وتلک الایام نداولہا بین الناس-نایاب حسن

ابھی چند دن قبل ہندوستان کے مسلمان ترکی میں ایا صوفیہ نامی عمارت کو وہاں کی حکومت کے ذریعے میوزیم سے مسجد میں منتقل کیے جانے پر خوشیاں منارہے تھے اور آج وہی ہندوستان میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تاسیس کی وجہ سے شدید غمگین ہیں۔ یہ قدرت کا نظام ہے،تاریخ ایسے ہی بنتی،بدلتی اور آگے بڑھتی رہتی ہے۔

بابری مسجد کا معاملہ تو اسی دن ’’سلٹا دیا گیا‘‘تھا،جب سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے شواہد و ثبوت اور تاریخی حقائق کے بابری مسجد کے حق میں ہونے کے اعتراف اور اس کے انہدام کو ’’مجرمانہ عمل‘‘قرار دینے کے باوجود زیر بحث مقام کو مندر کے دعوے داروں کے سپرد کرنے کا فیصلہ دیا اور مسجد کے لیے وہاں سے کئی کیلو میٹر دور ایک کونے میں جگہ دی گئی۔

بابری مسجد کی تاریخ،اس پر اٹھنے والے تنازع اور اس کے مختلف تاریخی و سیاسی مراحل پر اب گفتگو کی اتنی معنویت نہیں رہی،مگر مابعد بابری مسجد کے مرحلے میں ہندوستان کے سیاسی و سماجی منظرنامے میں غیر معمولی بدلاؤ کی توقع اور اس کے اظہارات ابھی سے ہونے لگے ہیں۔

جوں ہی پانچ اگست کو بھومی پوجن کے دن قریب آنے لگے،کورونا جیسی جان لیوا وبا اور خود ایودھیا میں اس کے پچاسوں متاثرین کے پائے جانے کے باوجود بی جے پی اور سنگھ پریوار میں غیر معمولی جوش نظر آنے لگا اور مارے خوشی کے کیلاش وجے ورگیہ جیسے بی جے پی رہنماؤں نے بھومی پوجن کے لیے اس دن کے انتخاب کی وجہ بھی بیان کردی کہ یہ دراصل جموں و کشمیر سے آرٹیکل تین سو ستر کے الغا کی پہلی سالگرہ ہے اور اسے ہم رام مندر کی تاسیس کے ذریعے یاد گار بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بات درست بھی تھی اوراس سے بھی زیادہ درست بات یہ تھی کہ بی جے پی نے بھومی پوجن اور شیلانیاس کے لیے اس دن کا انتخاب اس لیے کیاکہ وہ میڈیا کو پوری طرح اُدھر مشغول رکھنا چاہتی تھی،اب دیکھ لیجیے کہ سارے ہندوستانی میڈیا میں کہیں کونے کھدرے میں بھی کشمیریوں پر پچھلے ایک سال سے گذر رہی قیامت کا کوئی ذکر نہیں ہے،انٹرنیشنل میڈیا میں بھی نہیں۔ ہر طرف رام مندر اور ایودھیا کی جے جے ہے،آج ہی مودی کے نئے سادھووں والے اوتار کا بھی عقدہ کھلا جب انھیں بھومی پوجن میں دھوتی کرتے اور مخصوص ڈاڑھی مونچھوں سمیت بیٹھا ہوا دیکھا گیا،وہ بھی ایودھیا کے سادھووں میں سے ایک لگ رہے تھے۔

کانگریس اس موقعے پر سب سے زیادہ بے چینی،اضطراب اور شدید چھٹپٹاہٹ کی شکار رہی؛کیوں کہ اسے بخوبی احساس تھا کہ بابری مسجد کے ملبوں پر رام مندر کی داغ بیل ڈالنے کا سارا کھیل تو اس نے اور اس کے آںجہانی نیتاؤں نے رچا تھا،مگر اب جبکہ یہ کھیل اپنی انتہا کو پہنچا تو اسے ہاتھ ملنے کے سوا کچھ ملتا نظر نہیں آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے صفِ اول کے رہنما تابڑ توڑ بیانات دے کر،سوشل میڈیا پر اپنی پروفائلیں بدل کر اپنے دل کی بے چینی اور حقیقتِ حال کا اظہار کرتے نظر آئے۔ رام مندر کی تعمیر کا سارا کریڈٹ بی جے پی اور سنگھ کے کھاتے میں جاتا دیکھ کر موجودہ کانگریسیوں کے علاوہ اندرا،راجیو اور نرسمہاراؤ جیسے نیتاؤں کی روحیں بھی خاصی تاؤ کھا رہی ہوں گی۔

افسوس اور حیرت کا مقام یہ ہے کہ کئی ایسے سیاست دان اور انٹلیکچوئل قسم کے لوگ بھی اس شیلانیاس کے موقعے پر ’’اَتی اُتساہت‘‘نظر آئے،جو پچھلے سال سپریم کورٹ کے فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کر چکے تھے،اسے انصاف پسندی کے خلاف قرار دے چکے تھے۔

اب جبکہ رام مندر کی باقاعدہ بنیاد پڑ چکی ہے،تو آنے والے سال دوسال یا پانچ دس سال میں اس کی تعمیر بھی مکمل ہوہی جائے گی۔ اس مندر کی وجہ سے ایودھیا کو جس لیول کا شہر بنانے کی ہانک لگائی جارہی ہے،اس کی توقع تو اس ملک کی کسی بھی حکمراں پارٹی سے کرنا فضول ہے،مگر ہاں!اس ملک کے مرکزی سیاسی منظرنامے پر بی جے پی کی موجودگی کے ماہ و سال میں اضافے کی پیش گوئی ضرور کی جاسکتی ہے۔ اب جو ماحول اس ملک میں قائم ہوا ہے اور جس طرح ایودھیا میں پیش آنے والے واقعے کا جشن پورے ہندوستان کے گاؤں اور دیہاتوں میں منایا جارہاہے،اس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی حرج نہیں کہ حکمرانی کے آیندہ کم سے کم دوتین ٹرم اور بھی بی جے پی کے حق میں ریزرو ہو سکتے ہیں۔

جب ایودھیا تنازع برقرار تھا،توآر ایس ایس ،اکثریت پسند ہندووں کا مسلمانوں سے یہ مطالبہ تھا کہ کسی طرح اس معاملے کو نمٹالیں ،پھر اس ملک سے کمیونل ٹینشن کا دور پوری طرح ختم ہوجائے گا،مگر اب تو نئی قسم کی فرقہ پرستی اپنے بال و پر نکال رہی ہے۔ آج ہی کی خبر ہے کہ ہندوستان کے متعدد علاقوں میں مسجدوں کے باہر بھگوا جھنڈے لہرادیے گئے اور بی جے پی کے لیڈر و ایم پی ونے کٹیار تو دو تین دن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایودھیا کے بعد اب کاشی و متھرا کا نمبر ہے۔ یعنی کہ رام مندر کا وجود ہندوستانی مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف ہے،سپریم کورٹ کی یقین دہانی کے باوجود آیندہ کسی بھی عبادت گاہ کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ،یہ مندر مسلمانوں کو ہمیشہ نفسیاتی و ذہنی شکستگی کا احساس دلاتا رہے گا،انھیں خود ایسا محسوس نہیں ہوگا،یہاں کے ہندوکسی نہ کسی بہانے انھیں محسوس کرواتے رہیں گے۔

من حییث المجموع مسلمان اب کونسی سیاسی حکمت عملی اختیار کریں گے؟سب کچھ پہلے کی طرح چلتا رہے گا،پریس ریلیزوں والی ملی قیادت پھلتی پھولتی رہے گی اور ایک ہی ملی معاملے میں الگ الگ راگ الاپنے کا سلسلہ جاری رہے گا یا کچھ بدلاؤ آئے گا؟ مسلم سیاست دان اپنی پارٹیوں کے پچھ لگّو بنے رہیں گے یا کسی بامعنی نصب العین کے تحت کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے؟ کیا ان پارٹیوں اور افراد سے کنارہ کشی کی جائے گی،جنھوں نے کھل کر بھومی پوجن پر اپنی خوشیوں کا اظہار کیا اور سیکولرزم کے گراں بار چولے کو اتار پھینکا؟کیا مسلمان سیکولرزم سے پیچھا چھڑانا چاہیں گے جیسا کہ کچھ پر جوش نوجوان چاہتے ہیں یاہندوستان کے سماجی و سیاسی پس منظر میں سیکولرزم کی کچھ الگ تحدید و تشریح کی جائے گی اور اس پر عمل کرنے اور کروانے کی کوشش کی جائے گی جیسا کہ بہت سے لوگ کہتے اور سوچتے رہتے ہیں؟بہر کیف جو پردۂ غیب میں ہے،اس کے بارے میں حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا،جو معرضِ ظہور میں آچکا اور آرہا ہے اسے دیکھ کر اور بھوگ کر اپنا قبلہ ضرور درست کیا جاسکتا ہے۔

اللہ کا گھر شہید ضرور ہوگیا ،مگر اس شہادت سے ایک طرف سنگھ اور بی جے پی کو حیاتِ نو ملی،تو دوسری طرف خود ہماری صفوں سے کئی ایک ایسے طالع آزماؤں نے اس کے ملبے پر اپنی مذہبی و سماجی سیاست چمکائی۔ ہم جب بابری مسجد کی تاریخ پڑھیں،لکھیں ،آنے والی نسلوں کو سنائیں تو خدا را انصاف پسندی کا مظاہرہ کریں اور اس کہانی کے تمام کرداروں کو ذہن میں رکھیں۔ ’’وتلک الأیام نداولہا بین الناس‘‘ایک خدائی اصول ہے اور اس کے نفاذ کے اسباب خود انسان کے اعمال ہوتے ہیں۔ ایاصوفیہ کی حیثیت و شناخت کی تبدیلی بھی اسی کا مظہر ہے اور ایودھیا میں رام مندر کی تاسیس میں بھی اسی کا عمل دخل ہے۔ کیا پتا سودوسوسال بعد ایاصوفیہ کس پوزیشن میں ہو اور کیا معلوم صدی دو صدی بعد ایودھیا کے متعلقہ مقام پر ایک مسجد کھڑی نظر آئے۔ اس قسم کے واقعات میں سیاسی،سماجی و نظریاتی اکثریت اور زور کا بھی اپنا کردار ہوتا ہے،سو اس پہلو کوبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*