واقعۂ کربلا – دروس و نصائح – شمیم اکرم رحمانی 

اک فقر ہے شبیّری، اس فقر میں ہے مِیری

میراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیّری!

(علامہ اقبال) 

 

دنیا میں بے شمار اہم ترین واقعات ظہور پذیر ہوئے ہیں لیکن تاریخ نے بہت کم واقعات کو اپنے دامن میں ٹھیک سے جگہ دی ہے۔ واقعہ کربلا ان اہم ترین اور گنے چنے واقعات میں سے ایک ہے جنہیں تاریخ میں شہ سرخی کی حیثیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ زمانے کی گرد کربلا کے نقوش کو دھندلا کرنے میں ناکام رہی ہے چنانچہ جیسے ہی ماہ محرم الحرام کا آغاز ہوتاہے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی المناک شہادت اور آپ کے اصحاب کی جاں نثاری کے قصے لوگوں کی زبانوں آنے لگتےہیں اور ماہ محرم الحرام کے ختم کے بعد تک باقی رہتےہیں، زبان خلق کو اگر نقارۂ خدا سمجھاجائے تو کہاجاسکتاہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعے سے دنیا بھر کے انسانوں کی بے پناہ دلچسپی مشیت ایزدی کے تحت ہے، جس میں بہت سی مصلحتیں اور اسباق کے پوشیدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’حضرت حسینؓ اور ان کے اصحاب کی مظلومانہ درد انگیز شہادت کا واقعہ کچھ ایسا نہیں ہے کہ اسے بھلایاجاسکے، نہ صرف مسلمان بلکہ ہرانسان اپنے دل میں اس سے ایک درد محسوس کرنے پر مجبور ہے اور اس میں اہل نظر کےلئے بہت سی عبرتیں اور نصائح ہیں‘‘۔( اسوۂ حسینی یعنی شہیدِکربلا، ص: 9)

 

یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ محرم الحرام کی اہمیت واقعہ کربلا کی بنیاد پر نہیں؛ بلکہ روز اول سے ہی تسلیم شدہ ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ واقعہ کربلا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ واقعۂ کربلا کے اس ماہ میں وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے اس ماہ کی اہمیت مزید لوگوں کے دلوں میں جاگزیں ہوگئی ہے جس کی پشت پر گرچہ براہ راست قرآن و سنت کے دلائل نہیں لیکن حبِ اہل بیت کی رمق ضرور موجود ہے۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ لوگوں کے اہل بیت سے محبت کے اظہار کے طریقے شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہیں؛ لیکن اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیاہے کہ ہم آہنگ بنانے کی کارگرمحنتیں نہ ہوئی ہیں اور نہ ہورہی ہیں، نتیجتاً جوواقعہ اپنے دامن میں سیکڑوں اسباق اورنصائح رکھتاہے، وہ آج افراط و تفریط کے ساتھ ساتھ بدعات و خرافات کا ایک ایسا معجون بن کررہ گیاہے، جس میں عقیدت حسین کے نام پر ہرطرح کی بدتمیزیوں کی گنجائش موجود ہے۔ العیاذ باللہ۔ وہیں دوسری طرف یہ بھی کم بڑا المیہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ یزید کو ہیرو بناکرپیش کرنے کو عبادت خیال کرتےہیں اور یزید کو اس حدیث کا مصداق سمجھتے ہیں، جس میں قیصر روم کے شہر پر سب سے پہلے حملہ کرنے والوں کے لئے مغفرت کا وعدہ موجود ہے، یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ یزید سے قبل بھی قیصر روم کے شہر پر حملےہوچکےتھے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ جس شہر پر حملہ کرنے والوں کے لیے مغفرت کا وعدہ موجود ہو اس کےلئے عہد صحابہ میں کسی نے کوشش نہ کی ہو، وہ لوگ یقینا غلطی پر ہیں جو یزید کو بے گناہ ثابت کرنے کے چکر میں نواسۂ رسول کے دامن کو داغ دار کرنے کی جسارت کرتے ہیں، سچ یہ تو یہ ہے کہ یزید کے جرائم کی لمبی فہرست سے اس وقت بھی دنیا بڑی حدتک آگاہ تھی، اسی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد جب یزید باضابطہ تخت خلافت پر بیٹھا تو صحابۂ کرامؓ میں اختلاف ہوگیا کہ ایک فاسق ترین شخص کی بیعت کے سلسلے میں کیا رویہ اختیار کیاجائے؟ صحابۂ کرام کی ایک جماعت یزید کے خلاف خروج کی حامی تھی، جبکہ دوسری جماعت خروج کو درست نہیں سمجھتی تھی؛ اس لئے نہیں کہ یزید کوئی نیک انسان تھا؛ بلکہ اس لئے کہ خروج کے نتیجے میں قتل و قتال کابازار گرم ہونے کا خطرہ نظرآرہاتھا، دوسری طرف یزید نے اسلامی ریاست کا مقصد بدل کررکھ دیاتھا اوراس نے دین کے بنیادی ڈھانچوں کوکمزور کرنے کی کوششیں شروع کردی تھی جس کے نتیجے میں خیر کی جگہ شر، روشنی کی جگہ تاریکی اور عدل و انصاف کی جگہ ظلم و ناانصافی نے لے لی تھی۔ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ بیعت یزید پررضامند ہوجاتے، تو بلاشبہ انہیں دنیوی آسائشیں بہت مل جاتیں؛لیکن یزید کے جرائم کو وجہ جواز مل جاتی اور آپ کو اپنے نانا جان کے لائے ہوئے دین کو مٹتا ہوادیکھ کر خاموش رہناپڑتا؛ اس لئے آپ نے بیعت سے نہ صرف انکارکیا؛ بلکہ اپنے انکار پر چٹان کی طرح ڈٹ گئے، یہا‍ں تک کہ میدان کربلا میں بیعت یزید یا جان کی قربانی کے علاوہ کوئی تیسری راہ نظر نہیں آئی، تو آپ نے اپنےمخلص ترین احباب و اقربا کےساتھ جان کی قربانی دےدی؛لیکن بیعت یزید پررضامند نہیں ہوئے اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی ایسی شاندار اور قابل فخر تاریخ چھوڑگئے جس کی مثال کبھی پیش نہیں کی جاسکتی ہے:

جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی

کٹی ہے برسرِ میداں مگر جھکی تو نہیں

(نامعلوم)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خطابات اور خطوط کے مطالعے سے جنگ کربلاکے جومقاصد واضح ہوتے ہیں، انہیں اگر ایک جملے میں بیان کیاجائے تو کہاجاسکتاہے کہ جنگ کربلا کا مقصد دین کی عملی سرفرازی ہی تھی۔ جولوگ واقعۂ کربلا کو تاج و تخت یا یزید سے حسین رضی اللہ عنہ ذاتی رنجش کی جنگ خیال کرتے ہیں، وہ نہ صرف قلت مطالعہ کے شکار ہیں بلکہ جنت کے نوجوانوں کے سردار کی پرورش و پرداخت پر سوالیہ نشان کھڑاکرتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر بالواسطہ تنقیدکرتےہیں، جہاں پہنچ کراپنے ایمان کی خیر منانے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہتا، جنہیں ان باتوں پر یقین نہیں ہے، انہیں قاتلانِ حسین کے انجام کا مطالعہ ضرور کرناچاہیے جس سے نہ صرف مقام شبیری کااندازہ ہوگا؛ بلکہ شکست کے باوجود حسین اور حسینیت کے سرخرو ہونے کا راز بھی معلوم ہوجائے گا:

 

حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

(علامہ اقبال)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے لیکن اپنے ماننے والوں کے لئے بے ایک واضح نظریہ بے شمار نصیحتیں اور سینکڑوں اسباق چھوڑ گئے جو قیامت تک کے انسانوں کےلیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں

آپ نے عملی طور پر امت مسلمہ کو ایک طرف سخت ترین حالات میں نماز قائم کرنے، خدا پر مکمل اعتماد کرنے، دنیوی مفادات کی خاطر ضمیر کو بیچنے سے روکنے کے اسباق سکھائے، تو وہیں دوسری طرف غلط کے خلاف ڈٹ جانے ضمیر کی آواز پرلبیک کہنے اور اسلام کے لئے انجام کی پرواہ کے بغیر سب کچھ کرگزرنے کے طریقے بھی سکھائے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ لوگوں نے حضرت حسین کے تذکرے کو زندہ رکھ کر ان کی تعلیمات کو یکسر ہی فراموش کردیا ہے،ورنہ سینہ کوبی، زنجیر زنی اور تعزیہ داری جیسی خرافات کا وجود نہ ہوتا، مفاد پرستی، انتشار و افتراق اور خوف کی جگہ ہمارے معاشرے میں ملت سے وفاداری، اتحاد و اتفاق اور عزم و ہمت کا بول بالاہوتا، جس کے نتیجے میں امت مسلمہ قعرِ مذلت میں گرنے کے بجائے عروج کے منازل طے کرہی ہوتی، لیکن آہ! حسین کے یاد کرنے والوں سے لیکر حسین کے نام پر محفلیں سجانے والوں اور حسین کے نام پر پیسے کمانے والوں تک نے حسینیت کو اپنے دل و دماغ سے مکمل محوکردیا ہے۔ غالبا اسی لئے اقبال شکوہ کناں نظرآتےہیں:

قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!

اگر لوگ شہادت حسین اور واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے اسباق کو عملی زندگی میں ڈھال لیں، تو آج بھی استبدادی فکر کے حامل گروہ اور ہر طرح کی ظالم طاقتیں خواہ وہ اسلامی لباس میں ملبوس ہی کیوں نہ ہوں، نہ صرف اہل ایمان سے خوف کھائیں گی؛ بلکہ شکست ان کا مقدر ہوگی اور اللہ تعالیٰ کسی مختار کو ضرور بھیجے گا جو ناانصافیوں کے خلاف ننگی تلوار بن کر ان کے چیتھڑے اڑادے گا بقول جوش ملیح آبادی:

کربلا اب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے

کربلا تخت کو تلووں سے مسل سکتی ہے

کربلا خار تو کیا آگ پہ چل سکتی ہے

کربلا وقت کے دھارے کو بدل سکتی ہے

کربلا قلعۂ فولاد ہے جراروں کا

کربلا نام ہے چلتی ہوئی تلواروں کا

خدا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تعلیمات پر ہم سبھوں کوچلنے کی توفیق عطا فرمائے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*