اٹھ ’رہی‘ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں!- نایاب حسن

 

کرشن بہاری نور کا ایک مشہور شعر ہے:
زندگی! موت تیری منزل ہے
دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں!
اور یہ ایک روشن حقیقت بھی ہے کہ موت ہر جاندار کے لیے مقدر ہے،مگر اِن دنوں ایسا لگتا ہے کہ ہم موت کے خوفناک سایے تلے ہی جی رہے ہیں اور زندگی کی ساری رونقیں،مسرتیں،خوشیاں اور دلفریبیاں ماند پڑتی جارہی ہیں ۔ تقریباً ہردن یا دو ایک دن کے وقفے سے کسی نہ کسی عزیز،قریب،بزرگ یا تعلق دار کے سانحۂ ارتحال کی خبریں آتی ہیں اور ذہن و دل پر خوف و ہراس کی لہریں دوڑا جاتی ہیں۔ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ:
اٹھ ’رہی‘ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے اور کس کا ماتم کیجیے
(حیدر علی آتش)
ابھی پچھلے کئی ایسے دلدوز سانحوں کا زخم ہرا تھا کہ یکم ستمبر کی صبح شمالی بہار کے ممتاز،مستند و معتمد علیہ عالم،فقیہ و قاضی مولانا محمد قاسم مظفرپوری بھی کاروانِ رفتگاں میں شامل ہوگئے۔ ان کی عمر اسی سال سے زائد تھی،گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل بیمار تھے اور ان کی ہسپتال آمد و رخصت کا سلسلہ جاری تھا۔ ابھی ہفتہ دوہفتے قبل ان پر نئے سرے سے مرض کا شدید حملہ ہوا اور انھیں مظفر پور کے ایک نرسنگ ہوم میں داخل کروایاگیا تھا،علاج کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری تھا،ان کے تیمار داروں اور رشتے داروں کے ذریعے سوشل میڈیا پر دو دن قبل یہ خبر دی گئی کہ اب ان کی طبیعت رو بصحت اور قابلِ اطمینان ہے،مگرپھران کی وفات کی جانکاہ خبر آگئی۔ بظاہر ان کی وفات طبعی عمر کو پہنچنےکے بعد ہوئی،مگر ان کی شخصیت کا وجود اس دورِ قحط الرجال میں بسا غنیمت تھا اور ہمیں ان کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔
مولانا شمالی بہار کے جس خطے سے تعلق رکھتے تھے،وہاں بڑی علمی شخصیتیں تو کئی گزریں،مگر ان کے ذریعے خود ان کے اہلِ علاقہ کی بجاے ملک اور دنیا کے دوسرے خطوں کو زیادہ فیض پہنچا۔ مولانا اپنے علمی قدوقامت کی غیر معمولی عظمت کے اعتبار سے واحد ایسی شخصیت تھے،جس نے اپنے تمام تر علمی امتیاز اور دنیا کے کسی بھی خطے میں پہنچ کر کامیابی و کامرانی کی اعلیٰ سے اعلیٰ منزلوں کو پانے کی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود اپنے خطے یعنی شمالی بہار میں رکنے،ٹِکنے اور وہیں جم کر علمی و دینی خدمت انجام دینے کا فیصلہ کیا اور کم و بیش نصف صدی تک مدرسہ رحمانیہ سپول،اپنے گاؤں انگواں مادھوپور اور امارت شرعیہ بہار سمیت بہار کی دیگر دسیوں علمی ودینی دانش گاہوں کی سرپرستی و رہنمائی کے ذریعے مسلمانوں کی خدمت کرتے رہے۔ میری نظر میں مولانا کا یہ وصف نہایت ہی قابلِ تحسین تھا کہ انھوں نے مادی ترقیات کے غیر معمولی امکانات کو نظر انداز کرکے بہار کے کوردہ خطے کو اپنی علمی وعملی جولانیوں کا مرکز بنایا اور پوری یکسوئی و استقلال کے ساتھ اسی سرزمین سے جڑے رہے۔
خصوصا رجال سازی کے معاملے میں مولانا کو غیر معمولی قدرت و صلاحیت حاصل تھی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ خود اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کی بہترین علمی و عملی تربیت کی اور سیکڑوں باصلاحیت شاگرد بھی تیار کیے ۔ مولانا رحمت اللہ ندوی انہی کے برادرزادے اور مولانا ہی کے تربیت یافتہ ہیں ،جن کی علمیت و عربیت کا شہرہ برصغیر کے علاوہ عالم عربی میں بھی ہے اور جنھوں نے خصوصاً عربی زبان میں کئی اہم علمی کتابیں تصنیف کیں اور ہندوستان کی متعدد اہم علمی شخصیات کو عرب دنیا میں متعارف کروایا ہے،جن میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا کے صاحبزادے مولانا عبداللہ مبارک ندوی،ان کے خاندان کے دیگر علما اور ان کے سیکڑوں ایسے شاگرد ہیں ،جنھوں نے ان کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا اور آج ملک و بیرون ملک میں علم و دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ میری نظر میں مولانا کی یہ دوسری عظیم خصوصیت تھی؛کیوں کہ ایسے لوگ تو بہت مل جاتے ہیں،جو خود بہت قابل اور باصلاحیت ہوتے ہیں،مگر ان کے اندر دوسروں کو بنانے، سنوارنے اور نکھارنے کی صلاحیت نہیں ہوتی،ان کی خوبیاں متعدی نہیں ہوتیں ،لازم رہ جاتی ہیں،ان کے علمی و عملی امتیازات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ پاتا،انہی تک سمٹ کر رہ جاتا ہے۔
مولانا قاسم مظفر پوری کا علمی مقام و مرتبہ نہایت بالا بلند تھا،انھوں نے دیوبند سے اس دور میں تعلیم حاصل کی جب شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی شیخ الحدیث تھے اور ان کی وفات کے بعد مولانا فخرالدین مرادآبادی جیسی شخصیت اس مسندِ تدریس پر فائزہوئی،انھیں دونوں شخصیات سے استفادے کا موقع ملا،ان کے علاوہ بھی اس زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ چندے آفتاب ،چندے ماہتاب تھے،ہر ایک اپنے فن میں باکمال اور طالب علموں کے تئیں نہایت مخلص تھا،سو مولانا نے ان سب سے جی بھر کے استفادہ کیا اور فضیلت کے سال امتیاز کے ساتھ سالانہ امتحان پاس کیا،جب وہاں امتحان میں کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ نمبرات پچاس تھے،تب انھوں نے تقریباً تمام کتابوں میں اکیاون،باون،تریپن نمبرات حاصل کیے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ دربھنگہ کے قدیم ادارہ مدرسہ امدادیہ میں تدریسی خدمت انجام دی اور اس کے بعد چالیس سال سے زائد مدرسہ رحمانیہ سپول میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا،اس ادارے کو بنیاد سے علمی انتہاؤں تک پہنچایا اور وہاں شیخ الحدیث رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خدمتِ قضا سے بھی وابستہ رہے اوراپنی قوتِ فیصلہ،دروں بینی و تہہ رسی،دلائل کے استناد اور فیصلوں کی اصابت کی وجہ سے امارت شرعیہ کے قاضی القضاۃ تک کے مرتبے تک پہنچے۔ تفسیر،فقہ و حدیث ،ادب، بلاغت اور منطق و فلسفہ جیسے علوم عقلیہ و نقلیہ میں انھیں حیرت ناک حد تک دست رس حاصل تھی۔ ان کا ذہن نہایت قوی تھا اور یاد داشت بہت ہی مضبوط،قدیم مراجع و مآخذ ان کی نگاہوں کے سامنے ہوتے اور مطالعے سے انھیں غیر معمولی دلچسپی تھی، اپنے گھر سے متصل ہی ایک بہترین اور تقریباً جدید تقاضوں کو پورا کرنے والی لائبریری بنوائی،جہاں بیٹھ کر وہ مطالعے کے علاوہ اپنے دیگر علمی و تصنیفی امور انجام دیا کرتے تھے۔
میری ان سے پہلی ملاقات اس زمانے میں ہوئی،جب میں دیوانِ متنبی پڑھتا تھا،میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے باہر دروازے سے متصل صحن میں ایک تخت پر بیٹھ کر مشکوۃ شریف کا مطالعہ کر رہے تھے۔ دعا سلام کے بعد انھوں نے مجھ سے تعلیمی مصروفیات کے بارے دریافت کیا،میں نے جوں ہی دیوان متنبی کا نام لیا،انھوں نے کہا کچھ اشعار سنائیے،میں نے دوچار اشعار سنائے،تو انھوں نے ان کی نحوی ترکیب پوچھی، میں نے کچھ درست اور نادرست ترکیبیں بتائیں،جنھیں مولانا نے درست کیا۔ جتنی دیر ان کے پاس بیٹھے رہے،اسی قسم کے علمی و ادبی مسئلوں پر باتیں ہوتی رہیں۔ مجھ پر طالب علمانہ دور کی غیر معمولی مرعوبیت تو طاری تھی،مگر ان کی صحبت سے اٹھ کر محسوس ہوا کہ اتنی سی مدت میں میرے علم میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور جو باتیں کئی کتابوں کے مطالعے کے بعد معلوم ہوسکتی تھیں،وہ اس مختصر گفتگو میں معلوم ہوگئیں۔ پھر مولانا سے ایک قسم کی انسیت ہوگئی،ویسے ان کا سراپا بھی بڑاپیارا،خوب صورت اور دل کش تھا،مسکراتے بہت خوب تھے اور بات کرنے کا لب و لہجہ بڑا بے ساختہ اور بے تکلفانہ ہوتا،سادگی و بے ریائی ان کی شخصیت کے لازمی اجزا تھے،دیکھ کر محسوس نہ ہوتا کہ وہ ایسے عظیم اور جلیل القدر اہلِ علم ہیں۔ اسلامک فقہ اکیڈمی،آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ،امارت شرعیہ اور نہ جانے کتنے ہی قومی و علمی ادارے ان کے علم و بصیرت کے خوشہ چیں رہے اور وہ ان کے اہم پروگراموں میں شامل ہوتے رہے،مگر اسی شانِ بے نیازی و سادگی کے ساتھ۔ روایتی شان و شوکت اور آؤ بھگت کے نہ قائل تھے اور نہ اپنے آپ کو اس کا عادی بنایا۔ خود نمائی و ریاکاری کی بے تحاشا مسابقت کے دور میں ان کی یہ خوبی بھی بے مثال تھی اور لائقِ تقلید۔ آخری بار غالباً دوہزار اٹھارہ میں ان کے گھر(انگواں مادھوپور،مظفرپور) کئی سال بعد ملاقات ہوئی،غیر معمولی مسرت کا اظہار کیا،بڑی دعائیں دیں،اپنی لائبریری کا خاص طورپر معاینہ کروایا اورلائبریری میں جمع کردہ قیمتی علمی ذخیرے سے متعارف بھی کروایا۔ ایک ایک کتاب دکھاتے اور اس کی موضوعی وقعت و اہمیت بھی بتاتے جاتے۔
مولانا نے تدریس و قضا کے علاوہ تصنیفی کام بھی کیا اورمکاتیبِ رحمانی، تذکرۂ عثمان،رہنماے قاضی،قرآنی سورتوں کا تعارف،بینک سے متعلق چند مسائل،رشتہ داروں کا احترام کیجیے اور یتیموں کا اکرام کیجیے وغیرہ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔ البتہ ان کا سب سے اہم علمی و تحقیقی کام محمد بن عبداللہ مسلم البھلوی کی کتاب’أدلۃ الحنفیۃ‘کی تکمیل ہے۔ مصنف پہلی جلد ہی مرتب کرسکے تھے،جو عبادات کے مسائل پر مشتمل ہے،مولانا محمد قاسم مظفرپوری نے معاملات کے مسائل پر مشتمل اس کی مزید دو جلدیں مرتب کیں اور 2017میں پندرہ سو سے زائد صفحات پر مشتمل تین جلدوں میں نہایت اعلیٰ ونفیس انداز میں یہ کتاب دارالقلم،دمشق سے شائع ہوکر علمی دنیا میں غیر معمولی مقبولیت سے ہم کنار ہوئی۔
الغرض مولانا کی شخصیت ہشت پہلو تھی اورجو لوگ ان سے واقف ہیں(اور ایسے ہزاروں لوگ ہوں گے) انھیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ شمالی بہار نے علم و نظر اور فکر و بصیرت کا کیسا قیمتی گوہر کھو دیا،سیاسی،سماجی و معاشی بحرانوں سے دوچاراس خطے کا ایک مستند علمی حوالہ بھی چھن گیا،اہلِ علم یتیم ہوگئے اور فقہ و قضا کی محفل سونی ہوگئی،کتاب دوستی کا ایک عہد مکمل ہوا اور تربیتِ نسلِ نو و رجال سازی کی ایک تاریخ انتہا کو پہنچ گئی۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*