وہاب اشرفی ذکر، فکر اور فن ـ امیر حمزہ

 

اردو ادب کے اہم، مشہور و چنندہ ناقدین و محققین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے تو ان میں وہاب اشر فی بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے بعد تنقید و تحقیق کا ارتقا نظر آتا ہے۔ نصف اول میں تخلیقی اصناف کا غلبہ تھا نصف ثانی میں تحقیق و تنقید نے اپنی جگہ بنانا شروع کی تو اس زمانے میں تخلیق کاروں کے شانہ بشانہ ناقدین نظر آنے لگے پھر آہستہ آہستہ ایسا وقت بھی آیا کہ ناقدین کا قدنمایاں ہوا اور تخلیق کار ناقدین کی سرپرستی و کر م فرمائی کے زیرنگیں آگئے۔ آٹھویں دہائی تک جدیدیت کے رجحان سے یہ سامنے آنے لگا اس کے بعد متنوع نظر یات کے سہارے فن پارو ں پر مختلف تنقید ی نظر یات سامنے آنے لگے، کوئی کسی کو مشرقیت کی کڑی سے جوڑتا،کوئی رجحانات کے سانچے میں تولتا تو کوئی مغربیت کے اسکیل سے ناپنے کی کوشش کرتا تھا۔ نثری فن پارہ تو ہندوستان میں ہی تخلیق پاتا تھا جس میں یہاں کے دیہاتوں کی کھری و کھردری زندگی، قصباتی زندگی اور شہروں میں دوڑتی بھاگتی زندگی ہی جی رہی ہوتی ہے اور شعری کائنات میں مشرقی افکار و اقدار وشعریات ہی نظرآتاہے لیکن ناقدین کی علمی بصیرت و تہہ داری نے فن پاروں کی تہہ داری کو کھولنا شروع کیا اور ان میں کثیر سے کثیر رنگ و معانی تلاش کر کے پیش کیے جانے لگے۔ شاعر ی کی تفہیم کے لیے کئی فلسفے متعارف ہوئے اور عام سی منظری، فطری و معاملاتی شاعری کی تنقید بھی کلاسیکی شاعری کے معیار سے بڑھ کر کی جانے لگی الغرض اس عہد میں تنقید نے اپنی ارتقا کا سنہرا دور طے کیا۔اگرچہ کچھ تعبیرات فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھ کر رہ گئیں ـ
اسی دور سے پروفیسر وہاب اشرفی کا تعلق ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی کے ساتھ ان ہی کے ہم وطنوں نے یہ تحدید کی ہوئی ہے کہ پر وفیسر کلیم الدین احمد کے بعد بہار میں اگر کوئی مکمل ناقد ہوا تو وہ پروفیسر وہاب اشر فی ہیں۔ اس تحدید کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں بلکہ اردو ادب میں انہوں نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں اور اردو ناقدین میں وہ صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔ ”تاریخ ادبیات عالم“ اور ”تاریخ ادب اردو‘‘ کے لیے وہ حکومتی اعزازات سے بھی سرفراز کیے گئے۔ انہوں نے بیش بہا کتابیں اور مضامین اردو دنیا کو دیے۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ اردو ادب میں جینے والے شخص نہیں تھے بلکہ وہ ایک انجمن تھے جس کے اندر ادبی ماحول مستقل اپنی نیرنگیوں کے ساتھ چمکتا و دمکتا رہا۔ رانچی یونی ورسٹی میں جب تک رہے تو وہاں پابندی سے ایک مجلہ نکالتے رہے جس میں نو آموز افراد کی مستقل تر بیت کی جاتی رہی، ریٹائر منٹ کے بعدانہوں نے سہ ماہی مباحثہ نکالا جو آخری عمر تک جاری رہا جس کے ۹۳ شمارے منظر عام پر آئے تھے۔ ان کے تنقیدی جہان پر نظرڈالیں تو تنقیدی مضامین کے مجموعے کم اور یک موضوعی کتابیں زیادہ نظر آتی ہیں اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہاب اشرفی صاحب کی علمیت کتنی زیادہ تھی کہ وہ کتابوں کے لانے میں زیادہ مطمئن ہوئے نہ کہ کسی اہم موضوع کو صرف ایک مضمون میں سمیٹ دیا جائے۔ خیر! اُن کے تمام احوال و آثار کو ڈاکٹر سرور حسین نے اپنی اس کتاب میں جمع کیا ہے۔ سرور صاحب کو میں ان افر اد میں شمار کرتا ہوں جن کی تحریروں میں مواد بہت ہوتا ہے ان کی تحریروں میں الجھاؤ نہیں ہوتا ہے بلکہ پیچیدہ مسائل کو بھی بخوبی اپنے سادہ سے اسلوب میں حل کرجاتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی جب وہ ”وہاب اشر فی بحیثیت نقاد“ تحریر کرتے ہیں تو تنقیدی نظریات اور فلسفیانہ موشگافیوں میں نہیں الجھتے ہیں بلکہ تعارف کے بعد وہاب اشرفی اپنی کیا رائے رکھتے ہیں اس کو بیان کرجاتے ہیں جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ جس فلسفہ نقد کو ہم سمجھتے ہی نہیں تھے اب اس پرتو میں سوال بھی قائم کرسکتے ہیں۔ الغرض انہوں نے وہاب فہمی کو بہت ہی بسط وتشریح سے اس کتاب میں پیش کیا ہے۔ چودہ عناوین کے تحت اس کتاب کومنقسم کیا ہے۔جس میں شروع کے چار عناوین تعارف، شخصیت، فکری سماجی و تہذیبی رویہ اور عصری حسیت، ان کی داخلی زندگی پر منحصر ہے جو ان کی عملی و تصنیفی زندگی میں بخوبی نظر آتا ہے۔ پانچواں عنوان بحیثیت نقادہے۔ جس میں مصنف نے ”قطب مشتر ی ایک جائزہ“ سے لے کر ”نسائی تحریک: مضمرات و ممکنات“تک بطور ناقد اپنی صلاحیتوں کو منوایااور ان پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ چھٹے عنوان میں وہاب اشرفی کی اہم کتابوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تقریباً ایک سو بیس صفحات پر پھیلا ہوا ہے جس میں ان کی بیس اہم کتابوں پر عمدہ تجزیہ پڑھنے کو ملتا ہے اور جو مضامین کے مجموعے ہیں ان میں ہر مضمون پر تجزیاتی تحریر ہے۔ اس کے بعد آٹھ عناوین میں بطور محققق، مؤرخ، افسانہ نگار،سوانح نگار، نثر ی اسلوب، تبصرہ نگار، بحیثیت صحافی اور بحیثیت شاعر وہاب اشرفی کا کیا مقام و مر تبہ ہے اس کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ الغرض وہاب اشر فی کے ذکر،فکر اور فن پر اس کتاب میں انہوں نے بھر پور گفتگو کی ہے جس سے ادب کے شیدائی بخوبی مستفید ہوسکتے ہیں۔