وبائی دورمیں کیا ہوگا طلبا کا مستقبل؟-اے۔ آزادقاسمی

کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤاوروباکی دوسری لہر نے ان دنوں ملک عزیز میں کہرام مچارکھاہے،جس طرف دیکھیے ایک حشر برپا ہے۔ اپریل کے آغاز سے تاحال اس کی ہلاکت خیزی آئے دن نئی تاریخ رقم کررہی ہے۔ساتھ ہی ساتھ بلیک فنگس کی ایک نئی آفت خوف و دہشت کا نیا ماحول بنارہی ہے۔اس دوران جگہ جگہ سخت پابندیوں کے نفاذکی وجہ سے انسانی زندگی قید و بند کاشکار ہوگئی ہے۔ تمام طرح کی معاشی سرگرمیاں بھی ایک طرح سے تھم سی گئی ہیں۔ بڑے شہروں سے ایک بارپھر سے مزدورں کی گھر واپسی ہوچکی ہے۔ وائرس اس قدربھیانک رخ اپنائے گا،یہ کسی نے سوچابھی نہ تھا، ہم میں سے ہر ایک نئے تعلیمی سال اورنئے مالی سال سے تما م طرح کی سرگرمیاں معمول کے مطابق انجام دینے کی پلانگ کررہے تھے، مدارس سے رمضان المبارک کے معابعد نئے تعلیمی سلسلہ کے آغازسے متعلق اعلانات کیے جارہے تھے، اسی طرح عصری تعلیمی ادارے نئے سیشن سے جدید داخلے اور قواعد داخلہ کا اجرا کرنے میں لگے تھے،ہر ایک نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اس ناگہانی آفت خاتمہ کے قریب ہے۔مگریہ کیا……ہمارے وہم وگمان کے برخلاف وائرس تو پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور بھیانک روپ لے کر ہمارے سامنے آگیا،جب تک ہم اس وباکے بھیانک روپ کو بھانپتے، اس نے ہمارے درمیان سے بہت سی ایسی ایسی باکمال شخصیتوں کو ہم سے چھین لیا، جس کے تصورسے ہی ذہن ودماغ ماؤ ف ہونے لگتاہے۔
وائرس کے اس دوسری لہر سے ملک کی ایک بڑی آبادی بے حدمتاثرہوئی ہے۔ہر طرف ہاہا کارکی کیفیت رونماہے۔ مئی کے اس آخری عشرہ میں وائرس کی شدت میں معمولی کمی کے اشارہ مل رہے ہیں، لیکن اموات کاگراف دن بدن بڑھتاہی جارہاہے،جس سے بہ ظاہرماضی قریب میں چھٹکارامشکل دکھ رہا ہے، اس وائرس نے انسانی زندگی کی رہن سہن کے بہت سے طورطریقوں کو ایک دم سے بدل کررکھ دیا ہے۔ لوگ اس کی خوف سے آئے دن نت نئے پروگرام وضع کررہے ہیں، تاکہ زندگی کی گاڑی کو کسی طرح خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکے۔بظاہر اس وبانے انسانی طرززندگی کو پوری طرح سے متاثرکرکے رکھ دیا ہے،لیکن سب سے زیادہ اوربھیانک اثر ہمارے تعلیمی اداروں اور درس وتدریس کے نظام پرپڑاہے۔یوں تو پہلے سے ہی ملک کاتعلیمی نظام کو ئی زیادہ امیدافزانہیں تھا، اس کے اثرات سے خاص کر مدارس اسلامیہ اور دوردرازکے گاؤں اورقصبوں میں قائم وہ عصری ادارے بہت ہی زیادہ متاثرہ ہورہے ہیں، جہاں تعلیم کے حصول کا بنیادی ڈھانچہ پہلے سی ہی کسمپرسی اورجان کنی کے دورسے گزررہا تھا۔عصری تعلیم گاہوں کے وہ بچے جومڈڈے میل کے حصول کےلیے اسکول کارخ کرتے تھے، وہ بھی اب اسکول اورپرائمری مکتب سے پوری طرح کٹ کررہ گئے ہیں۔ بڑے شہروں میں موجود پرائمری اسکول،اپرپرائمری اسکول اورہائی اسکول بھی پوری طرح سے مقفل ہیں، یونیورسیٹیاں بھی بند پڑی ہیں۔ تعلیمی سال کے ضائع ہونے پر قابوپانے کےلیے یہ ادارے کسی نہ کسی حدتک جدید ٹکنالوجی اوردیگر برقی آلات زوم وغیرہ کے سہارے بیش قیمتی ایک اورسال کو ضیاع سے بچانے کےلیے کوشاں ہیں، اور اس میں انہیں کسی حدتک کامیابی بھی مل رہی ہے،،لیکن ان کا کیا، جو ادارے گاؤں اورقصبات میں ہیں،وہاں تو صحیح سے بیٹھنے کےلیے ایک عدد تپائی بھی میسرنہیں ہے، ان اداروں میں جو اساتذہ تعلیم کےلیے مقررہیں، وہ عام طورپر ایڈہاک پرہیں یا پھر پنچائتی راج اسکیم کے تحت مقرر کیے گئے شکچامترہیں،جن کی واجبی بنیادی تعلیم پر بھی کئی بارسوالات کھڑے کیے جاچکے ہیں۔ بیسک اوربنیادی تعلیم کےلیے وزارت تعلیم سے جو اسٹینڈرڈوضع کئے گئے ہیں،اس میں ان سے جدیدبرقی آلات اور سوشل میڈیا کے توسط سے تعلیم دینے کی امید کرنے میں تحفظات ہیں، دوسری طرف جوبچے دیہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کے پاس رہنے کےلیے بنیادی سہولیات کے ساتھ ایک عدد مکان کا بھی فقدان ہے، اوپر سے اینڈرائڈفون کا ہونا ایک خواب جیسا ہے، جس کی تعبیر اس وبائی دورمیں ممکن نہیں۔
مختصریہ کہ کورونا کی دوسری لہر نے انسانی زندگی کے معمولات کو پوری طرح سے مفلوج کرکے رکھ دیا ہے،بہت سے ادارے اور کمپنیاں مارکیٹ کی مانگ پر کاروباری سرگرمیوں کوجدیدتقاضے سے ہم آہنگ کرکے نئے نئے زاویوں میں ترتیب دے رہے ہیں،کچھ خودکفیل اوربڑے ادارے اپنے ورکروں کو گھرسے کام کرنے کا پابندبنارہے ہیں،لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ تمام طرح کے آفس ورک گھرسے کرپاناممکن نہیں،کیونکہ دفتری سطح کی بنیادی سہولیات کاگھروں میں فقدان ایک عمومی مسئلہ ہے، جس کی طرف وقت رہتے توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ خاص کر ابتدائی تعلیم اور اس کے بنیادی ڈھانچہ کو پوری ایمانداری کے ساتھ بروئے کارلانے کی ضرورت ہے،، تاکہ بچوں کے تعلیمی سال اور اس کے کیئرکو کسی طرح بچایاجاسکے۔ الیکٹرانک میڈیا کے نامور صحافی پرسون واجپائی نے اپنے حالیہ یوٹیوب پروگرام میں تعلیم کے سلسلہ میں تجزیہ کرتے ہوئے جو کچھ کہاہے،وہ یقینا لائق توجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت تقریبا ڈیڑھ کروڑبچے بارہویں کے امتحان کے انتظارمیں ہیں، وہیں تقریبا بارہویں کے بعد میڈیکل یعنی کہ نیت کے امتحان کے منتظرقریب سولہ لاکھ بچے ہیں، انجینئرنگ کے امتحان کےلیے تقریبا دس لاکھ بچے راہ دتک رہے ہیں جو کہ ایک لحمہ فکریہ ہے۔ واجپائی کی تجزیاتی رپورٹ سے ایک اہم پہلویہ ابھرکرسامنے آیاہے کہ ملک میں 25سے 35سال تک کے طلبہ کی تعدادتقریبا اکیس کروڑسے زیادہ ہے۔ اسی طرح 15سے 25سال تک کے بچوں کی تعدادلگ بھگ بتیس کروڑہے۔یہ رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ اس وبانے ہمارے تعلیمی ڈھانچے کو کس بری سے طرح متاثرکرکے رکھ دیاہے۔
ایسی افسوسناک صورت حال میں تعلیمی اداروں کے منتظمین اور بنیادی تعلیم کے ماہرین خاص کر بیسک اور پرائمری ایجوکیشن پر گہری نظررکھنے والوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ وقت رہتے اس اہم مسئلہ کی طرف دھیان مرکوزکریں، کیونکہ وائرس کی آئے دن بدلتے ہوئے رخ سے یہ ظاہر ہے کہ یہ وائرس ماضی قریب میں ختم ہونے والا نہیں ہے،جس سے بچوں کے ایک اورقیمتی سال کوضائع ہونے سے بچایاجاسکے، مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے جو زیادہ ترگاؤں سے آتے ہیں،ان کےلیے یہ ایک بڑی آزمائش کی گھڑی ہے۔آن لائن تعلیم کو مدارس میں اگرپوری طرح اپنابھی لیاجاتاہے، تب بھی کماحقہ مدارس کے طلباء کے مسائل حل نہیں ہوپائیں گے،کیونکہ ان کےلیے دوردرازگاؤں میں نیٹ کی سہولیات کے ساتھ ساتھ بیک وقت نصابی کتابوں کا حصول بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جو ان علاقوں میں رہنے والے بچوں کیلئے بہت ہی مشکل ہے۔ آن لائن تعلیم سے کسب فیض اسی وقت کیا جاسکتاہے، جب کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ بچے بھی پوری طرح سے جدید برقی آلات سے لیس ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ طلباء کے سرپرست کا بھی ان آلات کی بنیادی معلومات سے آگاہی ضروری ہے۔ اب ایسے میں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں تعلیمی صورتحال کو وبائی دورمیں جاری رکھ پانے کے تعلق سے کیا رُخ اختیارکرتی ہیں اوروزارت تعلیم کی کیا گائڈلائن آتی ہے۔ موٹے طورپریہی کہا جاسکتا ہے کہ وباکی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،وہیں تعلیمی نظام بھی پوری طرح چوپٹ ہوکر رہ ہوگیا ہے، خاص کرمدارس اسلامیہ کے لیے یہ وقت بہت ہی صبرآزماثابت ہورہاہے، اللہ اپنے خاص فضل وکرم اورعنایت سے اس وباسے ہم سب کو نجات عطاء فرمائے اورمدارس اسلامیہ کی غیب سے حفاظت کاسامان مہیافرمائے،تاکہ ایمان واسلام کی حفاظت کے یہ مضبوط قلعے اپنی سابقہ نہج پرقائم ودائم رہ سکیں، اللہ ہی حامی وناصرہے۔