وفات کی خبر کے بعد…ـ شمیم اکرم رحمانی

کورونا ویکسین لینے کے بعد جب طبیعت مزید بگڑی تو امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی پٹنہ کے ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوئے، جہاں سے کبھی صحت کے بگڑنے کی تو کبھی رو بہ صحت ہونے کی خبریں موصول ہوتی تھیں، اس دوران ملک و بیرون ملک میں دعاؤں کا اہتمام ہورہا تھا، صدقے اور خیرات بھی دیے جارہے تھے اور مجموعی طور پر لوگ پر امید تھے کہ اس سے قبل وہ جس طرح مختلف طرح کی بیماریوں سے شفایاب ہوتے رہے ہیں اس بار بھی شفایاب ہوجائیں گے اور ان شاء اللہ ہماری سر پرستی بھی فرمائیں گے، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، جس کی خبر کسی کو نہیں تھی، چنانچہ امید و یاس کی اسی کشمکش میں 3/اپریل 2021 روز سنیچر کو تقریباً ڈھائی بجے یہ خبر ملی کہ حضرت امیر شریعت کا انتقال ہوگیا ہے تو زبان سے بے ساختہ "انا للہ وانا الیہ راجعون” نکلا اور آنکھوں سے آنسوؤں کے چند قطرے ٹپک پڑے:
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
رحمان فارس

حضرت امیر شریعت کے انتقال کی خبر نے دل کو ہلا کر رکھ دیا اور متعدد قسم کے سوالات ذہن و دماغ کو متاثر کرنے لگے-

اب کیا ہوگا؟ ملت کی ناخدائ کا فریضہ اتنی خوش اسلوبی سے کون سر انجام دے گا؟
امارت شرعیہ میں بیٹھ کر کون امارت کے چھوٹے بڑے مسائل پر بارہ بجے اور ایک بجے رات تک گفتگو کرے گا اور مسائل کی گتھیاں سلجھائےگا؟ آہ اب کس کی مجلس میں زندگی کی رمق محسوس کریں گے؟ اور کون مجھ جیسے متعدد نوآزمودہ افراد کی بھی حوصلہ افزائی کرےگا؟ نونہالان ملت کے لیےاپنی پراپرٹی کو کون فروخت کرے گا؟ ملت کے لئے جرات رندانہ کی سینکڑوں مثالیں اب ہم کس کی ذات میں تلاش کریں گے؟
نہ جانے ایسے کتنے سوالات تھے جو بار بار آنکھوں کونم کررہے تھے لیکن خود کو سنبھالنا بھی ضروری تھا چنانچہ خود کو سنبھال کر اپنے دفتر سے نکلا تو یوں محسوس ہوا جیسے سب لوگ وہی سوچ رہے ہیں جو میں سونچ رہاہوں، سب کی آنکھیں نم ہیں اور لب جنبش کر رہے ہیں، چونکہ لاش امارت شرعیہ آنے والی نہیں تھی اس لیے تجہیز و تکفین اور جنازے کی نماز میں شامل ہونے کے لئے لوگ خانقاہ رحمانی چلنے کا پروگرام بنارہے تھے، امارت شرعیہ سے کارکنان و ذمہ داران کی پوری ٹیم خانقاہ پہونچنا چاہ رہی تھی اسی دوران خبر ملی کہ ایک بس امارت کی طرف سے بھی جارہی ہے جس کا کرایہ نہیں لگے گا لیکن وہاں ازدحام تھا اس لیے میں نے بھی ایک چھوٹی گاڑی کرایے پر لی اور چند نوجوان افراد پر مشتمل ایک مختصر سے قافلے کے ہمراہ تقریبا دس بجے رات میں پھلواری شریف پٹنہ سے مونگیر کے لیے روانہ ہوا، کار خوب تیز چل رہی تھی اور تاریکیوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی جارہی تھی، ڈرائیور نے ہلکی ساؤنڈ کے ساتھ نصرت فتح علی خان کی آواز میں کلام اقبال بھی بجارکھا تھا جو ایمان میں تازگی پیدا کررہاتھا دوسری طرف یادوں کا ایک تسلسل تھا جو تھم نہیں رہا تھا، رفقاء سفر کی آنکھیں بھی نم تھیں کوئی کچھ بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، سب کے سب صرف جلد از جلد خانقاہ رحمانی پہونچنا چاہتے تھے، ڈرائیور صاحب کی دلچسپی بھی خانقاہ پہونچنے ہی میں تھی، چنانچہ سیاہ سڑکوں پر چلتی ہوئی تیز رفتار کار نے ہمیں 2/بجے رات میں خانقاہ رحمانی تک پہونچادیا جہاں سے ہم لوگ سب سے پہلے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے دیدار کےلیےگئے، لاش برآمدے پر رکھی ہوئی تھی اور شیشے کے تابوت میں تھی جس کے ارد گرد کچھ لوگ بیٹھ کر اور کچھ لوگ کھڑے ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے تسبیحات پڑھ رہے تھےاور غمناک آنکھوں سے زیارت کررہے تھے، میں نے بھی برداشت کرکے چہرہ کی زیارت کی اور چند منٹ وہاں کھڑے ہوکر سورۃ فاتحہ و سورہ اخلاص کی تلاوت کی پھر وہاں سے نکل کر قیام گاہ پہونچا اور سیدھا بستر پر پڑگیا لیکن نیند کہاں سے آتی؟ وہ تو پہلے سے غائب تھی
اس کے علاوہ کمرے میں آرام کررہے شخص کے خراٹے بھی تھے جو سونا اور جینا دونوں محال کرنے پر تلے ہوئے تھے، پھر بھی دس پندرہ منٹ کےلئے آنکھیں بند ہوئیں اور پھر اذان کے کچھ دیر کے بعد کھلی، میں نے جلدی سے وضو کیا اور وہیں نماز ادا کی پھر خانقاہ کے کیمپس میں آیا کچھ احباب اور اساتذہ سے ملاقات کی، علیک سلیک کے بعد سب کی آنکھیں بھر جارہی تھیں ہر شخص تعزیت کا مستحق تھا لیکن خود کو قابو کرکے تعزیت پیش کررہاتھا خانقاہ میں لاکھوں افراد کا ہجوم نظر آرہاتھا، لیکن خانقاہ کی حالت اس میکدے کی طرح تھی جہاں رندوں کا ازدحام ہے، مئے، جام، اور سبو موجو ہیں لیکن وہ ساقی نہیں ہے جس کے ہاتھ رندوں کا ہجوم پیناچاہتاہے ، بہر حال تھوڑی دیر کے بعد میں واپس اپنے کمرے میں لوٹا اور جنازے کی نماز کا انتظار کرنے لگا 11/بجے کا وقت طے ہواتھا، لیکن بعض وجوہات کے پیش نظر تقریباً سوا بارہ بجے جنازے کی نماز ہوسکی جنازے کے وقت لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمند نظر آرہاتھا، ملک کے مختلف حصوں سے لاکھوں لوگ اپنے مرشد کے جنازے میں شرکت کےلیے آئے ہوئے تھے، لب روڈ جو تعلیم گاہ کی عمارت ہے اسی عمارت کی چوتھی منزل پر مجھے جنازہ پڑھنے کا موقع ملاـ
امیرشریعت کے خلیفہ اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جناب مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے جنازے کی نماز پڑھائی جس کے بعد قبر پر مٹی ڈالنی تھی سو بڑی مشکل کے بعد ڈالی اور چند منٹوں ٹہرنے کے بعد میرا قافلہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے لیےنکلا اور پٹنہ پہنچ گیاـ
حضرت امیر شریعت کی ذات سے میری بھی بہت سی یادیں وابستہ ہیں جنہیں ان شاء اللہ کسی اور موقع پر قلمبند کروں گا، ابھی ان یادوں کے تذکرے کی ہمت نہیں ہورہی ہے، کلیجہ منھ کو آرہاہے اور قلم یکلخت خشک ہوتا جارہاہے:
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

ساحر لدھیانوی

دعا گو ہوں کہ اللہ حضرت کی مغفرت فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور ملت کو نعم البدل سے نوازےـ