والدین کی ذمے داری ـ مولانا وحید الدین خان

اولاد کی تربیت کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وه اس کی اچھی تربیت کرے- (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 1952)

اس حدیث میں ادب حسن کا مطلب زندگی کا بہتر طریقہ ہے- بیٹا یا بیٹی بڑے ہونے کے بعد دنیا میں کس طرح رہیں کہ وه کامیاب ہوں، وه اپنے گھر اور اپنے سماج کا بوجھ (liability) نہ بنیں بلکہ اپنے گهر اور اپنے سماج کا سرمایہ (asset) بن جائیں-

والدین اپنے بچوں کو اگر لاڈ پیار (pampering) کریں تو انھوں نے بچوں کو سب سے برا تحفہ دیا- اور اگر والدین اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کا کامیاب طریقہ بتائیں، اور اس کے لیے ان کو تیار کریں تو انھوں نے اپنے بچوں کو بہترین تحفہ دیا- مثلا بچوں میں یہ مزاج بنانا کہ وه دوسروں کی شکایت کرنے سے بچیں- وه ہر معاملے میں اپنی غلطی تلاش کریں، وه اپنی غلطی تلاش کر کے اس کو درست کریں، اور اس طرح اپنے آپ کو بہتر انسان بنائیں- وه دنیا میں تواضع (modesty) کے مزاج کے ساتھ رہیں، نہ کہ فخر اور برتری کے مزاج کے ساتھ- زندگی میں ان کا اصول حیات یہ ہو کہ وه ہمیشہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرائیں، نہ کہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کریں- وه اپنے وقت اور اپنی توانائی کو صرف مفید کاموں میں لگائیں-

والدین کو چاہیے کہ وه بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر تم غلطی کرو تو اس کی قیمت تم کو خود ادا کرنا ہوگا- کوئی دوسرا شخص نہیں جو تمہاری غلطی کی قیمت ادا کرے- کبھی دوسروں کی شکایت نہ کرو- دوسروں کی شکایت کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے- ہمیشہ مثبت انداز سے سوچو، منفی سوچ سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچاؤ- بری عادتوں سے اس طرح ڈرو، جس طرح کوئی شخص سانپ بچھو سے ڈرتا ہے- والدین کو چاہیے کہ وه اپنی اولاد کو ڈیوٹی کانشس بنائیں، نہ کہ رائٹ کانشس-

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*