وبا کے دور میں میڈیا کو پہلے سے زیادہ حساس ہونے کی ضرورت:ڈاکٹرشیخ عقیل احمد

قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام’وبائی دور میں اردو میڈیا کا کردار اور ذمہ داریاں‘کے عنوان سے آن لائن مذاکرہ،میڈیا سے وابستہ سرکردہ افراد کا اظہارِ خیال

نئی دہلی:ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا کووڈ-19 جیسی خطرناک وبا سے دوچار ہے اور لوگوں میں زبردست خوف و دہشت کا ماحول پایا جارہاہے ایسے میں میڈیا کی ذمے داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس کاکام محض خبررسانی نہیں رہ جاتا،بلکہ اسے اپنے قارئین کی نفسیاتی تربیت کا سامان بھی کرنا چاہیے۔ اس ماحول میں سنسنی خیز ،فرضی اور منفی اثر ڈالنے والی خبروں کی اشاعت سے گریز کرنا چاہیے۔یہ باتیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کونسل کی جانب سے ’وبائی دور میں اردو میڈیا کاکردار اور ذمے داریاں‘کے عنوان سے منعقدہ آن لائن مذاکرے میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہیں۔انھوں نے کہا کہ کورونا کے دور میں کس طرح زندگی گزارنی ہے اور وائرس سے بچنے کے لیے کیا ضروری اقدامات اور حفاظتی تدبیریںہیں، ان پر خصوصی مضامین،فیچرز اور ڈاکٹرز کے مشورے شائع ہونے چاہئیں۔قبل ازاں انھوں نے اس مذاکرے میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور کہا کہ موجودہ ہنگامی صورتحال میں بھی کونسل تمام احتیاطی تدابیر کو عمل میں لاتے ہوئے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے ، یہ پروگرام بھی اسی سلسلے کی کڑ ی ہے۔بی بی سی سے وابستہ معروف صحافی مرزا عبدالباقی بیگ نے اپنی گفتگو میں کہاکہ ایسے دور میں جبکہ پورے ملک میں نفسانفسی کا عالم ہے ،سچی خبروں کی اشاعت بہت ضروری ہے۔ روزنامہ انقلاب، ممبئی کے ایڈیٹر شاہد لطیف نے اس پورے وبائی دور میں اردو میڈیا کے کردار کو صحت مند، سنبھلا ہوا اور سلجھا ہوا قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ شروع میں گرچہ عوام نے تھوڑی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا مگر پھر جلد ہی اس پر قابو پالیا گیا اور خصوصا اردو میڈیا اپنے قارئین کو باخبراور بیدار کرنے میں کامیاب رہاہے۔ایشین اسکول آف میڈیا اسٹڈیز،نوئیڈا میں اسکول آف جرنلزم اینڈ ماس کمیونکیشن کی ڈائریکٹر البینہ عباس نے کورونا کے دور میں میڈیا کے طلبہ و طالبات کو درپیش چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ شروع میں انھیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا،مگر اب طلبہ آنلائن امتحان بھی دے رہے ہیں اور ان کی کلاسز بھی کروائی جارہی ہیں۔اردو میڈیا کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ اسے حالات کے حساب سے مزید اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اشوکا یونیورسٹی ،ہریانہ سے وابستہ علی خان محمود آباد نے کہاکہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں اردو اخبارات کوعوام تک پہنچنے کے نئے فارمز بھی اپنانے چاہئیں،مثلاً روزانہ مخصوص مضامین،اداریے اور خبروں کو آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں یوٹیوب چینل وغیرہ کے ذریعے بھی لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔سینئر صحافی سراج نقوی نے کہاکہ اردو اخبارات کو فرسٹ ہینڈ اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے،ساتھ ہی ان کے رپورٹرز کواپنے قارئین کی نفسیات سے واقف ہونا چاہیے اوراسی کے مطابق رپورٹ تیار کرنی چاہیے ۔ اردو میڈیا کو جذباتیت سے گریز کرتے ہوئے سائنٹفک اپروچ اختیار کرنا چاہیے۔نیوز18اردو کے ایڈیٹر تحسین منور نے بھی خبروں کی اشاعت میں معروضیت و غیر جانب داری اختیار کرنے پر زور دیا۔خصوصاً نیوز 18اردو کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اس چینل نے شروع سے ہی ناظرین تک صحیح خبریں پہنچانے اور انھیں بیدار رکھنے کا اہتمام کیا اور کورونا کے تعلق سے صحیح معلومات پہنچانے کے لیے کئی ملکی و بین الاقوامی سطح کے ماہرینِ صحت اور ڈاکٹرز کے پروگرام نشر کیے ہیں،جس سے ناظرین کو اس وبا کی خطرناکی سے بروقت باخبر کرنے میں کامیابی ملی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں سماجی و مذہبی اداروں اور تنظیموں کے کردار کوبھی اہم قراردیا۔اس مذاکرے کی نظامت بھی تحسین منور نے بحسن و خوبی انجام دی ڈاکٹر شیخ عقیل احمد کے اظہارِ تشکر پر مذاکرے کا اختتام عمل میں آیا۔اس مذاکرے میںمذکورہ شرکاء کے علاوہ قومی کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ(اسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)،ڈاکٹر اجمل سعید (اسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)،فیاض احمداورافضل خان بھی شریک رہے۔