وبا کے بہانے کہیں جمہوریت کا خون نہ ہو جائے-صفدر امام قادری

(صدرشعبہ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ)
کورونا نے دنیا بھر کے عوام اور حکومتوں کے سامنے ایسے چیلنج پیش کر دیے ہیں کہ بڑے بڑے سوٗرما اور شہہ زور بھیگی بلّی بنے نظر آتے ہیں۔ قومی اور عالمی پالیسیاں بن رہی ہیں اور ہر ملک اور اس کی حکومت اپنی سطح پر کارگر اقدام انجام دینے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔ ایسے میں بعض حکومتوں کے دل کا چور اُبھر کر سامنے آ رہا ہے۔ ہندستان جیسے ملک میں حکمراں جماعتوں میں بالعموم ایسی خوبیاں نظر نہیں آ پا رہی ہیں جن سے یہ کہا جائے کہ اقتدار میں بیٹھے اصحاب اس وبا سے عوامی فلاح و بہبود اور سماجی خدمت کی باتیں سیکھ رہے ہیں۔ بعض ملکوں کے سربراہ وبائی اَیّام میں منکسرالمزاج اور بُردبار ہو گئے ہیں اور اپنے عوام کے لیے سنجیدہ فکر و عمل میں رات دن منہمک ہیں۔ غور کریں تو سُپر پاور امریکہ کے سربراہ ڈونالڈ ٹرمپ بھی بار بار اپنی بے بسی کا اظہار کرنے سے گُریز نہیں کر پا تے۔ وہ بار بار چین کو اس لیے بھی نشانہ بنا نے میں مصروف رہتے ہیں کہ حالات اُن کے قابو میں نہیں مگر چین نے اپنے ملک کو اطمینان کی حالت میں پہنچا دیا۔
حکومتِ ہند کا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک اُسے اپنی کوتاہیوں کے اظہار کا موقع ہی نہیں مِلا۔ اُسے اپنی پیٹھ تھپتھپانے سے زیادہ سروکا رہے۔ ابتدائی تین ماہ جس حکومت نے اپنی تیّاریوں میں ضایع کر دیے ہوں، اسے نادم ہونے کے بجاے شہہ زوری سے اپنی باتیں پیش کرنے کی عادت ہو تی جا رہی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ملک میں ایسا قانون نافذ ہے جس کے سبب پورا وفاقی ڈھانچا ایک آدمی کی مُٹّھی میں قید ہے۔ اُس کے سارے دشمن اب اُس سے مِل جُل کر رہنے اور مشکلات میں تعاون حاصل کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ پورے ملک کے لیے سب ایک شخص یا ایک حکومت فیصلے کر لے تو یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ صاحبِ اقتدار کو مالکِ کُلّی ہونے کی عادت نہ ہو جائے۔ یہ سو ایمرجنسی کی ایک ایمرجنسی ہے۔
مرکزی حکومت نے بغیر کسی تیاری، صوبائی حکومتوں اور ماہرین سے صلاح و مشورے کے لاک ڈاؤن نافذ کیا جس کے ہزاروں مسائل سے پورا ملک پریشان ہے۔ کورونا کے پھیلاو کو روکنے کے لیے یہ قدم اُٹھایا گیا یا پورے ملک میں حکومت کے خلاف چل رہے عوامی احتجاج کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے یہ شب خوں ماری گئی؟ وبا کے سلسلے سے محکمہئ صحت نے ملک بھر کے صوٗبوں کے عہدے داران سے کوئی صلاح نہیں کی۔ لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر ملک کی معاشی صورتِ حال اور عام لوگوں کی زندگی کے مسائل پر ایک لمحے کے لیے غور نہیں کیا گیا۔ مگر اس لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے لیے مختلف صوبائی حکومتوں سے صلاح لینے کا ڈراما کھیلا جا رہا ہے۔ آخر جب نفاذ میں نہیں پوچھا گیا تو اس کی توسیع میں کیوں مشورہ لیتے ہو؟
وبائی قانون اور غیر یقینی صورتِ حال کا حکومتِ ہند طرح طرح سے فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔ خاص طور سے پردے کے پیچھے سے کئی طرح کے کھیل تماشے ہو رہے ہیں۔ ایک طرف لاک ڈاؤن ہے مگر جمہوری انداز سے جن لوگوں نے حکومتِ ہند کے خلاف عوامی مفاد کی باتیں کیں، ان کے خلاف چُپ چاپ پولیس کا رروائیاں چل رہی ہیں۔ کشمیر سے لے کر دلّی اور اُتّر پردیش کے مختلف شہروں میں مختلف تحریک کاروں کو جیل پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ معلوم ہو کہ جب جیل کے پُرانے قیدیوں کو پے رول پر رِہا کیا جا رہا ہو اور عام مقدّمات کو اِلتوا میں رکھنے کی باضابطہ ہدایت جاری ہے؛ ایسے میں یہ خاموش کھیل صرف سیاسی مفاد کے تحت ہی ہو سکتاہے ورنہ ان گِرفتاریوں اور مقدّمات کو چند ماہ اِلتوا میں ڈال دینے سے حکومتِ ہند کو وبا سے لڑنے میں کون سی دُشواری پید ا ہو جاتی۔
نریندر مودی کے سب سے چہیتے وزیرِاعلا اُتّر پردیش کے مالک و مختار یوگی جی ہیں جن کے ذمّے رام مندر بنانا اور اگلی حکومت کے لیے تیاری کرنا مقرّر ہے۔ کورونا کے متاثّرین کے اعتبار سے اُتّر پردیش اب مُلک کے نقشے میں اُبھر کر سامنے آ رہا ہے اور مریضوں کی تعداد کے معاملے میں چوتھے مقام پر پہنچ رہا ہے مگر کورونا قانون کے پردے میں یو۔پی۔ حکومت ہزار طرح کے انوکھے فیصلے کرنے میں اپنی خاص شہرت رکھتی ہے۔ پہلے انھوں نے سی۔اے۔اے کو کورونا کے نام پر اُلجھایا۔ پھر تبلیغی جماعت کے حوالے سے اپنی پوری شہہ زوری دکھائی۔ اذان کے خلاف فیصلہ لینے میں بھی انھیں اوّلیت حاصل رہی اور اب وبائی قانون کی دُہائی دے کر یو۔پی۔ کے بعض اضلاع میں یہ نوٹِس جاری کی جا رہی ہے کہ سڑک کے راستے سے پیدل جا رہے مزدوروں کو اشیاے خوردونوش کی تقسیم غیر قانونی ہے اور اس کے لیے معقول سزا دی جائے گی۔
وبائی قانون کے بہانے ہر ریاست عوامی مفاد کے خلاف نئے نئے قوانین بنارہے ہیں اور ان کا نفاذ جنگی پیمانے پر ہو رہا ہے۔ مزدوروں کے لیے چھ اور آٹھ گھنٹے کے بجاے بارہ گھنٹے کام لینے کے فیصلوں میں رفتہ رفتہ تمام صوبائی حکومتیں شامل ہو رہی ہیں۔ یہ انسان کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے جیسا ہے۔ پہلے مدھیہ پردیش اور راجستھان نے یہ شروع کیا، اُتر پردیش نے ۳/ برس کے لیے مزدور وں کے حقوق کے خلاف جاکر اس قانون کا نفاذ کر دیا۔ حقیقت میں یہ وبائی صورتِ حال اور مختلف ماحول کے بہانے غریب اور مزدور طبقے کے حقوق پر حملہ ہے۔
جب حکومت عوام کے دباو سے مجبور ہو کر ٹرین چلانے کے لیے آمادہ ہوئی، اُس وقت اچانک کرناٹک حکومت نے حکومتِ ہند کو منع کر دیا کہ ہمیں ٹرین نہیں چاہیے یعنی کرناٹک میں پھنسے ہوئے مزدوروں کو اپنے گھر نہیں جانا ہے۔ اس بات پر جب ہنگامہ شروع ہوا تو یہ معلوم ہوا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیرِ اعلا سے وہاں کے بلڈرون نے ملاقات کرکے مزدوروں کو روکنے کی گزارش کی۔ کیوں کہ انھیں اب اپنے رُکے ہوئے کاموں کو شروع کرنے کی اجازت ملنے والی تھی۔ سوال یہ ہے کہ ان مزدوروں کو چالیس دن سے بھوکے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا اور اس وقت کسی نے انھیں نہیں پوچھا مگر جب انھیں اپنے وطن جانے کی آسانیاں حاصل ہورہی ہیں، اس وقت اپنے مفاد کے تحت سازش کرکے مزدوروں کو روک دیا جائے۔ اس سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ہماری حکومتیں مزدوروں کی نہیں، جاگیر داروں کی ہی ہیں۔
وزیرِ اعظمِ ہند کو عوام کے نام سے اپنے نِرگُن اعلانات کرنے کا بہت شوق ہے۔ انھوں نے ایک روز جو فلسفہ طرازی کی، اس کی تعبیر و تشریح میں وزیرِخزانہ اور دوسرے وزرا کو روزانہ تفصیلات پیش کرنی پڑتی ہیں۔ ہر جگہ پُرانے قوانین میں تبدیلی یا چند برسوں کی معطّلی کا بیان ہوتا ہے۔ مزدوروں سے آگے بڑھ کر کسانوں کی فلاح کے نام پر اُنھیں آزاد بازار کا حصّہ بنا کر بڑی آسانی سے حکومت اپنا ہاتھ کھینچ رہی ہے۔ ملک میں عوامی فلاح و بہبود کے ہزاروں قوانین برسوں کے غور وفکر اور عوامی تعلّقات کے پیشِ نظر بنے تھے۔ انھیں ایک و با کے بہانے ختم کرکے حقیقت میں حکومتِ بعض صنعت کاروں اور جاگیرداروں کو فائدہ پہنچا نا چاہتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس سہولت سے ریزوبینک نے ہمارے بڑے صنعت کاروں کی اربوں کی رقم معاف کر دی۔ آگے بھی اقتصادی سہولیات کے نام پر یہ سب ہوگا۔
وزیرِ اعظمِ ہند ایک مرصع جذباتی زبان کے کاروباری ہیں۔ اب قافیہ بندی پر بھی اُتر آئے ہیں۔ وہ کسی چیز کو بھی نعرہ بنا سکتے ہیں۔ ہر ضروری بات پر خاموشی اور ہر غیر ضروری بات پر طلاقتِ لسانی۔ اب انھیں پورے ملک کی ملکیت کا مزہ مل رہا ہے۔ اس لیے وہ جمہوری مزاج اور اداروں کے کَل پُرزوں پر چوٹ کریں گے اور اپنے لوگوں کے سہارے ملیا میٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اقتدار کی بڑھی ہوئی طاقت کی عادت اب آسانی سے نہیں جائے گی۔ کورونا کا دور اس لیے بھی بڑھے گا کیوں کہ اس میں اقتدار ِ کُلّی صرف نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے۔ خون کا ذائقہ آسانی سے چھوٹے گا نہیں۔ حزبِ اختلاف والی ریاستوں کے دن اور مشکل سے کٹیں گے اور انھیں کبھی بھی اور کسی بہانے اُکھاڑنے کی کوشش ہوگی۔ جمہوری قدروں میں ایمان رکھنے والے افراد کو وبا سے لڑنے کے نام پر حکومتِ ہند کے مطلق العنان انداز اور غیر جمہوری طریقہ کار کو بہ غور سمجھ کر اپنے ملک کو بچانے کے لیے تیّار رہنا چاہیے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*