ودود ساجد: ’’عقائد‘‘ سے ’’انقلاب‘‘ تک ـ سہیل انجم

اردو صحافت اور علمائے کرام کا آپس میں چولی دامن کا رشتہ ہے۔ صحافت کے فروغ میں علماء کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اپنے اپنے دور میں ایک سے ایک ’’عالم صحافی‘‘ اس میدان میں ابھرے اور اپنے اپنے نقوشِ پا ثبت کرتے گئے۔ ایسے نقوش پا جو انمٹ ہیں، لازوال ہیں اور لافانی ہیں۔

مطلع صحافت پر عالم صحافیوں کی ایک کہکشاں جلوہ گر ہے اور اس کہکشاں کا ایک ایک ستارہ، ستارۂ امتیاز کا درجہ رکھتا ہے۔ مولوی محمد باقر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خاں، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا محمد عثمان فارقلیط، مولانا امداد صابری، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی، مولانا غلام رسول مہر، مولانا عبد المجید سالک، مولانا عبد الوحید صدیقی، مولانا ماہر القادری، مولانا عبد الباقی اور جانے کتنے علما ہیں جنھوں نے اردو صحافت کے گیسوئے تابدار کو مزید تابدار بنانے میں اپنے خون جگر کا نذرانہ پیش کیا۔

اُن علماء نے نہ صرف یہ کہ ظلم و نا انصافی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کو اپنا فرض منصبی سمجھا بلکہ انھوں نے صحافت کے رخ روشن کو مزید نکھارنے کے لیے اپنی زندگیاں تک داؤ پر لگا دیں۔ وہ خود موم بتی کی طرح جلتے رہے مگر صحافت کے کوچے کو تاریک نہیں ہونے دیا۔ قابل مبارکباد ہیں وہ صحافی جو ان پیش رو قائدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منزل کی جانب گامزن ہیں۔ قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ بھی جو ان کی تابندہ روایات کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور انھیں آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے میں جی جان سے مصروف ہیں۔

انھی قابل مبارکباد صحافیوں میں ایک نام جناب عبد الودود ساجد کا بھی ہے۔ یہ بھی عالم صحافیوں کی زنجیر کی ایک کڑی ہیں اور انھوں نے بھی قلم کو ظلم و نا انصافی کے خلاف ایک تیغ آبدار کی مانند استعمال کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ حق گوئی، بیباکی، برسوں کے تجربات، تحریر کی صلاحیت، صائب رائے قائم کرنے کی اہلیت اور اس رائے پر جمے رہنے کی جرأت و قوت اور زبان کے تئیں حساسیت کو اگر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو جو صورت گری ہوگی وہ ودود ساجد سے الگ نہیں ہوگی۔

آج جناب ودود ساجد شمالی ہند کے سب سے بڑے اردو روزنامہ ’’انقلاب نارتھ‘‘ کے مدیر ہیں۔ لیکن یہ مقام یوں ہی نہیں مل جاتا۔ قدرت ایسے مناصب طشت میں سجا کر کسی کو پیش نہیں کرتی۔ وہ پہلے آزماتی ہے۔ تجربہ کرتی ہے۔ آزمائشوں کی بھٹی میں جھونکتی ہے۔ آگ میں تپاتی ہے۔ اور جب وہ شخص آگ میں جل کر بھسم ہو جانے کے بجائے تپ کر کندن بن جاتا ہے تب کہیں جا کر ایسا اعزاز نصیب ہوتا ہے۔ کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے۔ گل گلزار وہی ہوتا ہے جو نہ صرف یہ کہ دانہ ہو بلکہ دانا و بینا بھی ہو۔ جناب ودود ساجد کو بھی یہ مرتبہ یوں ہی نہیں مل گیا۔ بلکہ برسوں کی ریاضت اور چلچلاتی دھوپ میں صحافت کی دشت نوردی اور اس مجاہدے میں اپنے تلووں کو لہو لہان کرنے کے شوق نے انھیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔۔ انہوں نے بہت سے ممالک کا سفر بھی کیا اور حکومتوں کے مہمان بھی رہے لیکن جب واپس آئے تو وہی لکھا جو دیکھا اور محسوس کیا تھا۔۔ ان ممالک میں خاص طور پر لیبیا’ فرانس’ تیونیشیا’ عراق’ اردن’ ترکی’ مصر اور امریکہ شامل ہیں ۔۔

ودود ساجد نے اپنی صحافت کا آغاز صرف 14سال کی عمرمیں 1982 میں اپنے وطن سہارنپور کے معیاری ہفت روزہ’’عقائد‘‘کی اداریہ نویسی سے کیا۔ 1984 سے ہفت روزہ ’’انڈین میسیج‘‘ میں لکھنا شروع کیا۔ اس کے بعد ان کا جذبہ انھیں دہلی جیسے صحافتی مرکز میں کھینچ لایا۔یہاں انھوں نے 1987 میں اردو روزنامہ ’’فیصل جدید‘‘ میں بطور پروف ریڈر چند ماہ کام کیا۔ اس کے بعد’’الجمعیۃ‘‘،’’شانتی مشن‘‘،’’سندیش واہک‘‘ اور پھر عالمی اردو کانفرنس کے ہفت روزہ ’’اردو مورچہ‘‘ جیسے اخباروں میں ڈٹ کر مورچہ سنبھالا اور اپنی صلاحیت و لیاقت کا لوہا منوایا۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے بعد 1990 میں انھیں ہفت روزہ ’’نئی دنیا‘‘ کا ایک بڑا پلیٹ فارم ملا۔ جہاں انھوں نے 1993 سے 1998 تک ایڈیٹر انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

بہتا ہوا پانی کچھ لمحے کے لیے ایک جگہ ٹھہر جائے تو ٹھہر جائے مستقل نہیں ٹھہر سکتا۔ بہنا اور اپنے راستے میں آنے والے تشنہ لبوں کو سیراب کرنا اس کی فطرت ہے۔ لہٰذا ودود ساجد نے ایک اور جست لگائی اور پھر 1998 میں روزنامہ ’’راشٹریہ سہارا‘‘ کے شعبۂ ادارت سے وابستہ ہو گئے۔ وہاں بحیثیت سب ایڈیٹر انھوں نے چھ سال تک خدمات انجام دیں اور ہفتہ وار ضمیمہ ’’دستاویز‘‘ کے گیسو سنوارے۔ بلا شبہ راشٹریہ سہارا کا پلیٹ فارم بھی ان کے لیے کامیابیوں کا زینہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد 2005 سے 2007 تک ہندی و اردو ہفت روزہ ’’ویوز ٹائمز‘‘کی آزادانہ ادارت کی اورشہرت کمائی۔

جیسا کہ ذکر کیا گیا صلاحیتیں ایک جگہ منجمد نہیں ہوتیں۔ وہ نئے نئے مقامات کی تلاش کرتی رہتی ہیں۔ لہٰذا اُس اخبار کی اشاعت کے تھم جانے کے بعد انہوں نے 2007 میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی کے صدر سراج الدین قریشی کے میڈیا مشیر کا منصب سنبھال لیا۔ اس منصب پر رہتے ہوئے انھوں نے اپنی اہلیت و روابط کی بنیاد پر سینٹر کے صدر کو علمی و ادبی حلقوں میں متعارف کرایا۔ انھوں نے 2021 تک کے اس 14سالہ دور میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ نہایت کامیابی سے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کی ورکشاپس، کورسز اورکوچنگ کا بندوبست کیا۔ قرآن فہمی کے کورسز بھی چلتے رہے اور سول سروس امتحانات کی تیاری بھی ہوتی رہی۔ جس کی بدولت ہزاروں نوجوان مستفید ہوئے۔ انھوں نے بحیثیت صحافی درجنوں سیاست دانوں اور شخصیات کے انٹرویوز کیے جن میں عراق کے صدر صدام حسین اور لیبیا کے صدر معمر قذافی بھی شامل ہیں۔

اگر کسی کا رشتہ بحیثیت صحافی قلم و قرطاس سے قائم ہو جائے تو ہزار مصروفیات کے با وجودوہ رشتہ تازندگی قائم رہتا ہے۔ ایک سچا صحافی ہمیشہ صحافی ہی رہتا ہے اور قارئین کی رہنمائی کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے۔چنانچہ سراج الدین قریشی کے میڈیا مشیر کا منصب سنبھالنے کے دوران بھی انھوں نے اپنے اندر کے صحافی کو سونے نہیں دیا۔ بلکہ اس پر غنودگی بھی طاری نہیں ہوئی۔ وہ اپنا کام کرتے رہے اور سوشل میڈیا پر ان کے بروقت اوربے لاگ تبصرے لاکھوں ناظرین تک پہنچتے رہے۔ اب انھیں روزنامہ انقلاب کا ایک مضبوط پلیٹ فارم مل گیا ہے جہاں سے اپنی بات دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ ایسے اعزازات اور مراتب سے سرفرازی میں کچھ ایسے نفوس کا بھی درپردہ ہاتھ ہوتا ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر جن کی دعائیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔ میری مراد والدین سے ہے۔

ودود ساجد ایک انتہائی فرشتہ صفت اور شریف النفس عالم دین قاری عبد الغفور درویش کے فرزند ہیں۔ ان سے مجھے بلی ماران دہلی کی اس مسجد میں شرف نیاز حاصل ہوا تھا جہاں وہ امام و خطیب تھے۔ ودود ساجد کی ابتدائی تعلیم ان کی ہی سرپرستی میں گھر پر ہوئی۔والد نے ان کو عربی فارسی میں پختہ کردیا۔ کم عمری میں حفظ قرآن کے بعد انھوں نے مظاہر علوم سہارنپور کے نامورعلماء سے علمی اور روحانی فیض حاصل کیا۔ انہوں نے دہلی آکر بھی تعلیم کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کیا۔۔ ان کا نسبی تعلق امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒسے ہے۔ ان کے نانا مجاہد آزادی حافظ رفیق احمد مرحوم قصبہ بہٹ کی ایک برگزیدہ شخصیت تھے۔ ان کی والدہ ماجدہ بھی نیک سیرت عابد وزاہد خاتون ہیں۔ چنانچہ ان کی ابتدائی تعلیم وتربیت علمیت اورصالحیت کے گہوارے میں ہوئی۔ بیشک اگر والدین کی دعائیں شامل حال نہ ہوں تو ایسی بلندیوں تک انسان کی پرواز ممکن نہیں۔ اب جبکہ وہ روزنامہ انقلاب نارتھ کے ایڈیٹر ہیں تو ہم ان سے کہیں گے:

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

اور پھر یہ کہ:
پھر باد بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر گل ہو، گل ہے تو گلستاں ہو
تو خاک کی مٹھی ہے، اجزا کی حرارت سے
برہم ہو، پریشاں ہو، وسعت میں بیاباں ہو

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*