والدین کا ترغیبی عمل اور بچے-محمد اکرام

موجودہ عہد جدید ٹیکنالوجی اور ترقیات کا ہے۔ آج کے بچوں میں اخذ و اکتساب کی صلاحیت بہ نسبت پہلے کے بچوں کے بہت زیادہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے ٹیکنالوجی کا استعمال بہتر انداز میں کرتے ہیں اور ان سے بھرپورفائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ آج تقریباً ہر گھر میں ٹی وی، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ، اینڈرائڈ موبائل وغیرہ موجود ہیں۔ ان کے استعمال سے بچے جہاںاپنے اسکول کا کام پورا کرتے ہیں اور دنیا و جہان کی معلومات حاصل کرتے ہیں تو دوسری جانب کارٹون، گیمزاور ہر طرح کے تفریحی پروگرام سے بھی لطف اٹھاتے ہیں۔
موبائل تو بچو ں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے، ان کا استعمال تقریباً ہر عمر کے بچے کرتے ہیں۔کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تو ان کا استعمال مزید بڑھ گیا ہے، کیونکہ اسکول بند ہونے کے سبب بچوں کی پڑھائی کا ذریعہ بس یہی موبائل ہیں۔ کچھ بچے تو موبائل کا استعمال پڑھنے، لکھنے اور اپنے علم میں اضافے کے لیے کرتے ہیں مگر بہت سے بچے موبائل اور انٹرنیٹ کا بیجا استعمال بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں بچے کی صحیح رہنمائی، تعلیم و تربیت اور درست اخلاق و عادات کے تئیں والدین کی ذمے داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ضروری ہے کہ والدین ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات کے مابین فرق کو سمجھائیں اور اس کے بہتر استعمال سے ان کے کیریئر پر کس طرح کے مثبت اثرات نمایاں ہوں اس سے بھی واقف کرائیں کیونکہ بچے قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ولادت کے بعد بچے کا پہلا اسکول ماں کی گود ہی ہے، اس لیے بچہ وہی کچھ سیکھتا ہے جو ماں اسے سکھاتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی پانچ سال تک بچوں میں سیکھنے کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے، ایسے میں والدین کو خاص طور پر بچے کی نگہداشت کرنی چاہیے کیونکہ ہر والدین کا یہ خواب ہوتا ہے کہ ان کا بچہ آگے چل کر ڈاکٹر، انجینئروغیرہ بنے۔اس خواب میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں سب سے اہم کردار والدین کا ہی ہوتا ہے۔ اس لیے عموماً یہ دیکھا بھی گیا ہے کہ بعض والدین بچوں کے کیریئر اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے شروع سے ہی کوشاں نظر آتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ والدین کی کوششوں سے ہی بچے کو مستقبل کی مشکل راہ روشن نظر آسکتی ہے۔
موجودہ عہد میں والدین کو بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کی خاطر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ گھر، اسکول اور کھیل کود جیسے مقامات پر بچے کی یکساں نگہداشت ایک مشکل مرحلہ ہے۔ جو والدین پڑھے لکھے اور سمجھدار ہوتے ہیں وہ ان چیلنجز کا مقابلہ بخوبی کرپاتے ہیں، مگر بہت سے والدین کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں، جس کی بنا پر انھیں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس تعلق سے کچھ ضروری نکات کی طرف والدین کی توجہ بہت ضروری ہے۔ بنیادی امر یہ ہے کہ گھر میں بچے کو خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے، والدین اپنے بچوں میں کسی قسم کا امتیاز نہ برتیں، کچھ بچے بہت ذہین ہوتے ہیں تو کچھ کم، ان میں موازنے سے گریز کریں، اگر آپ کا بچہ ابھی اسکول جانے کی عمر کو نہیں پہنچا ہے اور آپ اسے گھر پر ہی تعلیم دے رہے ہیں تو بچے کو سمجھانے کے لیے ایسی کتابوں کا استعمال کریں جن میں تصاویر ہوں، کیونکہ تصاویر کے ذریعے بچوں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب بچے اسکول جانے لگیں، تو گھر واپسی کے وقت اسکول میں پڑھائے گئے اسباق کے بارے میں اور ان کے ہوم ورک اور اسائنمنٹ کے جانکاری حاصل کرنا بھی ضروری ہے، اگربچے کو کہیں دشواری پیش آرہی ہے تو اس کی رہنمائی کریں، بچے جب پانچویں یا چھٹی کلاس میں پہنچ جائیں تو انھیں اسکول میں ہونے والے پروگرام، مقابلوں اور کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائیں۔
جب بچے مڈل یا ہائی اسکول میں پہنچ جائیں تو انھیںان کے سبجیکٹ کے فائدے بتانا اور انھیں یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ اس موضوع کو اپنا کر وہ اپنے مستقبل کو کس طرح تابناک بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح بورڈ کے جب امتحانات قریب آئیں تو والدین بچوں پر پڑھائی کا زیادہ بوجھ نہ ڈالیں، حسب استطاعت انھیں پڑھنے کی تلقین کی جائے۔ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی مشکلات کو کم کرنے کی تدبیر اور امتحان میں اچھے رزلٹ لانے کے مثبت طریقے بتائے جائیں۔ کچھ بچے امتحان کے نام سے خوف کھاتے ہیں، والدین کو چاہیے کہ انھیں امتحان گاہ تک پہنچائیں اور ان کے دلوں سے خوف کو دور کریں۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے امتیازی نمبرات سے پاس ہوں، اچھے نمبرات کی خاطر چوری اور نقل کے نقصانات سے ضرور آگاہ کریں۔ اگر بچے کا رزلٹ ان کے مطابق نہ آئے تو بھی بچوں کو ڈانٹنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انھیں یہ نصیحت کرنی چاہیے کہ بیٹے دیکھو آپ کی کلاس میں جو بچے اچھے نمبرات سے پاس ہوئے ہیں، ان سے آپ مشورے کریں اور سیکھنے کی کوشش کریں۔ جب بچے گیارہویں کلاس میں پہنچ جائیں اور انھیں سبجیکٹ طے کرنے میں دشواری پیش آئے تو اس میں رہنمائی کریں۔ اگر سبجیکٹ کی مکمل جانکاری والدین کو بھی نہیں ہے تو کسی ماہر تعلیم سے مشورہ بہتر ہے۔ بارہویں کلاس کے اگزام سے پہلے بچوں کو اسکول اور یونیورسٹی کے فرق کو سمجھائیں اور بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر بارہویں میں آپ اچھے نمبرات لاتے ہیں تو آپ اپنی پسند کے سبجیکٹ خود چن سکتے ہیں۔
بارہویں کے بعد زیادہ تر یونیورسٹیز کے پروفیشنل کورسز میں داخلے کے لیے کمپی ٹیشن ضروری ہوتا ہے، ایسے میں والدین کو چاہیے کہ کمپی ٹیشن کی تیاری کے طریقے بتائیں اور اس راہ میں آنے والی دشواریوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ ان سب کے باوجود اگر بچہ کامیاب نہیں ہوپاتا اور ناکامی سے وہ اداس رہنے لگتا ہے تو والدین کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ بچے کو اداسی سے نکلنے کا راستہ بتائیں اور یہ تلقین کریں کہ بیٹا! اداس مت ہو، حوصلہ رکھو، راستے آپ کے لیے ابھی بند نہیں ہوئے ہیں،خوب محنت کرو، ان شاء اللہ آنے والا وقت آپ کاہوگا۔ اگر کسی کے والدین حکومت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں اور اپنے بچے کو اپنے جیسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن بیٹاان سب کے علاوہ کچھ اور ہی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے، تو ایسے میں والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو مجبور نہ کریں، انھیں ان کی پسند کی منزل طے کرنے میں ان کی مدد کریں۔
اسکول میں بچے کی بہتر تعلیم اور تربیت کی خاطر والدین کو ہمیشہ حساس اور بیدار رہنا چاہیے کیونکہ گھر میں صرف والدین بھائی بہن ہی ہوتے ہیں مگر اسکول میں ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں، ان میں کچھ اچھے ہوتے تو کچھ برے۔ ایسے میں والدین بچے میں غلط ماحول کے اثرات دیکھیں تو اس سے وجہ دریافت کریں، اوریہ سمجھائیں کہ بیٹا آپ غلط بچوں کے ماحول سے اجتناب برتیں، اچھے اور ذہین بچوںکی صحبت اختیار کریں۔کبھی کبھاروالدین خود اسکول جائیں، اسکول میں بچے کی حاضری، کلاس میں پڑھائی، استاد کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی، اور اسکول سے متعلق دیگر سرگرمیوں کی جانکاری استاد سے حاصل کریں، اگر استاد کی طرف سے کوئی شکایت ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ اسکول میں PTAجیسے پروگرام میں والدین ہر حال میں شریک رہیں۔
تعلیم کے ساتھ بچوں کے لیے کھیل کود اور تفریح بھی ضروری ہے کہ اس سے ذہن تازہ اور جسم صحت مند اور توانا رہتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کھیل کود سے نہ روکیں، بلکہ اگر ان کے پاس وقت ہے تو انھیں خود پارک میں لے کر جائیں اور انھیں کھیل کود کا مزہ لینے دیں۔لیکن موجودہ دور میں والدین اور بچے دونوں کے پاس وقت کی کمی ہے۔ ابو صبح سویرے آفس یا تجارت کے لیے نکل جاتے ہیں پھر شام یا رات کو ہی گھر واپس ہوتے ہیں۔ اسی طرح بچے بھی صبح سویرے اسکول پہنچ جاتے ہیں۔ دوپہر اسکول سے آنے کے بعد ٹیوشن یا کوچنگ کلاسز پر چلے جاتے ہیں۔ اپنے اپنے کام سے دونوں اس قدر تھک جاتے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے کی ذمے داریوں کا احساس ہی نہیںہوتا۔ بعض گھروں میں تو ماں باپ دونوں ملازمت کرتے ہیں۔ ایسے میں بچے خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، اور ان کے مزاج میں چڑچڑا پن آجاتا ہے۔ ایسے میں والدین خاص کر باپ کو چاہیے کہ کام سے فراغت کے بعد گھر پہنچنے پر بچوں سے حال چال دریافت کریں، ان کے ساتھ بات چیت کریں، اپنے ساتھ بٹھا کر کوئی تفریحی پروگرام بھی دکھائیں، اور اس کے متعلق اس سے سوالات بھی کریں۔
ذہنی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے چھٹیوں کے اوقات بچوں کے ساتھ ہی گزاریں، تفریح کے دوران بچے کی ذہنی سطح کی آزمائش کے لیے آپ ریاضی، سائنس اور سماجی علوم جیسے سبجیکٹ سے سوالات بھی کریں، اور ان موضوعات کے فائدے بھی سمجھائیں۔ سائنس کے میدان میں آپ آسمانی اجسام جیسے سورج، چاند، ستارے کی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں واقف کرائیں، بچے کو اپنی حفاظت کے لیے طوفان،آگ، زلزلہ جیسے آفات کے بچنے کے طریقے بتائیں۔کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل، انٹرنیٹ کے استعمال کے فوائد سے آگاہ کریں، ساتھ ہی ان کے غلط استعمال سے کیرئیر اور صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کا بھی ذکر کریں۔ یہ تمام خوبیاں ایک بہتر ماپ باپ کے اندر ہی پائی جاتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ اپنے بچے کا مستقبل روشن اور تابناک دیکھنا چاہتے ہیں، توآپ کو اپنی زندگی بچوں کے لیے وقف کرنی ہوگی کیونکہ بچہ آپ کو صرف باپ کی حیثیت سے جانتا ہے، اسے آپ کے عہدے اور رتبے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ ان کے حوصلے کو ٹوٹنے نہ دیں اور انھیں یہ احساس دلائیں کہ بچو! ہمیشہ ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس موقعے پر مجھے جون ایلیا کی بیٹی فینانہ فرنام کا لکھا ہوا مضمون ’جون ایلیا: تصویر کا دوسرا رخ‘ یاد آگیا جسے انھوں نے اپنے باپ کی انیسویں برسی کے موقعے پر لکھا تھا۔ اس مضمون میں ایک باپ کی اپنے بچوں کے تئیں کیا ذمے داریاں ہوتی ہیں اس کا احساس دلایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ بچے کا اپنے باپ سے جو جذباتی رشتہ ہوتا ہے اس کی قدرباپ کو بھی کرنی چاہیے کیونکہ وہ اپنی زندگی میں کتنے بھی بڑے منصب پر فائز ہوں وہ اپنے بچوں کے لیے صرف باپ ہوتے ہیں۔ اس مضمون کا یہ اقتباس بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کریں:
’’میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ابو کے مداح ابو کے بچوں سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہم ابو کو سرکار ، مرشد جون ایلیا سمجھیں ہم ان کے چاہنے والوں کو کیسے سمجھائیں کہ ہمارے لیے وہ فقط باپ تھے،ہمیں ان سے صرف محبت اور شفقت چاہیے تھی، ایک اولاد اپنے باپ سے اتنا تو چاہ ہی سکتی ہے، باپ شاہ ہو یا گدا، اولاد کے لیے صرف باپ ہوتا ہے؟ ہم تینوں بھی صرف اپنے باپ سے ان کی محبت چاہتے تھے۔‘‘ (قندیل ڈاٹ کام، 9 نومبر 2021)
موجودہ عہد میں بچوں کے تعلق سے والدین کی سوچ میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے والدین کوچاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے کوئی ایسا عمل نہ کریں جس کے منفی اثرات بچوں پر پڑیں۔ کبھی کبھار بچوں کے ساتھ دوستانہ برتاؤ بھی ضروری ہے، کہ اس طرح کے برتاؤ سے بچے اور والدین دونوں ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔
پرانے زمانے میں والدین بچوں کے تعلق سے بہت حساس رہتے تھے، ان کے ہر عمل پر والدین کی کڑی نظر رہتی تھی۔ گاؤں میں تو یہ بھی چیزیں دیکھنے میں آتی تھیں کہ بلا ضرورت مغرب کے بعد بچے گھر سے باہر جانے کی جرأت بھی نہیں کرسکتے تھے۔اگر کوئی بچہ بلا ضرورت رات کے اندھیرے میں گھر سے باہر ٹہلتا گھومتا پایا جاتا تو اس کی سخت سرزنش کی جاتی اور اس سے توبہ یا عہد کرایا جاتا کہ اس طرح کا عمل دوبارہ سرزد نہ ہو۔گویا والدین بچوں کے عادات و اطوار کو سدھارنے کے لیے برابر کوشش کرتے رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے والدین کی عزت کے ساتھ ان کا ادب و احترام کرتے تھے، ہمیشہ یہ خیال رکھتے کہ میری کسی بات یا کسی عمل سے والدین کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ بعض دفعہ تو ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اگر ابو گھر کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں تو بچے ان کے سامنے سے گزرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے، کہ کہیں یہ سوال نہ کرلیا جائے کہ کہاں جارہے ہو؟
پیارے بچو! والدین کی پوری زندگی اپنے بچوں کے لیے وقف ہوتی ہے۔ ان کی بھاگ دوڑ آپ کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ وہ ہر پل بس آپ کے لیے جیتے ہیں اور آپ ہی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس لیے پیارے بچو! آپ کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ اپنے والدین کے احسانات کو سمجھیں، ان کے ہر اچھے مشورے کو اپنے ذہن میں محفوظ کرلیں، ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے آپ کبھی ناراض نہ ہوں، ان کے کہنے کے مطابق ہی اپنا راستہ متعین کریں، کیونکہ والدین کے بتائے ہوئے راستے ہمارے لیے کامیابی کا زینہ ثابت ہوں گے۔ والدین کی باتوں پر عمل کرکے ان شاء اللہ آپ ہمیشہ خوش رہیں گے اور سکون محسوس کریں گے۔
والدین اور بچے، دونوں نئے سال میں یہ عہد کریں کہ ہم اپنی اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں گے اور اسے نبھانے کی حتی الامکان کوشش کریں گے، اسی میں دونوں کے لیے بھلائی اور کامیابی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*