واٹس ایپ، بِپ، ٹیلی گرام یا سگنل؟

 افضال اختر قاسمی جمال پوری

استاذ:جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ،دہلی 

 

چند دن قبل واٹس ایپ کی نئی پالیسی منظرِعام پر آئی،جس سے بچنے کے حوالے سے لوگوں کے مختلف آرا آنے لگے؛گویاایک بحث چِھڑ گئی،عام انسان کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔کریں تو کیا کریں؟  گروپ "عالمی تحریکِ اصلاح” میں ایک صاحب نے پوچھ ڈالا: "ستیاناس ہو کنفرم کر دیجئے”  دل نے اس سوال کی موافقت کی: "ہاں،کوئی فیصلہ ہونا چاہیے”۔

ناچیز اس پر غور کرنے لگا،مختلف تحریریروں کو پڑھا۔ایک فیصلہ کن نتیجہ ذہن میں ابھر کر آیا۔سوچا ایک مختصر تحریر لکھ دی جائے۔پھر خیال آیا ہر طرح کی باتیں سامنے آچکی ہیں۔کیوں نا اہلِ رائے قلم کاروں کے مختلف آرا یکجا کر دیے جائیں۔جس سے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔

ذیل میں چند اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں۔جو اہم ہیں اور ایک مضبوط قابلِ اطمینان رائے قائم کرنے کے لیے معین و مددگار ہیں:

مولانا فضیل احمد ناصری

بیپ پر  جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔کچھ لوگ بلا وجہ پریشان ہو رہے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ موبائل کا استعمال ہی بڑا حساس ہے۔ہماری ہر بات ریکارڈ ہوتی ہے۔ہر لکھی اور پڑھی ہوئی بات پر ایجنسیوں کی نظر ہے۔ ہم واٹس ایپ پر رہیں یا دوسرے ایپ پر جائیں سب کا حال ایک جیسا ہے۔ احتیاط کے ساتھ لکھیں پڑھیں، نیٹ کا استعمال کریں، کوئی خطرے کی بات نہیں، ڈرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

میں نے ایک دفعہ بیپ جاری کیا تھا، مگر واٹس ایپ جیسی سہولت نہیں، مجبوراً اسے ان اسٹال کر دیا۔

کسی(ایپ) پر (جانے کی ضرورت) نہیں۔ اگر بہت ضروری ہوا تو ٹیلی گرام پر۔

مولانا یاسر ندیم الواجدی

جب آپ انٹرنیٹ پر ہیں تو پرائیویسی بھول جائیں، یہاں تک کہ سگنل ایپ بھی بعض معلومات تھرڈ پارٹی کے ساتھ شیر کرتی ہے۔ اس لیے اسمارٹ فون ہاتھ میں لیکر آپ یہ سوچیں کہ آپ بند کمرے میں نگاہوں سے اوجھل ہے یہ خام خیال ہے۔ جس کو یقین نہ آئے جاکر ان کی پالیسی پڑھ لے۔

جب تک آپ کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتے، تو آپ کو پرائویسی سے خدشہ کیا ہے۔

مولانا توقیر بدر قاسمی

مسئلہ ملکی تعاملات کے مستقبل اور ملک میں برادران وطن سے اس کے واسطے آپسی تبادلہ خیال یا کچھ شییر کرتے وقت "اسلامی ایپ” کے نام سے آگاہ کرنے کے پیش نظر کا ہے، جبکہ مزاج بدلتے ہیں چاینہ سے بگڑنے پر ٹک ٹاک پر قدغن سے ان ایپوں کا ماضی سامنے ہے، اس ان سبکو یہاں دھیان میں رکھنا بہتر ہے.

مولانا سمیع اللّٰہ خان

ہمیں ناہی سگنل اور ٹیلی گرام ایپلیکیشن سے کچھ فائدہ ملنے والا ہے، ناہی بیپ ۔ Bip سے ہماری کوئی دشمنی ہے، ہم وہاں بھی آجاتے ہیں، چنانچہ ہم بیپ پر آگئے،

لیکن آنے کےبعد یہی لگتاہے کہ یہ والا ایپلیکیشن زیادہ غیرمحفوظ ہے اور وہی کچھ کرےگا جو واٹس ایپ کرنے والا تھا

لہٰذا جس کو جہاں مناسب لگے وہ اپنے طورپر وہی ایپلیکیشن استعمال کرے، ہماری اولین رائے، سِگنل Signal کی ہے ہمارے دوسرے اکاؤنٹ ایڈمن پینل کے ذریعے دیگر ایپلیکیشن میں بھی ہوسکتےہیں، لیکن ہر حساس انسان اپنے لیے وہی ایپلیکیشن اختیار کرنا پسند کریگا جو اس کی ذاتی زندگی اور پرائویسی کی کم از کم رسمی ہی سہی ضمانت دے، اسے یوں کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سوشل میڈیا پر آنا ہے تو ذاتی زندگی میں جھانکنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ ہم جب کوئی پروڈکٹ انٹرنیٹ کے بازار میں خریدیں تو ایک بیدار مغز گاہک کی طرح موجودہ ایپلیکیشنز میں سے خوب سے خوب تر کا انتخاب کریں_

ناچیز کا خیال

ناچیز کا خیال ہے کہ وہاٹس ایپ ہی استعمال کیا جائے۔البتہ اپنی حفاظت خود کی جائے۔یعنی غیر قانونی قابلِ گرفت باتوں سے مکمل بچا جائے۔

جس کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ شریعت کے مطابق موبائل انٹر نیٹ وغیرہ استعمال کیا جائے۔غیر ضروری تصاویر ہرگز شیئر نہ کیے جائیں۔تمام لایعنی باتوں سے بچا جائے۔ اللہ تعالی کا ارشادِ پاک سامنے رکھا جائے کہ:  "مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ.(ق:١٨)

کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر  باش نگراں موجود نہ ہو۔”

جب احکم الحاکمین اللہ رب العزت کے دربار میں ہمارا ڈیٹا درست پہنچے گا تو انشاء اللہ دنیا  میں بھی ہمارا معاملہ درست رہےگا۔اللہ تعالی بڑے محافظ ہیں۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*