19 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

وبایاآبادی میں تخفیف کا مؤثر حربہ-محمد رحمٰن پاشا

کورونا وائرس کی وبا عام ہونے کے بعد سے اب تک چار مہینے گزر چکے، لیکن تاحال اس کے مؤثر علاج کے لیے دنیا بھر کی حکومتیں ویکسین یا دوا ایجاد نہیں کرسکی۔ کورونا وائرس سے اب تک 19,630 ہلاکتیں اور 4,36,024 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ وطن عزیز بھارت میں 562 سے زائد افراد متاثر ہیں اور کل دس افراد کی موت ہوچکی ہے۔ اس وبا کے خاتمے کے لیے ہنوز کوششیں جاری ہیں۔ اب بھی یہی کہا جارہا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین بنانے میں دو برس لگ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہر ڈاکٹرز اس وبا سے بچنے کے لیے اپنے اپنے گھروں ہی میں رہنے کی اپیل کررہے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اس وبا کا کارگر علاج جلد دریافت کر لیا جائے اور پوری انسانیت اس وبا سے محفوظ ہو جائے۔

انگریزی میں شائع ایک مضمون میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں۔ جن سےاتفاق بھی کیا جاسکتا ہے اور اختلاف بھی ممکن ہے۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ یہ وبا قدرتی ہو یا اسے بالارادہ پھیلایا جا رہا ہو،لیکن انسانوں کو بچانے کی سمت کوششیں جس طرح ہونی چاہئیں اس طرح حکومتوں کی جانب سے نہیں کی جارہی ہیں۔کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد بڑی عمر کے لوگوں کی ہے۔اسی سلسلے میں مضمون نگار نے دنیا بھر کے تمام انسانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن کی قوت مدافعت طاقت ور ہے، جن کی عمر پینتالیس برس کی حد پار نہ کی ہو یعنی وہ جوان یا ادھیڑ عمر کے ہوں۔ ان کا شمار کارکرد انسانی وسیلے ( productive human resource )میں ہوتاہے۔جو ایک لمبی مدت تک کسی نہ کسی کام میں آسکتاہے۔ جس سے بہت کچھ کام لیا جاسکتا ہے۔ جو فائدہ مند اور مؤثر ہوسکتے ہیں۔ اس کارکرد انسانی وسیلے میں بھی مضمون نگار نے انسانوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے:
1- وہ لوگ جو تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں، ہنر مند ہیں، نئی نئی تبدیلوں سے واقف ہیں، ٹکنالوجی پر مکمل گرفت رکھنے والے اور نئی ٹکنیکز کو معرض وجود میں لا سکتے ہیں۔
2- وہ لوگ جو جاہل اور ان پڑھ ہیں۔ ان لوگوں کو بڑے بڑے کارخانوں اور خام مال کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جو محنت مزدوری کے لائق ہیں۔ ایسے لوگوں کو نئی ٹکنالوجی کے استعمال کے لیے کچھ چیزیں سکھا کر استعمال کیا جاسکتا ہے یا ان مشنریزکے تحفظ کے لیے تعینات کیا جاسکتا ہے۔

مضمون نگار نے انسانوں کی دوسری قسم غیر کارکرد یا غیر منافع بخش انسانی وسائل ( non productive human resource ) کی بتائی ہے۔ جو طویل العمری کے دور سے گزر رہے ہیں۔ طبعی physically طور پر جن کی جانب سے کسی فائدے کی امید نہیں ہے۔ مضمون نگار کے مطابق ایسے ضعیف لوگ ترقی یافتہ ممالک کے لیے ‘ بوجھ ‘ ہیں۔ جن پر خواہ مخواہ ملکی وسائل کو صرف کیا جارہا ہے۔ معاشرے کو ان سے جتنا فائدہ پہنچنا چاہیے تھا؛ وہ پہنچ چکا اب ان سے کسی نفع کی توقع بھی کرنا بے کار ہے۔

اس طرح انسانوں کے درمیان خطِ تقسیم کھینچ کر مضمون نگار نے انسانوں کو دو مختلف خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ یہ صرف مضمون نگار کی ذہنی و فکری باتیں نہیں ہیں بلکہ زمینی سطح پر ترقی یافتہ اور متمدن کہے جانے والے ممالک کا یہی حال ہے۔ وہاں انسانوں کے ساتھ عملی طور پر ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ تاجرانہ ذہنیت نے انسانوں کے ساتھ بھی اشیا و خدمات کا سا رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کردیاہے۔ انسانوں کوبھی نفع و نقصان کی میزان میں تولا جا رہا ہے۔ جب کہ اسلام بزرگوں سے اچھا سلوک کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ان کا ادب کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ یہ بزرگ ہی تو ہیں جو نوجوانوں کی اول روز سے پرورش کرتے ہیں۔ انھیں صحت مند رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ دنیا میں نوجوان ہی نوجوان رہے تو بڑوں کی شفقت، ان کی محبت اور ان کی ہمدردی کہاں سے حاصل ہوگی؟ بڑے بزرگ زمانے کے سرد و گرم سے واقف رہتے ہیں۔ ان کے جسم میں قوتِ کارکردگی نہیں رہی تو کیا ہوا، ان کے پاس تو زندگی بھر کے تجربات ہوتے ہیں۔ جن سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس وبا ہے، بلا ہے یا قرب قیامت کی نشانی ہے۔ یہ انسانوں کے لیے امتحان ہے یا مصیبت ہے، چاہے کچھ بھی ہو لیکن اتنے دن گزرنے کے بعد بھی اس کا علاج دریافت نہ کیا جا سکا۔ یہ بات تشویش ناک ہے۔ ماضی میں بہت سی وباؤں اور متعدی امراض پر قابو پالیا گیا اور ان کا علاج بھی ڈھونڈ لیا گیا۔ کورونا کا رونا کب ختم ہوگا، اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment