وصی نعمانی بھی چلے گئے! ایم ودود ساجد

 

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے سابق سیکریٹری‘سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور ’قرآن‘سائنس اور کاسموس‘کے مصنف وصی احمد نعمانی بھی اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔انہیں وفات یافتہ کہنے کو جی نہیں چاہتا۔لیکن وہ وفات پاگئے ہیں۔انسان کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔لیکن یہ واقعہ ہے کہ وصی احمد نعمانی نے اس وقت ایک خواہش کی تھی جب ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ایک ایسی خواہش کہ جس میں ہاتھ‘پاؤں اور زبان کے علاوہ ذہن ودماغ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ان کی خواہش ہی ایسی تھی کہ خالق ذوالجلال کو رحم آگیا اور جب ان کے اہل خانہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب نعمانی صاحب کا روبصحت ہونا ممکن نہیں تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا نشانہ پورا کرلیا۔

 

آخری سانس لینے کے وقت وصی احمد نعمانی کی عمر67سال پانچ ماہ تھی۔میراان سے کوئی 29سال پرانا تعلق تھا۔وہ ایک ہمہ جہت انسان تھے۔1991میں وہ سپریم کورٹ میں وکالت بھی کرتے تھے اور اخبارات میں مسلم مسائل پر مضامین بھی لکھتے تھے۔لہذا اس دوران بابری مسجد کے تعلق سے ان سے ہفت روزہ نئی دنیا کے لئے ایک مضمون لکھوایا تھا۔اس کے بعد یہ تعلق بھی ہمہ جہت ہوگیا۔2004میں وہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی)کے صدر سراج الدین قریشی کی اس ٹیم کا حصہ ہوگئے جوآئی آئی سی سی کے اولین الیکشن میں پانچ سال کے لئے منتخب کی گئی تھی۔انہیں جمہوری طورپر منتخب سینٹر کی پہلی گورننگ کونسل کا سیکریٹری بنادیا گیا۔

 

وصی احمد نعانی کو علمی مطالعہ کا بڑا شغف تھا۔لہذا 2005میں یہ عقدہ کھلا کہ وہ ’قرآن‘سائنس اور کاسموس‘جیسے موضوع پر کام کر رہے ہیں اور اب انہوں نے اس موضوع پر مختلف پروگراموں میں تقریریں بھی کرنی شروع کردی ہیں۔میرے لئے یہ ایک نئی خبر تھی۔اس لئے کہ وصی احمد نعمانی نہ تو عالم دین تھے اور نہ سائنس کے اسٹوڈنٹ۔لیکن انہوں نے سائنس کو قرآن کی آیات کے تناظر میں پرکھنا شروع کیا اور اس میدان میں مہارت بھی حاصل کرلی اور شہرت بھی۔اگست2017میں یہ عقدہ کھلا کہ انہوں نے باقاعدہ تجوید وقراء ت کا علم حاصل کیا ہے اور وہ قاری بھی ہیں۔اسکائی پبلیکیشن کے پروپرائٹرشفیق الحسن نے ان کے مضامین اور تقاریر کو ایک مجموعہ کی شکل میں شائع کیا۔اس مجموعہ کا نام‘قرآن‘سائنس اور کاسموس‘ہی رکھا گیا۔اسی کے پہلے صفحہ پر نعمانی صاحب نے اپنا نام ’قاری وصی احمد نعمانی‘لکھا۔

 

اتنا صاحب علم ہونے کے باوجود وہ دوسروں سے سیکھنے کی جستجو رکھتے تھے۔انہوں نے 2007کے بعد سے یہ معمول بنا لیا تھا کہ وہ کچھ وقت میرے پاس ضرورگزارتے اور قرآن پاک کی مختلف آیات کا ترجمہ وتفسیر سناکر مجھ سے اس کی تائید چاہتے۔اکثر ایسا ہوتا کہ وہ کوئی سائنسی تھیوری سامنے رکھتے اور پوچھتے کہ بتائیے کہ قرآن نے اس سلسلہ میں کیا کہا ہے۔ہرچند کہ مجھے بڑی حیا آتی تھی لیکن اس عمل کے سبب وہ مجھے استاذ کہہ کر پکارنے لگے تھے۔نعمانی صاحب طبعاً بہت نازک مزاج واقع ہوئے تھے۔لوگ اسے دوسرا نام دیتے تھے۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ بہت بااصول اور ضابطہ کے پابند انسان تھے۔ان کی اسی سختی کو لوگ ان کی تنک مزاجی سمجھتے تھے۔انہیں جھوٹ اور ریا کاری سے بہت الجھن ہوتی تھی۔اپنے اسی مزاج کے سبب جب وہ اپنے ماتحتوں سے ترشی سے بات کرتے تو میں کبھی کبھی ان سے کہتا تھا کہ آپ سائنس کے تناظرمیں قرآن پر کام کر رہے ہیں تو اپنے مزاج کو بھی قرآن کے سانچے میں ڈھالئے۔تو فوراً نرم روئی کے ساتھ پوچھتے تھے: استاذ کیسے‘ مثال کے طورپر کیسے؟ تو میں ان کو سمجھاتا کہ گو کہ آپ اصول کے پکے ہیں لیکن لوگ آپ کو ترش رو سمجھتے ہیں۔لہذا ان سے قرآن کی زبان میں بات کیا کریں۔پھر پوچھتے کہ قرآن اس سلسلہ میں کیا کہتا ہے؟میں کہتا کہ قرآن نے نرم روی سے بات کرنے کو پسند کیا ہے۔یہ سن کر فوراً ہاتھ پکڑ لیتے‘کہتے کہ استاذ آئندہ ایسا ہی کروں گا۔

 

ایک مرتبہ نعمانی صاحب کے ساتھ سہارنپورمیں ایک اسکول کے پروگرام میں جانا ہوا۔وہاں جید عالم دین مولانا محمد سالم قاسمی (مرحوم)بہ حیثیت مہمان خصوصی موجود تھے۔نعمانی صاحب مجھ سے سرگوشی کرنے لگے کہ استاذ میں اب تقریر نہیں کروں گا‘منتظمین سے کہہ دیجئے کہ اب مجھ سے تقریر نہ کرائیں۔میں مولانا سالم صاحب کے سامنے نہیں بول سکتا۔میں نے کہا کہ یہی تو موقع ہے جب آپ کو بولنا چاہئے۔اگر آپ نے درست میدا ن کا انتخاب کیا ہے توآج اتنے بڑے عالم دین کے سامنے بولنے کا موقع مل رہاہے۔ممکن ہے کہ وہ آپ کی تائید کردیں یا ضرورت ہو تو اصلاح فرمادیں۔نعمانی صاحب میری اس ترغیب سے خوش ہوگئے اور جوش میں آکر قرآن‘سائنس اور کاسموس‘پر ایک جامع تقریر کرڈالی۔اس کے بعد مولانا سالم صاحب نے اپنی تقریر میں اس کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ نعمانی صاحب نے جن نکات پر گفتگو کی ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ اکثر علما ء کو ان کا استحظار نہیں ہوگا۔مولانا مرحوم کا یہ جملہ نعمانی صاحب کے کام کے لئے ایک سند تھا۔

 

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ وہ اصول کے پابند تھے اورنازک مزاج بھی تھے۔لہذا ان سے اتنا لمبا تعلق چھوٹی موٹی چشمک اور وقتی ناراضگی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتاتھا۔سو یہ میرے اور ان کے درمیان بھی کئی بار ہوا۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ جمود توڑنے میں وہی پہل کردیتے تھے۔لہذا اسی طرح کی ایک بہت سخت چشمک جاری تھی۔اسی دوران وہ اندرون ملک بہت سے شہروں کے دورے کے بعد کناڈااور عراق کے دورے پر بھی گئے۔یہاں ان کے لئے غیر مقیم ہندوستانیوں نے بہت سے پروگرام رکھے تھے۔لہذا جب وہ عراق کے شہر نجف میں تھے تو اچانک اسٹروک کے بعدان پر مختلف قسم کی بیماریوں کا حملہ ہوا اوروہ کچھ بھی واضح طورپرزبان سے بولنے سے محروم ہوگئے۔مجھے اطلاع ملی کہ اس وقت نعمانی صاحب عراق کے الحسین ہسپتال میں آئی سی یو میں داخل ہیں۔ان کی اہلیہ سے بات ہوئی تو وہ بہت پریشان تھیں۔میں نے عراق میں ایک مقامی عیسائی مبلغ کا نمبر حاصل کرکے نعمانی صاحب سے بات کرانے کی درخواست کی۔یہ مبلغ دراصل نعمانی صاحب کی تیمارداری کر رہا تھا۔میں نے جیسے ہی سلام کیا ادھر سے جو کچھ جواب آیا وہ ہرگز سمجھنے کے لئے کافی نہیں تھا۔نعمانی صاحب روتے جاتے اورسمجھ میں نہ آنے والی آواز میں کچھ کہتے جاتے۔میں سمجھ گیا کہ نعمانی صاحب کی قوت گویائی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور دیارغیر میں تنہا ہونے کے سبب دلبرداشتہ ہیں۔لیکن اتنا اندازہ ہوگیا کہ وہ میری بات سمجھ رہے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں‘یہاں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے تمام عہدیدار اور خاص طورپرصدر سراج الدین قریشی متفکر ہیں اور جلد ہی آپ کو ہندوستان لانے کا انتظام کریں گے۔اسی دوران میں نے ہسپتال کے ڈاکٹر سے بھی عربی زبان میں بات کی اور نعمانی صاحب کے تعلق سے بتایا کہ وہ کتنی اہم شخصیت کے حامل ہیں۔

 

مجھے اطمینان ہوا کہ سینٹر کے اس وقت کے نائب صدرجناب صفدر ایچ خان اور سراج الدین قریشی وغیرہ نے تگ ودوکرکے نعمانی صاحب کو بذریعہ ایر ایمبولینس ہندوستان واپس لانے کا انتظام کردیا۔یہاں بہت عرصہ تک ان کا علاج ہوا۔مہینوں تک وہ کاغذ پر لکھ کر بات کرتے رہے۔پھر اس لایق ہوئے کہ ان کے لب جنبش کرنے لگے اور ان کے منہ سے کان لگاکر سننے میں کچھ بات سمجھ میں آنے لگی۔اس سے زائد وہ صحت یاب نہ ہوسکے۔انہیں چلنے پھرنے میں بھی بڑی دشواری تھی۔اپنی اہلیہ اور ڈرائیور کے سہارے سینٹر آتے اور سیکریٹری کے فرائض انجام دیتے۔اسی دوران قرآن اور سائنس پر بھی کام کرتے۔اکثر اس خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ جو کچھ میں نے لکھا اور بولا ہے وہ اگر کتابی شکل میں آجائے تو میں سکون کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں۔میں کہتا کہ انشاء اللہ آپ ضروررو بصحت ہوں گے۔

 

وہ وقت بھی آگیا جب وہ کچھ ٹھیک ہوگئے۔سہارے سے چلنے پھرنے بھی لگے اور کچھ ہلکی پھلکی آواز سے اپنا مدعا سمجھانے بھی لگے۔ایک بار کہنے لگے کہ استاذ کیا اب میں تقریر نہیں کرپاؤں گا۔میں نے کہا کہ انشاء اللہ ضرور کریں گے۔ان کی خواہش تھی کہ وہ ایک بار سینٹر میں قرآ ن اور سائنس پر تقریر کریں۔وہ وقت بھی آیا اورنعمانی صاحب کچھ دنوں کے لئے اس لایق ہوگئے۔ان کے لئے سینٹر میں ایک پروگرام رکھا گیا۔انہوں نے دوگھنٹے تک شاندار گفتگو کی۔لیکن پھر چند ایام کے بعدوہ اسی ڈگر پر واپس آگئے۔ان کی خواہش تھی کہ مضامین اور تقاریر کا مجموعہ شائع ہوجائے لہذاان کی یہ خواہش بھی پوری ہوگئی۔ان کے بھائی انجینئر مشیر نعمانی‘حکیم سید احمد اور شفیق الحسن نے ان کا یہ خواب پورا کردیا۔ان کے مجموعہ تقاریر کا اجرا ء بھی عمل میں آیا۔اس تقریب کو معروف مفسر قرآن مولانا انیس احمد آزاد قاسمی بلگرامی اور مولانا اعجاز اسلم صاحبان نے بھی خطاب کیا۔لیکن اس موقع پر نعمانی صاحب مائک پر کچھ نہ بول سکے۔جو کچھ بولا وہ چند قریبی افراد کے سواکسی کی سمجھ میں نہ آیا۔چند آنسو بہاکربیٹھ گئے۔2017میں یہ ان کی آخری عوامی تقریب تھی۔اس کے بعد سے وہ مستقل صاحب فراش ہوگئے تھے۔لیکن قرآ ن‘سائنس اور کائنات‘پر ان کے مضامین علم کے متلاشیوں کے دلوں میں رہتی دنیا تک انہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہیں۔اس کتاب میں 48عنوانات کے تحت مرحوم کی منتخب تقاریرجمع ہیں۔یہ کتاب مدارس میں زیر تعلیم قرآنی علوم کے طلبہ اورکالجوں میں زیر تعلیم سائنس کے اسٹوڈینٹس کے لئے یکساں طورپر مفید ہے۔خاص طورپر قرآن‘سائنس اور کائنات جیسے موضوعات پر کام کرنے والے سائنس دانوں کے لئے یہ کتاب ایک اچھا ماخذ ثابت ہوسکتی ہے۔

وصی نعمانی کی پیدائش 1952میں بہار کے ضلع مدھوبنی میں ہوئی تھی۔گاؤں مرزا پورمیں ابتدائی تعلیم کے بعدمظفر پور کے جامع العلوم سے مزید تعلیم حاصل کی۔پھر جامعہ مفتاح العلوم‘مؤ ناتھ بھنجن سے تجویدوقراء ت کی سند حاصل کی۔الہ آباد بورڈ سے منشی کا امتحان پاس کیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1973میں بی اے آنرس کیا۔1977میں ایل ایل بی کیااوراسی دوران طلبہ یونین کے نائب صدر منتخب ہوئے۔مختلف عدالتوں سے ہوتے ہوئے 1986میں سپریم کورٹ آگئے۔کچھ دن سیاست میں بھی کاٹے اور اندراگاندھی کے کہنے پر کانگریس میں شمولیت اختیار کی لیکن جلد ہی عملی سیاست سے الگ ہوگئے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*