ویانا حملہ کے کے بعد مقامی مسلمانوں پر حکومت کی نظر،دو مساجد مقفل

لندن:آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں گذشتہ سوموار کے روز ہونے والی خونی واردات کے بعد شہر میں دو مساجد کو سیل کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سکیورٹی کے حوالے سے سامنے آنے والی خامیوں کے بعد ویانا میں کاؤنٹر ٹیررازم سروس کے سربراہ کو معطل کر دیا گیا ہے۔وزیر داخلہ سوسن راب نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کے مذہبی امور کے دفتر کو وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پیر کو ہونے والے حملے کے مرتکب جیل سے رہائی کے بعد بار بار دو مسجدوں میں جاتا رہا ہے۔وزیر داخلہ کارل نیہامر نے اسی پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس سے اور عدلیہ کو ملزم کے خطرناک ہونے کے بارے میں مکمل معلومات کے باوجود اس کے اس پر نظر نہیں رکھی گئی۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران پتا چلا کہ ویانا حملہ آور انسداد دہشت گردی سروسز کے حکام کی زیر نگرانی دو مشکوک افراد کے ساتھ بھی رابطے میں رہا مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس طرح کی سرگرمیاں سکیورٹی اداروں کے لیے بڑی خامیاں ہیں اور ناقابل قبول غلطیاں ہیں۔کل جمعہ کو ویانا کے پولیس چیف گیرارڈ پورسٹل نے بتایا کہ دارالحکومت میں انسداد دہشت گردی کی خدمات کے سربراہ ایرک زویٹلر کو ملازمت سے معطل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ اسے کام سے روکیں کیونکہ وہ تحقیقات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتے ہیں۔یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ ملزم کے بارے میں انتباہ موصول ہونے کے باوجود وہ حملہ آور کی سنگینی کا تعین کرنے میں ناکام رہا ہے۔کوجتیم فیض اللہ جنہوں نے وسطی ویانا میں پیر کو گولیاں مارکر چار افراد کو قتل کردیا تھا۔ ملزم نے جولائی میں آتشیں ہتھیار اور باردو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔اگرچہ ہمسایہ ملک سلوواکیا میں انٹلیجنس نے اس معاملے کی اطلاع دی لیکن ویانا نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔آسٹریا میں اسلامی مذہبی اتھارٹی جو ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم اور ملک میں 360 مساجد کا انتظام چلاتی ہے نے دو مساجد کو خلاف قانون سرگرمیوں پر بند کردیا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*