وسیم رضوی نے کہا،مندر ہندوؤں کاحق تھا،جو انہیں ملا

ایودھیا:شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے کارسیوک پورم میں شری رام جنم بھومی تیریتھ چھتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے، یہ ہندو ہندوؤں کا تھا، جو انہیں ملا۔ اس کے لئے انہوں نے ایودھیا کے سنتوں کے ساتھ مل کر اپنا موقف واضح کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اویسی ہندوستان کے ابوبکر بغدادی ہیں، ہم انہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔رضوی نے کہاکہ ہماری کوشش تھی کہ باہمی مفاہمت کے معاہدے کے ذریعے کوئی حل تلاش کیا جائے، عدالتی فیصلے سے نہیں، تاکہ لوگوں کی نسلوں کو لوگوں کے ذہنوں میں باہمی معاہدے کے بارے میں بات رہے اور دوری جو ہندو مسلمانوں میں بڑھی تھی ، ختم ہوجائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاہدہ عمل میں نہیں آیا۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جو فیصلہ آیا ہے وہ درست ہے، انہیں وہ مل گیا جس کے وہ حقدار تھے۔وسیم رضوی نے کہاکہ ایودھیا کی سرزمین پر اب کوئی نئی مسجد موزوں نہیں ہے لیکن یہ سنی وقف بورڈ کا معاملہ ہے جو وہ صحیح سمجھتا ہے وہی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر شیعہ وقف بورڈ کا معاملہ ہوتا تو ایودھیا کی سرحد میں مسجد تعمیر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سنی وقف بورڈ کو رائے دی ہے کہ اس سرزمین پر ایک اسپتال یا اسکول بنایا جانا چاہئے تاکہ تمام مذاہب کے لوگ علاج اور تعلیم حاصل کراسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں نمازیوں کی کمی ہے، مساجدکی نہیں۔