے ان کے دل میں تحریک پیدا کی۔انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس متعدد افراد اور تنظیمیں اس موقع پر اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور انسانوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے جو ممکن تھاکیا۔ دنیا بھر کی بدھ تنظیموں اور بدھ دھرم کے ماننے والوں نے سازو سامان کی شکل میں فراخ دلانہ تعاون دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اعمال مہاتما بدھ کی تعلیمات بھوتو سب منگلم سبھی کے تئیں جذبہ خیرخواہی ، رحمدلی اور سبھی کی فلاح و بہبود کے مطابق ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کووڈ-19 کے خلاف نبرد آزمائی کے دوران ماحولیاتی تبدیلی وغیرہ جیسے انسانیت کو درپیش درپیش دیگر چیلنجوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ نسل کی ناعاقبت اندیشانہ طرز زندگی آئندہ نسلوں کے لیے خطرناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے کرہ کو زخموں سے چور نہیں رہنے دینا چاہیے۔ انھوں نے مہاتما بدھ کی اس تعلیم کی یاد دلائی جس میں ایسی طرز زندگی پر زور دیا گیا ہے جس میں فطرت کے تئیں احترام انتہائی اہم ہے۔انھوں نے اعلان کیا کہ بھارت ان چند بڑی معیشتوں میں سے ہے جو اپنے پیرس اہداف کے حصول کے لیے ٹریک پر واپس لوٹ آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے لیے پائیدار زندگی نہ صرف درست الفاظ ہیں، بلکہ درست اعمال بھی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ گوتم بدھ کی زندگی امن، خیرسگالی اور بقائے باہم سے عبارت تھی۔ لیکن آج بھی ایسی قوتیں موجود ہیں، جن کا وجود نفرت، دہشت گردی اور اندھادھند تشدد پر قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسی طاقتیں روادار جمہوری اصولوں میں یقین نہیں رکھتیں، اوراس لیے انھوں نے انسانیت میں یقین رکھنے والے سبھی لوگوں سے دہشت گردی اور بنیاد پرستی کو شکست دینے کے لیے ایک ساتھ آنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما بدھ کی تعلیمات اور سماجی انصاف کو ان کے ذریعے دی گئی اہمیت دنیا کو متحد کرنے والی ایک قوت بن سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہاتما بدھ پوری کائنات کے لیے ذہانت کا مخزن تھے۔ ان سے ہم وقتاً فوقتاً روشنی حاصل کرسکتے ہیں اور رحم دلی، آفاقی ذمہ داری اور فلاح و بہبود کی راہ اپنا سکتے ہیں۔ مہاتما بدھ کے تعلق سے ،مہاتما گاندھی کے ذریعے کہی گئی بات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے ہرکسی سے درخواست کی کہ وہ مہاتما بدھ کے آئیڈیل کے تئیں اپنی عہد بستگی کا اعادہ کریں۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھاکہ بدھ نے ہمیں ظواہر کو شکست دینے اور سچائی و محبت کی حتمی جیت میں یقین رکھنے کی تعلیم دی ہے۔وزیراعظم نے پہلے ریسپونڈرس، صفحہ اول کے صحت کارکنان، ڈاکٹروں، نرسوں اور رضاکاروں کا روزانہ ضرورت مندوں کی خدمت کے لیے بے لوث انداز میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اپنے عزیزوں اقارب کو کھو دینے والے لوگوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔