’وباسے فائدہ اٹھانے کی کوشش،عوام پربوجھ ڈالناغلط ‘،لوکل ٹرینوں کا کرایہ بڑھانے پرراہل گاندھی نے گھیرا

نئی دہلی:مہنگائی کی مارہرطرف جاری ہے۔پٹرول،ڈیزل اورگیس ،پیاز،خوردنی اشیاء،خوردنی تیل سب کے دام بڑھ رہے ہیں۔لاک ڈائون کی مارسے دورچارعوام کی جیب پربری طرح بوجھ ڈالاگیاہے۔دوسری طرف پہلے ہی ریل کے کرائے میں اضافہ کیاگیا۔پٹنہ ،دہلی کی مگدھ ایکسپریس جس کاکرایہ سلیپراورتھری اے سی میں بالترتیب پانچ سواورتیرہ سو تھا،ابھی سات سواورسترہ سوہے۔جب کہ سمپرن کرانتی میں سواپانچ سواورتیرہ سوہے۔اس اندھادھنداضافے کی کوئی معقول دلیل نہیں ہے۔اب مختصرفاصلے کے لیے ریل کاسفرکریں گے تواس پربھی کرایہ بڑھادیاگیاہے۔ہندوستانی ریلوے نے مختصر فاصلے کے سفر پر کرایے میں اضافہ کیا ہے۔ کرایے میں اضافے کے پیچھے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ کوویڈ کی وباکی وجہ سے مختصر فاصلے والی ٹرینوں پر سوار نہ ہوں۔سوال یہ ہے کہ پھرلوگ کس چیزسے جائیں گے،پٹرول،ڈیزل پرپہلے ہی مارپڑی ہے۔بسوں اورپرائیوٹ گاڑیوں کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔جب کہ انتخابی ریلیوں میں لاکھوں کی غیرمحتاط بھیڑجمع کی جارہی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس وقت مختصرمسافت والی ٹرینوں کو میل ایکسپریس کے طور پر چلایا جارہا ہے۔ ریلوے کا استدلال ہے کہ جو شخص سفر سے گریز کرتا ہے اسے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرین کے کرایوں کو مہنگا کردیا گیا ہے۔ لیکن اس فیصلے سے مقامی مسافروں کی جیب دو سے تین گنا متاثر ہوگی ۔ اہم بات یہ ہے کہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مختصرفاصلے کے سفر پر ریلوے سے کرایے میں اضافے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایاہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کویڈ، تباہی میں آپ کی موقع سے فائدہ اٹھانے والی حکومت ہے۔ پٹرول-ڈیزل-گیس ٹرین کا کرایہ۔ متوسط طبقے کودھوکہ دیا۔ لوٹ مار نے جملے کی شان توڑ دی۔ریلوے کے ایک اعلیٰ عہدیدارنے حال ہی میں بتایا ہے کہ کوویڈ 19 کے تناظر میں مسافر ٹرینوں کے آپریشن میں کٹوتی اور صلاحیت سے کم سفر ہونے کی وجہ سے مغربی ریلوے کو سالانہ 5 ہزار کروڑکے محصولاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔