اُس وقت سے بچیں-رامش فاطمہ

آپ کو کورونا وائرس میں سازش نظر آ رہی ہے یا کوئی اور بکواس آپ کے ذہن میں پل رہی ہے وہ آپ کا انتہائی ذاتی مسئلہ ہے، آپ اپنی کھوپڑی سے فائیو جی اور باقی بھوسہ نکالیں یا چِپ ڈلوا کر اپنا دماغ چلوائیں وہ بھی آپ کی مرضی،البتہ کبھی کبھار کوئی سیدھی بات سننے اور سمجھنے میں زیادہ مسئلہ نہیں ہونا چاہیے اور وہ سیدھی بات نو بکواس یہ ہے کہ اب اگر آپ کے پاس پیسہ بھی ہے تو آپ کو قصائیوں سے کورونا کا ٹیکہ لگوا کر مرنے کا موقع نہیں مل سکے گا کیونکہ آپ کے ملک کے لامحدود وسائل کبھی صحت پہ خرچ ہی نہیں ہوئے، لامحدود کو بےحد محدود کر کے جو تھوڑا بہت بچتا ہے وہ صحت کے حصے میں آتا ہے اور آیا ہے اور اب تو خیر کمال ہی ہو گیا ہے کہ چیزیں یہاں کم پڑ رہی ہیں اور باہر بھیجی جا رہی ہیں۔
اس وقت بیشتر پرائیویٹ ہسپتال کورونا کو ڈیل نہیں کر رہے اور نہ ہی وہ کر سکتے ہیں، باقی جو کر رہے ہیں وہ تقریباً بیٹھ چکے ہیں۔ جو کام کر رہے ہیں وہ خود یہ تحفہ وصول کر کے گھر بیٹھنے پہ مجبور ہیں، کچھ مر رہے ہیں اور کچھ سوچ رہے ہیں کہ اب کیا ہو گا۔
آپ میں سے بیشتر لوگ لاک ڈاؤن کو اشرافیہ کا چونچلا سمجھ کر بھوک کو جواز بنا رہے ہیں، اگر آپ یہاں کے کچھ غلط یا صحیح بنیادی اصولوں سے واقف ہوں تو غریب بندے کے لیے بیماری آپ سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے، ان کے خاندان کا ایک فرد جب بیمار ہو تو وہ اپنے محدود وسائل بھی اپنی بنیادی ضروریات سے ہٹ کر اس بیمار پہ خرچ کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ نہ وہ علاج کروا سکتے ہیں نہ علاج کروانا چھوڑ سکتے ہیں، کچھ معاشرتی دباؤ کچھ رشتوں کی مجبوری کچھ ذاتی احساس کبھی کوئی اور وجہ، ایسے میں کسی کی تعلیم رہ جاتی ہے تو کوئی مقروض ہو جاتا ہے۔ اُسے اپنی فرسٹریشن نکالنے کے لیے اور کوئی نہیں ملتا نہ صحت کے کرتا دھرتا نہ حکومت نہ مقتدرہ نہ ہسپتال کی انتظامیہ، وہ یہ سارا غصہ اور مایوسی آن ڈیوٹی ڈاکٹر پہ نکالتا ہے جو خود محض ایک ملازم ہوتا ہے پالیسی سازی سے وسائل تک اس کے حصے میں ہر دو طرف سے گالیاں ہی آتی ہیں۔ اگر وہ آپ کو سمجھائے تو آپ بھی نہیں سمجھتے اگر اپنے سے اوپر والوں کو سمجھائے وہاں سے بھی شٹ اپ کال ملتی ہے۔ پھر ان میں سے بہت سوں کے گھر والے تنگ آ جاتے ہیں علاج کروانا چھوڑ دیتے ہیں۔
آنے والے ایک دو ماہ میں بہت سوں کا المیہ یہ ہو گا کہ ان کے پاس رقم تو ہو گی پر علاج نہیں ہو سکے گا کیونکہ بیڈ نہیں ملے گا یا وینٹیلیٹر نہیں ملے گا۔
چیزوں کو ڈیل کرنے کا ایک طریقۂ کار ہوتا ہے، بیشتر ہسپتالوں کی انتظامیہ اور حکومت دونوں کی طرف سے صرف ری ایکشنری کام کیے گئے اور بہت کچھ ابھی تک بھی واضح نہیں ہو سکا، اس میں ہم جیسے لوگ بھی واللہ آپ کی طرح سب بھگت رہے ہیں، ہم میں سے بیشتر ڈاکٹروں کے والدین اس عمر میں ہیں جہاں انہیں ذیا بیطس یا بلند فشارِ خون یعنی شوگر یا بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہے وہ نہ نوکری چھوڑ سکتے ہیں نہ گھر بیٹھ سکتے ہیں نہ اپنے والدین کے قریب جا رہے ہیں۔
اگر آپ نے یہاں تک پڑھ لیا ہے تو اس ساری بکواس کا مقصد محض اتنا ہے کہ اگلے تین ماہ آپ گھر بیٹھ جائیں، کسی جنازے پہ نہ جائیں یہ موت کی سب سے اچھی بات ہے کہ جو مر جاتا ہے وہ اس سب سے بےنیاز ہو جاتا ہے ، کوئی نہ ملنے پہ ناراض ہوتا ہے تو ہو جائے آج کل وہ آپ کا دوست نہیں دشمن ہے، کسی نے کرنی ہے شادی تو کرے مرے بھاڑ میں جائے آپ وہاں نہ جائیں ، کسی مذہبی اجتماع یا عبادت گاہ میں جائے بغیر بھی آپ کا قیمتی ترین مذہب محفوظ رہے گا۔
آپ اس بات سے غالباً ابھی تک واقف نہیں ہیں کہ کسی اپنے کو مرتے دیکھنا، اُس کا سی پی آر ہونا، اس کو بیڈ نہ ملنا کتنی بڑی اذیت ہے۔ سانس لینے میں دشواری ہونا کیا ہے اور پانی پینا کتنی بڑی عیاشی ہے یہ کوئی اُن سے پوچھے جن کے پھیپھڑے اور گردے اُنہیں اس عیاشی کی اجازت نہیں دیتے۔
ایک کڈنی فیلئر کے مریض نے کہا تھا تم ڈاکٹر تو بیٹا یزید ہو گئے ہو پانی بھی کُھل کر نہیں پینے دیتے۔
ہم روز سوشل میڈیا پہ المیوں کی داستان پڑھ رہے ہیں، ایک روز ہم خود بھی المیہ بن جائیں اُس سے پہلے رُک جائیں۔ بیماری سے لڑتے نہیں ہیں بیماری کا صرف علاج ہوتا ہے، بیماری کوئی دیوار نہیں جس میں آپ ٹکریں ماریں کوئی ریل نہیں جس کی پٹڑی پہ لیٹ کر خود کشی کر لیں، اس سے بچیں اور اپنے پیاروں کو بچائیں، اُس وقت سے بچیں جب آپ کو کسی کے لیے بیڈ ڈھونڈنا پڑے تو بیڈ نہ ملے، وقت پہ ڈاکٹر اور دوا نہ ملے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)