وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا

نئی دہلی:وزیراعظم نریندرمودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کیاہے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاہے کہ 75 سال پہلے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پوری دنیاکے لیے ایک ادارہ قائم کیاگیاتھا اور جنگ کے خوف سے امید کی نئی کرن پھوٹی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ چارٹر کے بانیوں میں شامل بھارت اس عظیم ویژن کا ایک حصہ تھا سے ’واسودیوا کٹم بکم ‘کے بھارت کے اپنے فلسفے کی عکاسی ہوتی ہے جس میں تمام مخلوق کو ایک خاندان سمجھا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے قیام امن مشنوںسمیت امن اور ترقی کے مقصدکو فروغ دینے والوںکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اقوام متحدہ کی وجہ سے ہماری دنیاآج ایک بہتر مقام ہے۔آج منظورکیے گئے اقوام متحدہ کے اعلامیے کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ بہت کچھ حاصل کیا گیا ہے لیکن اصل مشن ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ہم جو آج دوراندیشی والے اعلامیے کو منظوری دے رہے ہیں اس میں اس بات کو تسلیم کیا گیاہے کہ تصادم کو روکنے ،ترقی کو یقینی بنانے ،آب وہوا میں تبدیلی سے نمٹنے ،عدم مساوات کو کم کرنے اور ڈیجیٹل ٹکنالوجی کو اپنانے کے لیے ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔اعلامیے میں بذات خوداقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جامع اصلاحات کے بغیر اقوام متحدہ کواعتماد کے بحران کا سامنا ہے اور آج کے چیلنجوں سے فرسودہ ڈھانچے کے ساتھ نہیں نمٹا جاسکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کی ایک دوسرے سے مربوط دنیا میں ہمیں اصلاح شدہ کثیر جہتی کی ضرورت ہے،جوکہ آج کے حقائق کی عکاسی کرے ، تمام فریقوںکوآواز اٹھانے کا حق دے، عصری چیلنجوں سے نمٹ سکے اورانسانی بہبود پرتوجہ مرکوز کرے۔بھارت اس مقصد کے لئے تمام دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاںہے۔