واصف فاروقی کا شعری مجموعہ ریشم-ضیافاروقی

اودھ کے وہ قصبات جو صدیوں تک معدن علم و حکمت رہے ان میں ضلع ہردوئی قصبہ کوپامؤ کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے ۔کہ یہاں اس وقت بھی علم و ادب کے چراغ روشن تھے جب اطراف کے بیشتر علاقے تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے ۔حضرت نظام الدین اولیا کے مرید اور خلیفہ قاضی نور الدین مبارک اولیا اور ان کے خانوادے کی علمی فتوحات کے تذکرے ہوں یا بندگی حضرت نظام الدین امیٹھوی اور ملا وجیہہ الدین مولف فتاوی عالمگیری کی علمی بصیرتوں کا بیان ہو یا پھر والا جاہ نواب انوار الدین شہامت جنگ اور ان کے اخلاف کےعلمی اورعسکری واقعات و حادثات کاذکر ہوـ تاریخ نویسوں اور تذکرہ نگاروں نے ہر دور کا احوال صراحت سے بیان کیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بیسویں صدی کے طلوع ہوتے سورج نے کوپامؤ کے ان چراغوں کی روشنی بھی ماند کرنا شروع کردی جو صدیوں سے چار دانگ عالم میں اپنی روشنی بکھیر رہے تھے ۔رہی سہی کسر آزادی کے بعد بدلتی معاشی اور تہذیبی صورت حال نے پوری کر دی کہ نہ جنوں رہا نہ پری رہی ۔ مگر وہ جو رگوں میں گردش کرنے والا لہو تھا اس نے بعد کی نسل میں بھی کچھ ایسی شخصیات پیدا کیں جنھوں نے اپنے اپنے میدان میں اپنا اور وطن کا نام روشن کیا ۔ کسی قسم کی فہرست سازی سے بچتے ہوئے میں یہاں صرف واصف فاروقی کے شعری سروکار پر بات کروں گا کہ ان کی رگوں میں بھی اپنے ان والاجاہی بزرگوں کا خون گردش کررہا ہے جن کی علم دوستی اور ادب پروری کی داستانیں گوپامو سے ارکاٹ ( مدراس) تک بکھری ہوئی ہیں ۔ان کے والد حکیم ناظم حسین فاروقی فارغ التحصیل عالم ہونے کے ساتھ بہترین شاعر بھی تھے ۔واصف ابھی ماں کی گود سے اترے بھی نہ تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ چنانچہ بچپن گوپامؤ کی دھندلی اجلی علمی اور تہدیبی پرچھائیوں میں گزار کر یہ بڑے بھائی عارف فاروقی صاحب کی سرپرستی میں علی گڑھ چلےگئے ۔یہاں تعلیم ہی نہیں حاصل کی بلکہ علیگڈھ کی جبل٘ی خصوصیات کو بھی اپنے وجود میں جذب کرتے رہے اور انجینیرنگ کی ضرب تقسیم کے ساتھ ساتھ حسن و عشق کی بساط پر شمشیر سخن کے داؤ پیچ بھی سیکھتے رہے ۔ علیگڈھ سے نکل کر جب میدان عمل میں آئے تو مجنوں باشی کے لئے بھی کھلا میدان ملا ۔چنانچہ مشاعروں میں بھی شرکت ہونے لگی اور مقامی اور بیرونی ارباب سخن کے درمیان مقبولیت بھی بڑھتی گئی ۔
واصف فاروقی سے میری کئی نسبتیں ہیں ۔ وہ میری والدہ کے حقیقی ماموں کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں ۔عمر میں مجھ سے چند سال چھوٹے ہونے کے باوجود ہمارے درمیان دوستی اور یگانیت بچپن سے ہی رہی بلکہ اگر یوں کہوں کہ میں نےہر حال میں دیکھا ، برتا اور چاہا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔وہ محکمہ آبپاشی میں اپنی ملازمت کے دوران کالا گڑھ ، سیتاپور ، بہرائچ ، فتح پور اور نہ جانے کہاں کہاں رہے اور ملازمت برائے ملازمت کرتے ہوئے مشاعرہ گاہوں کو اپنے کلام اور اپنی نظامت سے گلزار کرتے رہے ۔ میرا معاملہ یہ رہا کہ سندیلہ میں جو وقت گزرا سو گزرا پھر کانپور میں پیر توڑ کے جو بیٹھا تو عمر وہیں گزار دی اور جب وہاں سے نکلا تو دارالاقبال بھوپال کا اسیر ہوگیا ۔ میں نے ہمیشہ کتب و رسائل کو اہمیت دی اور انھیں کے سہارے اپنے ذوق کی تسکین کرتا رہا ۔ اور اسی مطالعہ سے میری سمجھ میں میر تقی میر کی یہ بات بھی آئی کہ لا علمی میں سو سو شعر کہنے والے کو اگر واقعی شاعری کا عرفان ہو جائے تو ایک شعر بھی مشکل سے ہوتا ہے۔
واصف کے یہاں غضب کی آمد ہمیشہ رہی اور مشاعرے کی امبوہی شاعری کے درمیان رہ کر بھی ان کی شاعری اپنی عصمت کی نگہہ بانی کرتی رہی ۔ورنہ وہ مشاعروں کے لئے اس طرح کے شعر نہیں کہہ سکتے تھے:

یہ اور بات ہیں خاموش ان دنوں لیکن
تعصبات کے سب راگ اب بھی زندہ ہیں
ہمیں کچھ اور زیادہ سنبھل کے چلنا ہے
کہ چوٹ کھائے ہوئے ناگ اب بھی زندہ ہیں
یا
آئینہ پڑھنے کی ہمت نہیں ہوتی ورنہ
اپنے چہرے پہ ہر اک جرم لکھا مل جاتا
اس قدر بھاگے ہیں لادین کے پیچھے لا دین
ڈھونڈتے اتنا خدا کو تو خدا مل جاتا

میں اکثر ان سے کہتا رہا کہ بھائی کتب و رسائل کو بھی نگاہ میں رکھا کرو کہ تمھارے یہاں شعر گوئی کی جو فطری صلاحیت ہے وہ کچھ اور کی متقاضی ہے مگرجواب میں وہ مجھے مشاعرے سے ملا ہوا لفافہ دکھا دیتے ۔ظاہر ہے کہ اس کے بعد کچھ کہنے کے لئے رہ ہی نہیں جاتا ۔
مجھے خوشی ہے ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد انھوں نے لکھنؤ کو اپنا جائے قرار بنایا اور مشاعرے سے ہٹ کر اپنے کلام کی ترتیب پر بھی توجہ دی ۔ یہی ترتیب "ریشم ” کے نام سے ہمارے سامنے ہے ۔ دیدہ زیب سرورق اور بہترین کتابت سے مزین "ریشم "اپنے اندرون میں وہ کلام بھی رکھتا ہے جس میں ہمارے عہد ناپرساں کی بیچینیاں اور نارسائیاں پورے فنی تکلفات کے ساتھ شعری پیکر میں موجود ہیں اور حسن و عشق کی ان کج ادائیوں اور ناز برداریوں کا بیان بھی ہےجو ہماری رومان پسند فطرت کے ذوق کے لئے ضروری ہے۔ "ریشم ” میں غزلوں کے علاوہ قطعات اور نظمیں بھی ہیں۔ ان کی نظموں کا ڈھانچہ وہی ہے جو مجاز ، مخدوم اورجاں نثار جیسے ترقی پسند شعرا کو مرغوب و محبوب رہا ۔واصف کی نظموں میں وہ کرب بھی موجود ہے جو محرومیوں اور ناکامیوں کے بطن سے پھوٹتا ہے اور وہ عزم و حوصلہ بھی ہے جس کےلئے اقبال نے ستاروں سے آگے جہان اور۔۔۔۔۔ کی بشارت دی ہے ۔اسی طرح ان کی غزلوں میں بھی نشاط و ملال کے وہ سارے رنگ موجود ہیں جو عصری حسیت سے عبارت ہیں ۔

جس میں رہتے ہوئے اک عمر گزاری میں نے
دیکھتا ہوں تو وہ دنیا بھی نہیں ہے مجھ میں

اس نے گل کر دیے سب چاند ستارے میرے
اور میں اس کے چراغوں کا ادب کرتا رہا

کیا اس سے برا وقت کوئی اور بھی ہوگا
ہم اپنے ہی آئینوں پہ شک کرنے لگے ہیں

نتیجہ یہ ہے کہ اب تیرگی کی قید میں ہوں
میں اپنے سائے سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا

آج پھر سوچ کے رکھ دی ہے کہ اب کل ہوگی
جانے کب تک تری تصویر مکمل ہوگی

ہم نے دیکھا ہے ان آنکھوں کو زباں بنتے ہوئے
گفتگو دل کی کہاں جنبش لب چاہتی ہے

یہ الگ بات کوئی دست ہنر مل نہ سکے
سنگ کوئی بھی ہو اپنے میں صنم پالتا ہے

تیرتے رہتے ہیں اس جھیل میں چہروں کے کنول
کتنی یادوں کو مرا دیدۂ نم پالتا ہے

اک دل تھا اس سے کام لیا ہے نگاہ کا
دنیا کو دیکھ آئے نظر کے بغیر ہی

بھیڑ عریانیت کی چھوڑ آئے
ہم نے تنہائی کو لباس کیا

میں کہ مجبور ہوں حالات کی عکاسی پر
شاعری میری مگر مجھ سے ادب چاہتی ہے
یہاں ادب سے مراد اگر محبوب کی زلفوں کے پیچ و خم ہیں تو حالات کا جبر یقینآ اس کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ فیض کو بھی کہنا پڑا تھا کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا ۔ لیکن ادب اگر اپنے عہد کے انتشار و احتجاج کو لفظوں میں قید کرنے کا نام ہے تو واصف فاروقی کے یہاں ادب برائے زندگی کا پورا منظر نامہ موجود ہے ان کے اشعار میں جہاں غزل کا جمالیاتی رومانی آہنگ پوری طرح نمایاں ہے وہیں انتشار و احتجاج کے شوخ رنگ بھی موجود ہیں۔واصف کی نظموں میں بھی ایک تسلسل ایک فطری بہاؤ موجود ہے ۔ان کی نظموں میں محبوب کے آنچل کو پرچم بنا لینے کا مشورہ تو نہیں ملتا ہے مگر درد وکرب کی وہ لے ضرور موجود ہے جو ہمارے پیش رو ترقی پسندوں کا خاصہ رہی ہے۔ "مجھے اجازت دے” ان کی ایک خوبصورت رومانی نظم ہے ۔جس میں اظہار عشق کا یہ انداز بھی خوب ہے:

میں اپنے ہونٹوں کی بے رنگ روشنائی سے
ترے لبوں پہ محبت کا لفظ لکھوں گا مجھے اجازت دے
اس نظم کے علاوہ گریز اعتراف ٗکاش اور انتشار جیسی کامیاب نظمیں بھی ہیں جن میں غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی بھر پور ترجمانی اور محسوسات کی تصویر کشی پورے لسانی وقار کے ساتھ نظر آتی ہے۔
واصف فاروقی انتہائی حساس شاعر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ حمد و نعت کے کوچہ میں بھی وہ اپنی پوری عقیدت اور شعری بصیرت کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ان کے حمدیہ اور نعتیہ کلام میں بھی ان کا اسلوب ہی ان کی شناخت ہے
بہر حال ان کا شعری سفر پوری آب و تاب سے جاری ہے اس لئے امید ہے کہ وہ جلد ہی اپنانیاشعری مجموعہ منظرعام پر لائیں گے جو غم جاناں اور غم دوراں دونوں کے احوال و آثار پر مشتمل ہو گاـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*