اتراکھنڈ میں سختی ، کوڈ منفی رپورٹ کے بغیر نہیں ملے گا داخلہ ، ہوٹلوں کی 40فیصد بکنگ منسوخ

دہرہ دون:
ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے ایک بار پھر لوگوں پر دوبارہ پابندیاں عائد ہورہی ہیں۔ خاص طور پر مہینوں کے لاک ڈاؤن اور سست انلاک عمل کے بعد گھومنے کا منصوبہ بنانے والوں کے لئے ایک بار پھر پابندیاں شروع ہوگئیں۔ اتراکھنڈ جانے کا منصوبہ بنانے والوں کے لیے ایک بری خبر ہے ۔در اصل کورونا وائرس کے معاملات میں تیزی سے اضافے کے بعد ہر ریاست نے ہدایات اور کورونا پروٹوکول پر سختی شروع کردیا ہے ۔ اتراکھنڈ حکومت نے بھی کوڈ کے حوالے سے سختی کرنا شروع کردیا ہے۔ خاص طور پر دوسری ریاستوں سے آنے والے لوگوں کے ساتھ سختی کی جارہی ہے ۔ جمعرات سے اتر پردیش ، ہریانہ اور ہماچل سے ملحقہ ریاستی حدود پر کوویڈ کی رپورٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اب ان سرحدوں سے ریاست میں داخل ہونے والے لوگوں کو کوڈ کی منفی رپورٹ دکھانا لازمی ہوگا۔کوویڈ کے بڑھتے ہوئے معاملات کی وجہ سے ریاست کی سیاحت بھی متاثر ہورہی ہے۔ کاربیٹ پارک اور نینی تال سمیت متعدد سیاحتی مقامات کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ ہوٹل بکنگ کی 40 فیصد منسوخ ہونے کی بھی خبریں آرہی ہیں ۔واضح رہے کہ کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی اتراکھنڈ کے نئے وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت بھی خود کورونا پوزیٹیو ہوگئے تھے۔