وحیدالدین ، وحیدالعصر ـ نایاب حسن

مولانا وحیدالدین خان کو میں نے پہلی بار اپنی زندگی کے اس مرحلے میں پڑھا، جب بعض ذاتی سانحات کی وجہ سے شدید کرب و الم سے دوچار تھا اور کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کشتیِ حیات کس کنارے لگے گی ـ ان کی کتابیں "رازِ حیات” اور "تعمیرِ حیات” میرے لیے کرب کشا اور نفسیاتی سکون، ذہنی اطمینان اور قلبی انشراح کا ذریعہ ثابت ہوئیں اور ان کتابوں کو میں نے بار بار پڑھا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے ان کی کئی کتابیں پڑھیں، ان کے ملکی و غیر ملکی سفرنامے، ہندپاک ڈائری، تعبیر کی غلطی، اظہارِ دین، کتابِ معرفت اور دیگر کتابیں، الرسالہ میں ان کے مضامین، ادھر ادھر شائع ہونے والی ان کی تحریریں۔ خالص مذہبی مسائل پر ان کے بیشتر دلائل اپنی تمام تر قوت کے باوجود اپیل نہ کرسکے،مگر زندگی کے حقائق و احوال پر سادہ و جاذب اسلوب میں کیے گئے ان کے تبصرے،ان کی رہنمایانہ گفتگو ئیں بے پناہ پسند آئیں اورحقیقی زندگی میں ان سے استفادے کی بھی کوشش کی۔ ان کے اسلوب میں ایک بانکپن تھا اور اندازِ تحریر میں بلا کی کشش، وہ لکھتے نہیں تھے، اپنی بات کو قاری کے دل کی گہرائیوں میں اتارنے کا ہنر جانتے تھے، ایسی سادگی کے ساتھ ایسی سحر انگیز تحریریں لکھنے والا اردو زبان میں شاید ہی کوئی اور لکھاری گزرا ہو۔
ان کا مخصوص فکری مکتب تھا، جس کے زیرِ.اثر بعض مسلماتِ دین کے تئیں ان کے نظریے میں تفرد ہوتا،جو سب کے لیے قابلِ قبول نہ ہوتا،مگر انسانی زندگی کے انفراد ی و اجتماعی پہلووں پر ان کی نگاہ بڑی وسیع و عمیق تھی،وہ حالات کے تجزیے کی نہایت غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے، چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے نتائج نکالنے میں طاق تھے،ان کا زورِ بیان اِس دور میں منفرد تھا اور ان کی قوتِ استدلال کا جواب نہیں تھا،وہ اپنی طرح کے واقعی وحیدِ عصر مفکر تھے اور یکتاے زمانہ دانشور۔ ان کی بعض متفرد آرا کی وجہ سے جمہورِ اسلامیانِ ہند نے ان سے صراحتاً اختلاف کیا اور ان کے ایمان و اسلام پر بھی سوالات کھڑے کیے گئے،مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا و رسول پر ان کا ایمان غیر متزلزل تھا اور اپنی مسلمانی کے اظہار میں دنیا کے کسی بھی اسٹیج پر انھیں کبھی کوئی باک نہیں محسوس ہوا۔اللہ نے انھیں بے پناہ مقبولیتوں سے نوازا اور ہندوستان سے لے کر یورپ کے دور دراز ملکوں تک ان کے دورے ہوئے،مگر روے زمین کے ہر خطے اور ہرگوشے میں وہ اپنی عالمانہ شان اور قلندرانہ وقار کے ساتھ پہنچے۔انھوں نے دینِ اسلام کی عصری تعبیر و تشریح کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنی حد تک پوری زندگی اس ضرورت کی تکمیل کی کوشش کی۔وہ سماج کی صالح تعمیر و تشکیل کے لیے فرد کی تعمیر کو ضروری قرار دیتے تھے اور فرد کی تعمیر کے اجزا و عناصر وہ قرآن و حدیث،اسلامی مآخذ اور دنیا بھر کی ترقی یافتہ قوموں کے واقعات و احوال سے تلاش کرتے تھے۔مولانا وحید الدین خان ایک فرد نہیں تھے،ایک ادارہ تھے،ایک انجمن تھے،ایک اکیڈمی تھے؛بلکہ علم و نظر اور فکر و دانش کی پوری ایک کائنات تھے۔
ان کے افکار کے ایک حصے سے دیانت دارانہ اختلاف کے امکان کے باوجود اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں انھوں نے اسلام کی عصری ترجمانی کا فریضہ جس تندہی،بصیرت اور جامعیت کے ساتھ انجام دیا،اس میں ان کا کوئی شریک و سہیم نہیں۔انھوں نے موجودہ دور کی ہوش ربا ترقیات اور ہر لمحہ بدلتے مذہبی رجحانات و نظریات کے سیلِ بلاخیز میں پوری قوت کے ساتھ اسلام کی دائمی حقانیت پر دلائل و شواہد کا ذخیرہ اکٹھا کیا،سیرتِ پاک کے عملی انقلابی پہلووں کو نئے ،شاداب،زندہ و توانا اسلوب میں پیش کیا،جدید اذہان کے فہم و ادراک کو اپیل کرنے والی کتابیں لکھیں اور انھیں دین سے قریب کیا،قرآن کریم کی تفسیر لکھی اور کئی زبانوں میں اس کے ترجمے شائع کروائے۔’’الرسالہ‘‘نامی مجلہ 1976میں نکالنا شروع کیا اور تاحینِ حیات اسے اس شان سے نکالتے رہے کہ ازاول تا آخر اس میں صرف انہی کی تحریریں شائع ہوا کرتی تھیں۔میرے خیال میں اردوزبان میں غالباً ایسا کوئی رسالہ آج تک نہیں نکلا،جس میں اتنے طویل عرصے تک صرف ایک شخص کے مضامین شائع ہوتے رہے ہوں اور وہ بھی دو تین ماہ کے وقفے سے نہیں؛بلکہ پابندی کے ساتھ ہر ماہ!مولا نا واقعی یکتاے عصر تھے اور ان کی عملی زندگی کے بیشتر پہلووں میں ان کی اس یکتائی کی جھلک نمایاں ہے۔اللہ نےانھیں بھرپور زندگی(2021-1925) عطا کی اور انھیں کام کرنے کے وسیع ترمواقع بھی مرحمت فرمائے۔اس طرح ان کی ذات حدیثِ پاک’’خير الناس مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ‘‘(لوگوں میں بہترین وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے اعمال اچھے ہوں) کی مصداق تھی۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کے زلات سے درگذر فرماتے ہوئے ان کے حسنات کو قبول فرمائے اور جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔آمین