اٹھو! مسجد اقصیٰ کی پکار سنو ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
’القدس لنا‘!
’القدس ہمارا ہے ‘۔۔۔ یہ وہ نعرہ ہے جو اسرائیلی دہشت گرد افواج کے راکٹ ، بم اور گرینیڈ حملوں کے دوران بھی لگتے رہے ہیں اور اس وقت بھی یہ نعرے لگ رہے تھے جب قبلۂ اول ، مسجد اقصیٰ کا فرش شہیدوں کے خون سے سرخ ہورہا تھا۔ اور یہ نعرہ عبدالفطر کے روز بھی نہیں تھما ہے ، جب قبلہ ٔ اوّل میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سربسجود تھے اورگڑگڑا کر دعا مانگ رہے تھے کہ اے اللہ ہماری یہ قربانی رائیگاں نہ جانے دینا ۔ اسرائیلی ، صہیونی دہشت گرد حیران اور پریشان تھے ، ان کے چہرے فق تھے اور ان کے دل یہ سوال کررہے تھے کہ اتنی جانوں کی قربانی کے بعد بھی یہ فلسطینی کیسے مسجد اقصیٰ میں جمع ہوسکتے ہیں! یقیناً وہ جن کے دل ایمان سے خالی ہوتے ہیں ، جن کا کاروبار ظلم وجبر ہوتا ہے اور جو دوسروں کے حق پر ناجائز قبضے جماتے پھرتے ہیں ، وہ ایسا ہی سوال کریں گے ۔۔۔ لیکن ایمان کی حرارت رکھنے والے تو بس جانوں کا نذرانہ دینا جانتے ہیں ۔ اور فلسطینی قبلۂ اوّل کے لئے آج سے نہیں اسرائیل کے ناجائز قیام کے وقت ، 1948ء سے ہی ، مسجد اقصیٰ کے لیے ، القدس کے لیے، اس قبلۂ اوّل کے لیے ، جہاں نبی اکرم حضرت محمدؐ نے نماز میں تمام انبیا کی امامت کی تھی اور جو ایک عرصہ تک مسلمانوں کے لئے دوران ِ نماز قبلہ رہا ہے ، اپنی جانوں کانذرانہ دیتے آئے ہیں ۔۔۔ اور عبدالفطر کی نماز کے بعد جو نعرے لگے ہیں ان سے یہ صاف ہوجاتا ہیکہ جانوں کا نذرانہ دینے کا یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے ۔ ’ ہماری جان ، ہمارا خون تم پر قربان اے اقصیٰ‘!
ایک جانب یہ نعرے لگ رہے اور اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں فلسطینی جانباز شہید ہورہے ہیں اور دوسری جانب مہذب دنیا کے ڈھکوسلے ہیں ۔ مذمت کا ڈھکوسلا، رنج وغم اور اظہار افسوس کا ڈھکوسلہ ۔ دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کے ڈھکوسلے ، دنیا بھر کے جمہوری اداروں کے ڈھکوسلے ، عرب اور مسلم دنیا کے ڈھکوسلے ، عرب لیگ اور ’اوپیک‘ کے ڈھکوسلے اور اقوام متحدہ کے ڈھکوسلے ۔ ایسا نہیں کہ یہ خاموش ہیں ، نہیں ، کسی نے مذمتی قررا داد منظور کی ہے تو کسی نے چند سطری بیان جاری کردیا ہے ۔۔ ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ملک یا شہر کی چند ’معروف و مشہور تنظیمیں اور جماعتیں ‘ اخباری بیانات جاری کرکے ، اخباروں کو تصویریں بھیج کر مطمئن ہوجاتی ہیں ۔ اور صبح کو اخباروں میں کسی صفحے پر اپنی تصویریں دیکھ کر مسرور ۔۔۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک اسرائیل کے سامنے ساری عرب اور مسلم دنیا ، چند ایک کو چھوڑ کر،بے بس یا مجبور ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔ ویسے ایک اسرائیل کہنا شاید زیادہ درست نہیں ہے کہ اس ایک اسرائیل کے ساتھ ’ اقوام سفید‘ کا بے تاج شہنشاہ امریکہ بھی کھڑا ہوا ہے اور برطانیہ ،فرانس بھی ۔ لیکن کیا عرب اور مسلم ممالک بھی ’ اقوام سفید‘ کی طرح متحد نہیں ہوسکتے ؟ یقیناًہوسکتے ہیں لیکن ہو نہیں پارہے ہیں کیونکہ انہوں نے خود کو بھی اور اپنے ایمان وعقیدے کو بھی ’بڑی طاقتوں‘ کے سامنے گروی رکھ دیا ہے ۔ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے بدلے انہوں نے اپنی عیش وعشرت کو یقینی بنانے کے لئے سپرپاور امریکہ اور فرانس وبرطانیہ کے درپر یا چوکھٹ پر اپنی جبنیں ٹیک دی ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ عرب اورمسلم ممالک ایک بے جان لاشے میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ ترکی نے ضرور آواز اٹھائی ہے ۔ اور مزید کچھ چھوٹے بڑے مسلم ممالک ہیں ، جن میں قطر بھی شامل ہے اور ملیشیا بھی ، جو اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف اور فلسطینی مظلومین کے حق میں آوازیں بلند کررہے ہیں ، مگر جنہیں واقعی آواز بلند کرنا چاہیئے وہ بس ایک رسم کی طرح مذمتی جملے ادا کررہے ہیں ۔ اور پھر خاموش بیٹھ رہے ہیں ۔ عرب لیگ کا قیام عرب ممالک کے مسائل کے حل کے لئے کیا گیا تھا۔ عرب لیگ عرب اتحاد کی بھی اور مسلم اتحاد کی بھی ایک علامت تھا۔ مگرآج عرب لیگ کے تن سے روح نکل چکی ہے ۔ 1945ء میں جب عرب لیگ کا قیام عمل میں آیا تھا تب چھ ممالک اس کے رکن تھےآج 22 ممالک اس کے رکن ہیں ، اس کا مرکز مصر کا دارالخلافہ قاہرہ ہے ۔ سعودی عربیہ کا اس میں اہم ترین کردار ہے ۔ ابتداء میں عرب لیگ نے فلسطینی کاژ کی بھرپور حمایت کی تھی لیکن اب ’حمایت‘ صرف ایک ’ رسم‘ ہے ، صرف ’گفتار‘ ۔۔۔ عملاًیہ ادارہ بے جان ہے ۔ تازہ ترین اسرائیلی بربریت پر عرب لیگ کی طرف سے بس ایک مذمتی بیان آیا ہے ۔ اس کے وزراء نے تشدد کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل پر لگام کسے۔ بس! کیا یہ کافی ہے ؟ جہاں تک ’اوپیک‘ کا تعلق ہے تو اس کردار بھی عرب لیگ ہی جیسا رہا ہے ۔ اس کا قیام 1960ء میں عمل میں آیا تھا ، اس میں تیل پیدا کرنے والے 15 ممالک شامل ہیں جن میں سعودی عربیہ بھی ہے ۔ یہ ممالک بھی اپنے اپنے عیش میں پڑے ہوئے ہیں ۔ انہیں اب نہ فلسطینی کاژ سے کوئی ہمدردی رہی ہے اور نہ ہی ان کے دلوں میں مسجد اقصیٰ کا کوئی درد ہے ۔ سعودی عربیہ نے اسرائیلی حملوں کی مذمت تو کی ہے ، اسے مذمت کرنا ہی تھی ، لیکن یہ مذمت ظاہر ی ہے ، ورنہ ان دنوں سعودی عربیہ کھل کر اسرائیل کی نہ مخالفت کرتا ہے اور نہ مذمت۔ سعودی عربیہ ایک بہت بڑی معاشی طاقت ہے وہ اس قضیئے میں بہت ہی اہم کردار ادا کرسکتا ہے ، لیکن اس کا کردار مسلسل پستی کی جانب بڑھتا ہوا چلا جارہا ہے۔ جہاں تک اقوام متحدہ کا تعلق ہے تو اس ادارے سے اسرائیل کے خلاف قرار دادیں تو منظور ہوئی بلکہ ہوتی رہی ہیں ۔ اور اس بار بھی اقوام متحدہ نے بہت سخت لفظوں میں اسرائیلی تشدد کی مذمت کی ہے ۔ لیکن سب ہی کو پتہ ہے کہ جیسے ’ فرنگ کی جان پنجۂ یہود میں ہے ‘ ویسے ہی اقوام متحدہ کی جان امریکہ ، فرانس اور برطانیہ کے پنجے میں ہے اور یہ ممالک اسرائیل کے خلاف کچھ بھی سُننے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اور ہوں بھی کیسے کہ یہی تو تھے جنہو ںنے فلسطین کی سرزمین پر صہیونی قبضے اور سرائیل کے قیام کو ممکن بنایا ہے ۔ مطلب یہ کہ اسرائیل ان ممالک کا ہی ناجائز بچہ ہے ۔۔۔ شاید میں غلط کہہ گیا، ناجائز بچہ تو اب اپنے باپوں سے بھی آگے بڑھ گیا ہے ۔ لہٰذا ان ممالک کی طرف سے اور دنیا کے جمہوری اداروں کی طرف سے اظہارِ افسوس کے اور مذمت کے جو بھی بیانات آرہے ہیں وہ بس ڈھکوسلے ہیں ، مکاری اور عیاری سے بھرے ہوئے ڈھکوسلے ۔
یہ تحریر جب لکھی جارہی ہے اسرائیلی تشدد میں شہید ہونے والے فلسطینی جانبازوں کی تعداد 137 سے زائد ہوچکی ہے ۔ اسلامی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسمعیل ھنیہ نے باقاعدہ یہ اعلان کردیا ہے کہ اب کھلی جنگ ہے ۔ اسرائیلی بمباری نے غزہ پٹی اور مغربی کنارے کو تباہ وبرباد کردیا ہے ۔ تشدد جمعہ 7 مئی کو شروع ہوئی جب اسرائیلی دہشت گرد افواج کی اور یہودی آبادکارو ںکی ایک بڑی تعداد مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئی تھی۔ مسجد اقصیٰ میں جمع بڑی تعداد میں فلسطینی ’ یوم القدس‘ کے موقع پر اپنے عزم اور حوصلے کا اظہار کررہے تھے کہ دہشت گرد اسرائیلی فوجی ان پر ٹوٹ پڑے ۔ تشدد کرنے والوں میں اسرائیلی پولس بھی شامل تھی۔ راکٹ اور گرینیڈ حملے کیے گیے ۔ مسجد اقصیٰ کے ایک حصے میں آگ بھی لگائی گئی۔ فلسطینی روزے سے تھے اور عبادت میں مصروف تھے ۔ پرامن فلسطینیوں پر تشدد کرکے ، اور انہیں شہید کرکے اسرائیل نے عالمی سطح پر ہر طرح کے اصولوں اور ضوابطہ کی خلاف ورزی کی ۔ اس کی مذمت یوروپی ممالک نے بھی کی ۔ لیکن جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے بے شرمی کے ساتھ اسرائیل اپنی کارروائی کو جائز قرار دے رہا ہے۔۔۔
اسرائیلی صہیونی چاہتے ہیں کہ یہودیوں کی آبادکاری کے لئے نئی بستیاں بسائی جائیں اس کے لیے ان کی نظر مشرقی بیت المقدس کے شیخ جراح محلہ پر ہے جو سوفیصد مسلمانوںکی آبادی ہے۔ اس محلے کا قیام ، اسرائیل کے قیام سے 83 سال پہلے عمل میں آیا تھا۔ 1972ء میں صہیونی آبادکاروں نے عدالت سے یہ فریاد کی کہ پہلے شیخ جراح محلہ میں یہودی آباد تھے لہٰذا یہ محلہ یہودیوں کو دیا جائے ، عدالت نے 2002ء میں یہاں سے 43 فلسطینی خاندانوں اور ابھی چند سال قبل مزید دوخاندانوں سے مکانات خالی کرائے تھے ۔ کہا جانے لگا کہ یہاں آباد لوگوں ، یعنی فلسطینیوں کے پاس لیز کے قانونی دستاویزات نہیں ہیں ، لہٰذا یہ جائیدادیں ضبط کرلی جائیں ۔اور ایسا ہی کیا گیا کہ جائیدادیں ضبط کرکے یہودیوں کو فروخت کردی گئیں ۔ اب ’خریدار‘ یعنی یہودی آبادکار پراپرٹی پر قبضے کے لئے عدالت پہنچے ، اور فلسطینیوں کی جانب سے تمام تر ثبوتوں اور قانونی دستاویزات کے باوجود درجنوں گھروں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔۔۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جن کے گھر خالی کرائے جائیں گے انہیں غرب اردن کے مہاجر کیمپوں میں منتقل کردیا جائے گا اور اس جگہ اسرائیلیوں کے لئے 530 گھر اور شاپنگ سینٹر بنائے جائیں گے ۔ اس تعلق سے معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ یہ سماعت بھی ایک ڈھکوسلہ ہی ہے کہ صہیونی تو پورے بیت المقدس پر قابض ہونا چاہتے ہیں ۔ اور قیام اسرائیل کے بعد جس بیت المقدس کو مشترکہ اثاثہ قرار دیا گیا تھا اسے مکمل طور پر ہڑپ کرلینا چاہتے ہیں ۔
مشرقی بیت المقدس میں ایک کلو میٹر کے رقبے میں مسجد صخریٰ ، مسجد اقصیٰ ،دیوارِ گریہ ، حضرت عیسیٰ ؑ کے مقام پیدائش بیت اللحم کے ساتھ اہم متبرکات اور مقدسات ہیں ، انہیں مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوںکا مشترکہ اثاثہ قرار دیا گیا تھا۔ مگر اب سارے اثاثے پر صہیونی قابض ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہ بیت المقدس کو اپنا دارالخلافہ بناکر ایک گریٹر اسرائیل کے قیام کے اپنے خواب کو پورا کرسکیں۔ نظرخانہ کعبہ تک گڑی ہوئی ہے۔ فلسطینی لڑرہے ہیں ، حماس کے جانباز لڑرہے ہیں ، عزالدین القاسم بریگیڈ کے راکٹوں کی بوچھاڑ سے اسرائیل میں افراتفری مچی ہوئی ہے ، مگر اسرائیل ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک ہے ، لہٰذا یہ جنگ برابری کی نہیں کہی جاسکتی ۔ ہاں ایک جانب عزم ، حوصلہ اور ایمان کی طاقت ہے اور دوسری جانب بے ایمان ٹولہ ہے جو ہر ناجائز عمل کو جائز قرار دیتا ہے ۔ اللہ بلاشبہ ایمان والوں کی طرف ہے ، لیکن ضروری ہے کہ اس جنگ میں حق کے ساتھ سب کھڑے ہوجائیں ۔ اسرائیل ظلم کررہا ہے ، وہ ظالم ہے اور ظالم کا ساتھ دینے والے بھی ظالم ہیں۔ امریکہ اس کا مدد گار ہے تاکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا دارالخلافہ بنالے اور بچے کھچے فلسطینیوں کو بھی سرزمین مقدس سے بے دخل کردے ۔ اب بھی وقت ہے مسلم ممالک، عرب ممالک ہوش کے ناخن لیں ، فلسطینیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر کھڑے ہوں اور فلسطینیوں کو انصاف دلانے کے لئے کوششیں تیز کردیں ، بصورت دیگر نہ مسجد اقصیٰ بچے گی ، نہ مسجد صخریٰ ۔ اٹھو کہ مسجد اقصیٰ پکار رہی ہے ۔