والد کی یاد میں ـ ندا فاضلی

تمہاری قبر پر
میں فاتحہ پڑهنے نہیں آیا
مجهے معلوم تها
تم مر نہیں سکتے
تمہاری موت کی
سچی خبر جس نے اڑائی تھی
وه جھوٹا تھا

وہ تم کب تھے
کوئ سوکھا ہوا پتہ
ہوا سے مل کے ٹوٹا تها

میری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہیں اب تک
تمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیں
بدن میں میرے جتنا بھی لہو ہے وہ
تمہاری لغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہے
میری آواز میں چھپ کر تمہارا ذہن رہتا ہے

مری بیماریوں میں تم
مری لاچاریوں میں تم

تمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہے
وہ جھوٹا ہے
تمہاری قبر میں، میں دفن ہوں
تم مجھ میں زندہ ہو
کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑهنے چلے آنا!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*