وزارت داخلہ نے بنگال تشدد کی تحقیقات کے لیے چار رکنی ٹیم کی تشکیل کی

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے انتخابات کے بعد مغربی بنگال میں ہونے والے مبینہ تشدد کی وجوہات کی تحقیقات اور ریاست میں زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک چار رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔جمعرات کو عہدیداروں نے بتایاہے کہ وزارت کے ایک ایڈیشنل سکریٹری کی سربراہی میں ٹیم مغربی بنگال کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔مرکزی وزارت داخلہ نے مغربی بنگال حکومت سے کہاہے کہ وہ ریاست میں انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں اوروقت ضائع کیے بغیرایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔وزارت نے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر ریاستی حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے تو معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔جب کہ کل ہی وزیراعلیٰ کی حلف بردرای ہوئی ہے اوراس سے پہلے ریاست کانظم ونسق الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہوتاہے۔بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے بدھ کے روز بنگال کے تشدد سے متاثرہ مبینہ خاندانوں کے ممبروں سے ملاقات کی تھی اور دعویٰ کیاتھاکہ انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد میں بنگال میں کم سے کم 14 بی جے پی کارکن ہلاک ہوگئے ہیں جن کے قریب ایک لاکھ افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔تاہم وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن علاقوں میں بی جے پی امیدوار انتخابات جیت چکے ہیں وہاں تشدد ہورہاہے۔ط