وبا کے چار سبق ـ مالک اشتر

 

معلوم انسانی تاریخ میں پیش آئے سب سے غیر معمولی واقعات میں سے ایک کے آپ اور ہم گواہ ٹھہرے۔ کورونا وبا ہمارے عہد کا سب سے بڑا واقعہ ہے جس نے دنیا پر ایسے اثرات چھوڑے ہیں جن کا نقش مٹنے میں مدتیں درکار ہوں گی۔ کس نے اندازہ کیا تھا کہ چین سے نکلا کھانسی بخار کرنے والا وائرس لاکھوں لوگوں کو نگل لے گا، کروڑوں لوگوں کو بیمار کر دے گا، بڑی بڑی معیشتیں چوپٹ ہو جائیں گی اور کروڑوں انسان بے روزگار ہوکر دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہو جائیں گے۔ پورے ایک برس موت کے گھنے کالے بادل یہاں سے وہاں تک برسے تب کہیں جاکر امید کے سورج نے ذرا سا منہ دکھانا شروع کیا ہے۔ سب کچھ ٹھیک رہا تو شائد دو تین ماہ میں آپ میں سے اکثر کے اندر وہ دوا اتر چکی ہوگی جس کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس وائرس سے انسانیت کو بچا لے گی۔ اب جبکہ موت کی آندھی ہلکی پڑنے لگی ہے اور دنیا بھر کے ماہرین کی سائنسی ریاضت کا صلہ ویکسینز کی شکل میں ملتا نظر آ رہا ہے تو کیوں نہ اس کا حساب کر لیا جائے کہ یہ وبا ہمیں کون سے سبق پڑھا گئی؟۔

وبا کا پہلا سبق انسان کے وجود کی Vulnerability کا اظہار ہے۔ زیر زمین موجودات سے لیکر خلاؤں تک کو تسخیر کر چکا انسان اپنے جسمانی وجود کے اعتبار سے بہت کمزور زمین پر کھڑا ہے۔ اپنی ذہنی قوت کے اعتبار سے انسان کی استعداد لامحدود ہے لیکن ظاہری جسم کی قوت اور استعداد کی اپنی حدود ہیں۔ زمین پر موجود دیگر مخلوقات پر انسان نے جو سبقت پائی ہے اس کی بنیاد انسان کی جسمانی طاقت نہیں بلکہ عقل اور تدبر ہیں۔ گویا وبا نے انسانوں کو سبق دے دیا کہ برتری ثابت کرنے کا راز زور بازو سے زیادہ ذہانت، علم اور ان دونوں کے مدبرانہ استعمال میں مضمر ہے۔

وبا کا دوسرا سبق ہر معاملے کو مذہب اور عقائد کی عینک لگا کر سمجھنے کی کوشش کا انکار ہے۔ یہ وبا بتا گئی کہ ہر ایک معاملے کے حل کے لئے صرف مذہب کی طرف رجوع کرنے کے تصور کی کچھ حدیں ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ جب وبا نے پاؤں پھیلانے شروع کئے تو سب کی طرح مذہبی طبقہ بھی اپنی تدابیر لے کر سامنے آیا۔ کسی نے کہا فلاں دعا پڑھو، کسی نے مذہبی مقامات کی طرف جانے کا مشورہ دیا اور کسی نے دوا یا احتیاط کے بجائے خالق کے حضور گڑگڑانے کو مسئلہ کا حل قرار دیا۔ وقت گذرنے پر پتہ چلا کہ یہ وبا ایک مادی مسئلہ ہے اور اس سے بچاؤ کی اگر کچھ تدابیر ہیں تو وہی ہیں جو مادی علوم کے ماہرین نے بتائی ہیں۔ اس معاملے میں مذہب پسندوں کا اضطراب یہ تھا کہ انسانی زندگی کو درپیش اتنے بڑے واقعے کا اگر کوئی حل مذہب نہ بتا سکا تو اس سے مذہب کی آفاقیت اور ہمہ گیر ہونے کے تصور پر حرف آئے گا اسی لئے مذہبی رہنماؤں نے کوئی نہ کوئی پڑیا ضرور پکڑا دینا مناسب جانا۔ وبا سبق دے گئی کہ ایسے مادی مسائل جن کا تعلق مذہبی بیانیہ سے نہیں ان پر مذہبی طبقے کو اپنی انا کی خاطر زبردستی کچھ نہ کچھ بولنے کے بجائے ایک جملہ کہ دینا چاہئے کہ اس مسئلہ کا تعلق ہم سے نہیں ہے۔

وبا کا تیسرا سبق اپنے وجود کو باقی رکھنے کی انسانی جد و جہد کا اعتراف ہے۔ اس زمین پر زندگی کی معلوم تاریخ کے مطابق یہاں وجود کی بقا کا ایک سیدھا سا اصول کارفرما رہا ہے۔ اس کے مطابق ہر ایک جاندار کے وجود کو فنا سے مسلسل نبردآزمائی کرنی ہے۔ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لینے کا حوصلہ اور وجود کو درپیش سنجیدہ خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔ یہ دونوں وہ کنجیاں ہیں جن کی وجہ سے انسان کا وجود باقی رہا ہے۔ اس وبا میں انسان کو محسوس ہو چکا تھا کہ یہ آفت کرہ ارض پر اس کے وجود کا مستقبل خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اس لئے وہ اپنی آزمودہ تراکیب کام میں لاتے ہوئے مصروف جہاد ہو گیا۔ کیا عام حالات میں اس بات کا تصور بھی کیا جا سکتا تھا کہ دنیا کی دو تہائی کے لگ بھگ آبادی خود کو غیر معینہ مدت کے لئے اپنے گھروں میں قید کر لے گی؟ لیکن یہ اس لئے ہوا کہ انسان جان گیا تھا کہ وہ اپنے نادیدہ دشمن سے بچنے کے لئے پہلی کوشش یہی کر سکتا ہے کہ دنیا کا وسیع کاروبار روک دیا جائے۔ یہ وہی رویہ ہے جو ہزاروں برس سے انسان اپنے وجود کو بچانے کے لئے اختیار کرتا آ رہا ہے۔ اس کے مطابق جب بات وجود کی بقا کی آ جائے تو سب کچھ فروعی ہو جاتا ہے اور نجات اسی میں ہے کہ اس وقت کی ضرورت کے مطابق خود کو ڈھال لیا جائے۔

وبا کا چوتھا سبق اس بات کی نشاندہی ہے کہ جس وقت انسانی وجود کے مٹ جانے کا خطرہ پیدا ہوا تب جن لوگوں نے آگے بڑھ کر خود کو انسانیت کی ڈھال بنا لیا وہ سچے مجاہد ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، اسپتالوں کا معاون عملہ اور دوا کی کھوج میں لگے ماہرین فنا کے مقابلے انسانی وجود کی سپر بن گئے۔ شرق و غرب میں کتنے ہی ڈاکٹر اور میڈیکل عملے کے لوگ وائرس متاثرین کا علاج کرتے کرتے جان سے گذر گئے۔ یقین رکھنا چاہئے کہ ہم سے زیادہ ان ڈاکٹروں کو پتہ تھا کہ انفیکٹیڈ شخص کے قریب جانے یا اسپتالوں کی بھیڑ میں گھس کر علاج کرنے میں زندگی سے ہاتھ دھونے کا کتنا سنگین اندیشہ ہے لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر اور ان کا معاون عملہ درحقیقت موت کے جبڑے میں گھس کر انسانوں کو بچانے میں لگ گئے۔ روزانہ کتنے ہی ڈاکٹروں کے علاج کرتے کرتے مر جانے کی خبریں آئیں لیکن کسی نے قدم واپس نہیں کھینچے۔

ڈاکٹروں کے استعمال میں آنے والی پی پی ای کٹ ایک بار اتارنے کے بعد ناکارہ ہو جاتی ہے اس لئے ایسے ممالک جہاں حفاظتی کٹ کم تھیں وہاں ڈاکٹروں نے بچوں کو پہنائے جانے والے ڈائپر باندھ لئے اور کئی کئی دن مسلسل کام کیا تاکہ ٹوائلٹ نہ جانا پڑے۔ وبا سبق دے گئی کہ یہ لوگ انسانیت کے مجاہد اور انسانیت کے شہدا ہیں۔ مرنے کے بعد کس کا کیا بنے گا یہ فیصلہ مذہب شناس حضرات کرتے رہیں لیکن انسانیت میں جب تک ایمانداری کی رمق باقی ہے وہ ان لوگوں کی قرض دار رہے گی جنہوں نے اپنی زندگی کو دوسروں کی جان کا فدیہ بنا دیا۔ بہت سے بھائی میڈیکل سائنس جیسی جدید تعلیم کو علم ہی نہیں مانتے اور مذہبیات کو ہی علم گردانتے ہیں۔ امید ہے ایسے احباب بھی اس کا اعتراف ضرور کریں گے کہ جب انسانیت کا وجود مٹنے کا خطرہ پیدا ہوا تو میڈیکل سائنس نے کیا کردار ادا کیا تھا؟۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*