وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی واٹس ایپ پرپھرسخت، نئی پرائیویسی پالیسی واپس لی جائے

نئی دہلی:الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ایک بار پھرمعروف پیغام رساں ایپلی کیشن واٹس ایپ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی پرائیویسی کی نئی پالیسی واپس لے۔ واٹس ایپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو باضابطہ طور پر 15 مئی 2021 سے مؤخر کردیا ہے ،تاہم بدھ کے روزوزارت نے کہا کہ نئی پالیسی ملتوی کرنے سے واٹس ایپ ہندوستانی صارفین کی رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی کے تحفظ سے بری الذمہ نہیں ہوگا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزارت کا خیال ہے کہ واٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی میں تبدیلی نجی معلومات کی راز داری اور تحفظاتی اقدار کو نقصان پہنچا رہی ہے اور ہندوستانی شہریوں کے رازداری کے حقوق کو نقصان پہنچارہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے واٹس ایپ کو نوٹس کا جواب دینے کے لئے سات دن کا وقت دیا ہے اور اگر کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا، تو قانون کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے 18 مئی کو منگل کو یہ نوٹس ارسال کیا تھا۔ وزارت نے واٹس ایپ کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی نے موجودہ ہندوستانی قوانین اور ضوابط کی متعدد دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔ہندوستانی شہریوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت ہندوستانی قوانین کے تحت دستیاب مختلف اختیارات پر غور کرے گی۔وزارت نے واٹس ایپ کے ذریعہ یورپین صارفین کے مقابلہ ہندوستانی صارفین کے ساتھ ’امتیازی سلوک‘ کے معاملہ کو بھی شدت کے ساتھ اٹھایا ہے۔خیال رہے کہ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لیے رازداری کی پالیسی میں تبدیلیوں کے نفاذ کے لیے 15 مئی کی ڈیڈ لائن طے کی تھی ، لیکن بعد میں یہ ڈیڈ لائن منسوخ کردی گئی۔ کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر نئی شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو کسی بھی صارف کا اکاؤنٹ معطل نہیں ہوگا۔ اس کے بعد کمپنی نے اپنے نئے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ جو صارف شرائط کو قبول نہیں کرتے ہیں، وہ ایپ پر عام فیچر جیسے آڈیو اور ویڈیو کال کے فیچر کا استعمال نہیں کرسکیں گے۔