وفا صدیقی کے نقوش سخن ـ ضیا فاروقی

چمنستان بھوپال شعر و ادب کے خوش رنگ پھولوں سے ہر دور میں مہکتا رہا ہے ۔خصوصا بیسویں صدی میں یہاں وہ شاعر پیدا ہوئے جنھوں نے عروس غزل کو اپنے مقدور بھر نہ صرف یہ کہ سجانے سنوارنے کا کام کیا بلکہ ادب کے عالمی منظر نامے پر اپنی ایک شناخت بھی قائم کی۔کسی فہرست سازی سے بچتے ہوئے اگر چند نام بھی لئے جائں تو کیف بھوپالی ۔تاج بھوپالی ۔شعری بھوپالی ۔وکیل بھوپالی۔اسد بھوپالی وغیرہ وہ اہل سخن ہیں جنھوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے عہد کو گلزار بنایا بلکہ وہ زمین بھی تیار کر گئے جس پر ایک نئی نسل آج بھی رنگ رنگ کے پھول کھلا رہی ہے۔اس فہرست میں وفا صدیقی کا نام بھی اہم ہے کہ انھوں نے نہ صرف یہ کہ متزکرہ بالا بزرگوں کی آنکھیں دیکھیں بلکہ ان کی محفلوں میں برابر سے شریک بھی رہے ۔ان کی پیدائش جنوری ۱۹۳۲ کی ہے یعنی وہ عمر کی نوئے دہائیاں گزار چکے ہیں لیکن ہمت اور حوصلہ کے اعتبار سے وہ آج بھی تازہ دم اور چاق و چوبند ہیں ۔ ان کے اب تک تین شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ نقش وفا ، تار پیرہن ،اور سارے جہاں سے اچھا اور اب یہ تازہ مجموعہ ” نقش تابندہ” اشاعت کے لئے تیار ہے ۔
وفا صدیقی صاحب صرف شاعر ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہیں۔ ان کا میدان عمل ہمیشہ خدمت خلق رہا ہے ۔ ملک و قوم کی بغیر کسی نام و نمود کے خاموشی سے خدمت کرنا ۔معاشرے کے دبے کچلے لوگوں کی مقدور بھر مدد کرنا اور نونیالان وطن کے لئے ہر طرح کی تعلیم کے لئے سرگرداں رہنا اس قلندر کا وطیرہ رہا پے ۔
جہاں تک ان کے شعری سروکار کا تعلق ہے وفا صدیقی نے جہاں تک وفا صدیقی کے شعری سروکار کا تعلق ہے تو انھوں نے نظمیں بھی کہیں اور غزلیں بھی۔ نعت و منقبت کے پھول بھی کھلائے اور مختلف حضرات کے تئیں نظرانۂ عقیدت بھی پیش کیا لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں اور غزل میں ہی انھوں نے غمِ جاناں اور غمِ دوراں کے نمونے پیش کیے ہیں۔ دیکھا جائے تو ادھر سو سال کے عرصے میں اردو شاعری خصوصاً غزل نے اپنی لفظیات اور موضوعات کے حوالے سے جو وسعت اور ہمہ گیری نظر آتی ہے وہ یقیناً لائقِ ستائش ہے۔ وفا صاحب کی غزلوں کے موضوعات میں غمِ روزگار بھی ہے اور غمِ حیات بھی۔

جرس ہے نے صدائے سارباں ہے
یہ کیسے بے حسوں کا کارواں ہے

گلستاں میں بھی ہے زنداں کا موسم
جو غنچہ ہے وہ مصروفِ فغاں ہے

جو زخم بھر گئے تھے ہرے بھرے سے ہوگئے
کیسی عیادتیں مرا دم ساز کرگیا

اب سومناتِ دل کو سجاؤں میں کس لیے
محمود ہے نہ کوئی یہاں پر ایاز ہے

دام منہ مانگے ملیں گے پر سلیقہ شرط ہے
ہو پرانا مال تو رکھو نئے شوکیس میں

دل میں ہمسایوں کے دوریاں بس گئیں
قربتوں میں عجب فاصلہ ہوگیا

ہم کو ہر شخص سے محبت ہے
ہم تو ہر آدمی سے ملتے ہیں

نہ وہ وادی نہ وہ صحرا نہ وہ محمل،نہ وہ ناقہ
وفا کے عشق کے قصے ہیں بوسیدہ کتابوں میں

شکست و ریخت کی تفصیل ہم لکھیں تو کیا لکھیں
الجھ کر رہ گئے ہیں ہم حسابوں میں کتابوں میں

بارود کے رستے ہیں تو اسبابِ سفر میں
اچھا ہے کہ لوہے کے بدن باندھ کے نکلیں

وفا صدیقی کے یہ اشعار جہاں سہلِ ممتنع سے عبارت ہیں وہیں زندگی کے کیف و کم کا کا بھی ایک بسیط منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد کی حسیات کو جس اندازسے شعر کے قالب میں ڈھالا ہے وہ یقیناً ان کی مشاقی کا ثبوت ہیں۔ وفا صدیقی کی شاعری کا دوسرا رنگ وہ ہے جس میں حمد و نعت اور منقبت کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ مذہبی عقیدت کے اعتبار سے دیکھیں تو وفا صاحب کا سلسلہ ان بزرگوں سے ملتا ہے جن میں نواب صدیق حسن خاں سے لے کر شاہ ولی اللہ جیسے جید علما کے نام آتے ہیں۔ ان کی منظوم عقیدتیں جہاں دل و دماغ کو متاثر کرتی ہیں وہیں ایک پیغام بھی ان میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے سورہ فاتحہ کے جو مفاہیم نظم کیے ہیں اس کاایک اقتباس یہ بھی ہے۔

قلم چلتاہے کاغذ پر تو نام اللہ کا لے کر

بڑا ہی مہرباں ہے وہ نہیں اس کا کوئی ہمسر

سبھی تعریفیں اور سب خوبیاں اس ذات کو زیبا

جو ہے سارے جہاں والوں کا رب اور پالنے والا

بڑا ہی رحم دل ہے وہ بڑا ہی مہرباں ہے وہ

وہی ہے مالکِ روز جزا اور حکمراں ہے وہ

عبادت تیری ہی کرتے ہیں اور تجھی کو مانتے ہیں ہم

سوا تیرے کسی کو رب نہیں گردانتے ہیں ہم

مثالیں بہت سی ہیں لیکن یہ چند اشعار دے کر میں نے وفا صدیقی کی شاعری کے رنگ اور آہنگ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔