وہ کون تھی(افسانے اور خاکے)

مرتب : علیم صبا نویدی

مبصر : محسن خان،حیدرآباد۔تلنگانہ
موبائل: 9397994441
علیم صبا نویدی دنیائے ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کا اہم تحقیقی کارنامہ ’’تمل ناڈومیں اردو“ جودوضخیم جلدوں‘ دوہزار چھ سوصفحات پرمشتمل ہے۔اس منفرد تحقیقی کام کی بدولت ان کی پہچان نہ صرف جنوبی ہندبلکہ ملک گیر سطح پر بنی۔علیم صبا نویدی ایک بہترین افسانہ نگار‘ انشا پرداز‘ تبصرہ نگار‘ کہنہ مشق شاعراور ایک معتبر نقاد ہیں۔ اردوتحقیق کے حوالے سے جب بھی تمل ناڈو اور چینائی کا ذکرآتا ہے تو سب سے پہلا نام علیم صبا نویدی کا لیا جاتا ہے۔ علیم صبا نویدی کے مطابق ان کی اب تک پچاس کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اردو شاعری میں بہت سارے تجربات کیے ہیں۔ وہ پہلے شاعر ہیں جنہو ں نے نثری نظموں میں نعت گوئی کا تجربہ کیا۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔اکبرزاہد نے علیم صبا نویدی پرپاکستان‘ہندوستان اوردنیابھر کے مصنفین کی جانب سے لکھے گئے اہم مضامین کو”مطالعہ علیم صبانویدی“ کے عنوان کے تحت ترتیب دے کر شائع کیا ہے۔ جس کے مطالعہ سے علیم صبا نویدی کی شخصیت اورادبی خدمات کوسمجھنے میں مدد ملے گی۔
علیم صبا نویدی کی شہرت اور ان کے تحقیقی کتابوں کودیکھنے کے بعد حال ہی میں ان کی ایک مرتب کردہ کتاب پرنظرپڑی جس کا عنوان”وہ کون تھی“ ہے۔ کتاب کے عنوان کودیکھ کرلگا کہ یہ کوئی ناول ہوگا لیکن جب اس کوپڑھنا شروع کیا تومعلوم ہوا کہ یہ ایس عبدالمجید اسد صاحب کے افسانے اورخاکے ہیں جنہیں علیم صبا نویدی نے ذمہ داری کے ساتھ مرتب کرکے کتابی شکل میں پیش کیاہے۔ کتاب کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔پہلے حصہ میں انبیاے کرامؑ پر لکھے گئے خاکے ہیں او ردوسرے حصے میں افسانے اور کہانیا ں ہیں۔
اپنی بات کے تحت لکھے گئے مقدمہ میں علیم صبا نویدی نے مجید اسد کا کوئی تعارف پیش نہیں کیا ہے‘ہوناتویہ چاہئے تھا جس کی کتاب ترتیب دی گئی ہو اس کا مختصراَ َ تعارف پیش کیاجاتا۔مقدمہ میں مجید اسدکے افسانہ نگاری کے فن پرکم گفتگو کی گئی ہے اورانتہائی مختصر مقدمہ لکھا گیاہے جس میں صرف کتاب کی فہرست ہی بتائی گئی ہے۔حالانکہ جب کوئی کتاب ترتیب دی جائے تو اس بات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ مقدمہ طویل ہو مگر یہاں انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ قاری کو مجید اسد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔کتاب میں ”حضرت آدم علیہ السلام“ کے عنوان سے شامل اولین خاکہ سے لے کر کتاب میں شامل آخری افسانے تک املا کی غلطیاں کھٹکتی ہیں۔ آدم علیہ السلام پر تحریر شدہ خاکے میں تمام جگہو ں پر ”ابلیس“ کی جگہ لفظ”ابلیں“ حرف ”س“ کی شمولیت کے ساتھ درستگی کا متقاضی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب کے صفحہ چھ پر”دہنے بائیں“جیسی نئے لفظ کا استعمال ہواہے۔ ”اللہ کی چہیتی اور نیک بندیاں (امہات المومنین)“ کے تحت خاکے میں اُمہات المومنین کی غلط تعریف کی گئی ہے کہ”خدائے تعالیٰ اپنی آزمائش خاص میں جن مردوخواتین کوچنتا ہے وہ بالیقین اللہ کی آزمائش پرپوری اترتی ہیں“(صفحہ:۷۱)۔ اس طرح کی غلط تفسیر بیان کی گئی ہے۔اُمہات المومنین میں بی بی خدیجہؓ کے ساتھ ساتھ حضرت زلیخاؓ اور حضرت بی بی ہاجرہؓ کا ذکر ہے۔ جبکہ قرآن میں امہات المومنین‘حضرت نبی کریم صلعم کی ازواج مطہرات کوکہاگیا ہے۔اس طرح سے نام ترتیب دینا مناسب نہیں ہے۔
”جیسی کرنی ویسی بھرنی“کے تحت ایک افسانہ کتاب میں شامل ہے جو الف لیلہ کی مشہور افسانوی کہانیوں میں سے ایک ”علی باباچالیس چور“ کی ہوبہونقل ہے۔ جس میں افسانہ نگار نے صرف ایک چھوٹی سی تبدیلی کی ہے کہ ”لٹیرے الف لیلیٰ میں ”کھل جا سم سم“ کہہ کر دروازہ کھولتے ہیں تو اسد صاحب نے اسے اپنے افسانہ میں ”یاہو کھل جا“ کردیا ہے۔ صفحہ 33کی تیسری لائن میں ارجن اور رجنی کو بہن بھائی بتایاجاتا ہے اورارجن کی محبوبہ کونرملابتایاگیا ہے بعدمیں نرملا ارجن سے بن بیاہی حاملہ ہوجاتی ہے اور صدمہ سے مرجاتی ہے اور پھرافسانہ نگار نے یہاں یہ بڑی غلطی کردی کہ صفحہ 34پر رجنی جوارجن کی بہن ہے دونوں کی شادی کرادی۔ اس طرح کی بڑی لاپرواہی سے افسانہ نگار نے ایک غلط پیغام دیا ہے اوراسی صفحہ پر ایک جگہ بم کوبام لکھاگیا ہے اورایک جگہ کتیا کوکتنی لکھاگیا۔
”گل صنوبر“ افسانہ میں دوبھائیو ں کا کردار ہے جوبادشاہ بننا چاہتے ہیں اور قبیلے کے لوگ بھی بوڑھے باپ کا جانشین منتخب کرنا چاہتے ہیں۔بوڑھا بادشاہ باپ اپنے بیٹوں سے خواہش ظاہر کرتا ہے کہ وہ ”گل صنوبر“ لائے تاکہ اس کی بینائی لوٹ آئے۔اس کہانی کوبھی الف لیلیٰ کی کہانی سے نقل کیاگیا ہے جس میں ایک شیطان کنواری لڑکیو ں کودلہن بناکراپنے غارلے جاتاہے اورانہیں ختم کردیتا ہے۔ اسی کی نقل پر یہ افسانہ لکھاگیا ہے۔ اورافسانہ ختم ہونے تک افسانہ نگار اس میں ایک بھائی کے تذکرہ کویکسربھول جاتا ہے۔ اس طرح افسانہ نگار نے الف لیلیٰ کی کہانیوں سے نقل کیے گئے افسانہ میں بھی انصاف نہیں کیاہے۔
”ہم لوگاں“ افسانہ میں پنجاب کا ذکر ہے جس میں صفحہ 47پرپنجاب میں منائی جانے والی عیدوں‘رمضان‘ ہولی اور دیوالی کا ذکرہوا ہے لیکن سکھوں کے تہوا رکا کوئی ذکر نہیں ہے اوریہ افسانہ بھی دو صفحات پرمشتمل ہے، آٹھ دس کردار ہیں جوصرف شادی کرنا چاہتے ہیں۔اس میں صرف ایک نوجوان بہادر رہتا ہے او روہ شادی کرلیتا ہے بس یہی کہانی موجودہے۔”ہم ہیں بنجارے“ بھی جلد بازی میں لکھاگیا افسانہ نظرآتا ہے جو صرف دوصفحات پرمشتمل ہے اس میں بھی صرف شادی اور محبت کا ذکرہے۔
”رتن مچھیرے کا انجام“ میں بھی افسانہ نگار محبت‘عصمت ریزی (ریپ)اور اس طرح کی باتوں سے افسانہ کا آغاز کرتا ہے۔افسانہ میں ایک سردار کا نوکر ہوتا ہے”رتن“ جومچھلیاں پکڑتا ہے وہ اپنی محبوبہ کو ہوس کانشانہ بنا لیتاہے اور مچھلیوں کے ساتھ اسے موتیاں برابر حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ افسانہ نگار لکھتا ہے کہ ”مچھلی اورموتیاں سمندر میں ساتھ آنے سے ان کی قیمت دوگنی ہوتی ہے“یعنی وہ موتی کی قیمت کوصرف مچھلی سے دوگنابتاتاہے۔ بعدمیں رتن کو جل پری ملتی ہے وہ اس کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر کی تہہ میں چلاجاتا ہے اور وہاں کابادشاہ اسے قتل کرکرواپس سمندر کے کنارے پھینک دیتا ہے۔ یہاں پھرافسانہ نگارکرداروں کے نام بھول کرکہتا ہے کہ”سردار کے بیٹا رتن کی لاش مسخ شدہ حالت میں دستیاب ہوئی ہے“ جبکہ شروع میں اُسے سردار کاملا زم بتایاگیا۔اسی طرح کے ناموں کی گڑبڑ ہرافسانے میں کی گئی یہاں تک کہ کتاب کے دو افسانوں میں بہن بھائی کی شادی کردی گئی۔
صفحہ58پرموجود”پری زاد سے آدم زاد تک(جنم جنم کے ساتھی) اور صفحہ 70پرطلسمی دنیا(جنم جنم کے ساتھی)یہ دونوں افسانے ایک ہی ہیں مگرصرف ان کا نام بدل دیاگیاہے اور تین چارلائنوں کوتبدیل کیاگیا ہے تاکہ وہ بالکل الگ لگے۔ صرف کاپی پیسٹ کیاگیا۔ اس افسانہ میں نواب نصیر الدین کا ذکر ہے جس کا بیٹا نصراللہ ہوتا ہے۔ بعدمیں نصراللہ کے کردار کا نام کبھی نصیر الدین ہوتا ہے توکبھی کچھ۔اس طرح کردارو ں کے ناموں میں الجھن ہرافسانہ میں موجودہے۔ ”جس کا کوئی نہیں اس کا خدا ہوتا ہے“ افسانہ میں جاوید نام کے بہادر شخص جو لٹیروں سے لڑتا ہے اس کی کہانی پیش ہے لیکن اس میں بھی نامو ں کی الجھن ہے کبھی جاوید کو بہادر نوجوان کہاجاتا ہے توکبھی اسے سردار۔”وہ کون تھی“ افسانہ جس کے عنوان سے یہ کتاب ترتیب دی گئی ہے۔یہ افسانہ کم ایک واقعہ نظرآیا جس میں صرف یہ بتایاگیاکہ ایک لڑکا مصور ہے اوراس کی تصویریں ہر جگہ فروخت ہوتی ہے اورکہانی یہیں ختم ہوجاتی ہے۔
”گیت گایا پتھروں نے“ میں لکھاگیا کہ”شمس کوبھی حضرت عیسیٰ ؑکا پیروکار بناکراس طلسمی نگرمیں بھیجاتھا‘پھرکنکروں نے لاالہٰ پڑھا اورپتھروں نے روح اللہ کا روحانی ترانہ گایا‘وہ راجہ بن گیا۔ اس طرح افسانہ میں فرضی کہانیوں اور قصوں میں انبیاء کرام کا ذکر مناسب نہیں ہے اور کرداروں سے اس کوجوڑنا بہت ہی غلط بات ہے۔ ایک اور کہانی”ہارون رشید“ میں ”ایک کردار دوسرے کردار کو ذوالفقار(اللہ کی تلوار) دے کرکہتا ہے کہ اسے قبول کرے“۔ افسانہ نگار کوکسی بھی لفظ کے استعمال سے پہلے اس کی نسبت پرغورکرنا چاہئے۔ ذوالفقار حضرت علیؓ کی تلوار کوکہاجاتا ہے کیوں کہ یہ تلوار کی پشت ریڑھ کے مہروں کی طرح سیدھی تھی اس لیے اس کو ذوالفقار کہاگیا۔ اس طرح کے صحابہ کرامؓ سے جڑی مقدس چیزوں کواپنے افسانوں میں معمولی کرداروں کے لیے پیش نہیں کرنا چاہئے۔کتاب کا آخری افسانہ ”دوسری شادی“ہے جس میں انورحسین کافی محنت سے پڑھ کر وکیل بنتا ہے اور منظورحسین کے پاس ملازمت کرتا ہے اور کئی دن کام کرنے کے بعد وہ ان کابھروسہ جیت لیتا ہے اور پورے کیسس وہی لڑنا شروع کردیتا ہے جس سے منظورحسین سینئروکیل خوش رہتا ہے بعدمیں اس کا انتقال ہوتا ہے توایک دن منظورحسین کی بیوی انورکوبلاکر اس کے ساتھ زبردستی کرتی ہے اوربعدمیں مجبوراً انورحسین کومرحوم باس کی بیوی سے شادی کرنا پڑتا ہے جبکہ حال ہی میں انور کی شادی ہوئی ہوتی ہے۔یہ ایک بہت پیچیدہ افسانہ ہے اور مشرقی سماج کی تہذیب کے خلاف ہے۔
ہر خاکے اور افسانے میں موجو داملا کی غلطیاں پروف ریڈنگ کے بغیر جلد بازی میں اشاعت کا سبب لگتی ہیں۔علیم صبا نویدی جوایک کہنہ مشق شاعراور ممتازادیب ہیں جن کی پچاس سے زائد کتا بیں منظرعام پرآچکی ہیں ان کی مرتب کی گئی کتاب میں اس طرح کی غلطیاں‘کرداروں کے نام میں تبدیلیاں‘الف لیلیٰ کی طلسمانی کہانیوں کی نقل وغیرہ سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں افسانہ نگار کی(ایس عبدالمجید اسد) کی غلطی ہے یا مرتب (علیم صبا نویدی)کی یہ فیصلہ بڑا کٹھن ہے۔ علیم صبا نویدی کا شمار ایک بہترین نعت خواں کے طورپرہوتا ہے۔انہوں نے کئی نعتیہ کلام لکھے ہیں اور ان کے نعتیہ کلام کا مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ وہ دینی معلومات پر عبور رکھتے ہیں انہیں کتاب میں لکھئے گئے مذہبی موضوعات پر اپنی گہری نظررکھنا چاہیے تھا لیکن وہ چونک گئے۔عام طورپر لوگوں کی یہ شکایت ہوتی ہے کہ بعض لوگ صرف نقل کرکے اور دوسروں کے مضامین‘افسانے‘کہانیاں اور تخلیقات کواپنے نام سے شائع کرواکر خود کو بڑا قلمکاربتانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اگرکوئی نقل کرتا ہے تواس کوحوالہ دینا چاہیے۔ دلیلوں کے ساتھ گفتگو ہونی چاہئے۔
علیم صبا نویدی اپنی مرتب کردہ ا س کتاب کادوبارہ مطالعہ کریں توانہیں املا کی اغلاط‘جملوں کی ترتیب اور کرداروں کے ناموں میں غلطیاں نظرآئیں گی‘شاید اوربھی چیزیں جو میر ے جیسے ادنیٰ طالب علم سے چھوٹ گئیں وہ بھی انہیں دوبارہ مطالعہ کرنے پرنظر آجائیں گی۔ ایس عبدالمجید اسد نے اچھا تخلیقی کام کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن انہوں نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے وہ بہت نازک ہیں، جن پر بہت سوچ سمجھ کراور سنبھل کر لکھنا ہوتا ہے،افسانوں میں بھی انہوں نے جس طریقہئ کار کو اختیار کیا ہے وہ نامناسب ہے۔افسانوں کے کرداروں کے نام بھی آگے پیچھے ہونے اور غلط آجانے سے قاری الجھن کا شکار ہوجاتا ہے۔ کتاب کوجلد سے جلد شائع کروانے کی کوشش میں بہت سی چیزوں کونظرانداز کردیاگیاہے۔اس کتاب میں‘مصنف اور مرتب اور کتاب کی فروخت کے مراکزکے پتے موجود نہیں ہیں۔یہ کتاب ناز پبلی کشینز چنئی نے شائع کی ہے۔
امید کے مرتب‘ اپنی اس ترتیب کردہ کتاب کا از سر نو جائزہ لیکر اصلاح طلب پہلوؤں کو درست کرتے ہوئے کتاب کی دوبارہ اشاعت عمل میں لائیں گے۔اردو کے قارئین کے لیے معلوماتی وتفریحی ادب کو پیش کیا جائے گا اور جن باتوں کا تبصرے میں ذکر کیا گیا ہے‘ان کو مثبت لیاجائے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)