استاد محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی یاد میں ـ سید محمد زین العابدین

(تیسری قسط)
حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بہت ہی عمدہ مقالہ لکھا تھا جو اقرا ڈائجسٹ اور بینات میں شائع ہوا، اسی طرح حضرت کا ایک کتابچہ "محبت رسول ایمان میں سے ہے” اور ایک تیسرا کتابچہ "حضرت علی اور حضرات خلفائے راشدین” ہے، یہ تینوں مقالات چوں کہ ایک دوسرے سے قربت رکھنے والے موضوعات تھے، لہذا ان کو یکجا کرلیا گیا اور بہترین انداز میں مرتب کر کے حضرت کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت رحمہ اللہ نے اس کتاب کو پسند فرمایا، اور حضرت کے بڑے بیٹے مولانا ڈاکٹر سعید خان اسکندر صاحب زید مجدہ نے بھی کتاب کا پرنٹ دیکھ کر پسندیدگی ظاہر کی۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے محترم مفتی رفیق احمد بالاکوٹی صاحب زید مجدہ کو مزید کتاب دیکھنے کے لیے فرمایا۔ حضرت مفتی صاحب نے اپنی نگرانی میں پوری کتاب کی بہترین تخریج کروائی اور حوالے لگوائے، کتاب کئی سالوں سے تیار ہے، لیکن اب تک چھپ نہ سکی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی کتاب جلد چھپوانے کی کوئی سبیل پیدا فرمادیں۔ کتاب میں موجود تینوں مقالات اپنی جگہ پر بہت عمدہ اور سدا بہار ہیں۔ عام و خاص سبھی کے لیے خاصہ کی چیز ہیں۔ مکتبة النور دیوبند کے احباب نے اس کی فہرست دیکھ کر رابطہ کر کے فرمائش کی تھی کہ ہمیں فائل دے دیں ہم چھاپیں گے۔ لیکن ظاہر ہے کہ جب تک کتاب یہاں نہ چھپ جائے وہاں کیسے دی جاسکتی ہے، لہذا ان سے معذرت کرلی۔
اس کے بعد خیال ہوا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب قدس سرہ نے جو عربی مقالات لکھے ہیں، ان کو جمع کرلیا جائے۔ چناں چہ البینات عربی کی پرانی فائلیں کھنگال کر ان میں موجود حضرت ڈاکٹر صاحب کے مضامین کی فوٹو کاپی کروائی گئی، اسی طرح حضرت کے بعض دستیاب عربی کتابچے بھی اکٹھے کیے گئے، اس سلسلہ میں ایک بہت ہی باصلاحیت اور لکھنے پڑھنے کا ذوق رکھنے والے نوجوان فاضل سے اس کی بابت مشورہ بھی ہوا، لیکن افسوس ہے کہ اس کا کمپوزنگ کا مرحلہ بھی اب تک شروع نہ ہوسکا۔
کچھ سال قبل سہ ماہی وفاق عربی شائع ہونا شروع ہوا تھا، اس کے مدیر صاحب نے مجھ سے رابطہ کر کے ان عربی مضامین کی فوٹو کاپیاں منگوائی تھیں کہ وہ اپنے ہر شمارہ میں ڈاکٹر صاحب کا ایک عربی مضمون لگائیں گے۔ لیکن ایک آدھ مضمون لگنے کے بعد وہ رسالہ نظر نہیں آیا۔ نہیں معلوم کہ رسالہ کا کیا بنا؟!
بہرحال حضرت ڈاکٹر صاحب سے بحیثیت استاذ ہونے کے جو تعلق تھا اس سے بڑھ کر حضرت کی مختلف عظیم الشان صفات کی بنا پر حضرت سے محبت تھی۔ تو اللہ کی توفیق سے حضرت کے مندرجہ بالا افادات پر کام کرنے کی توفیق ہوئی۔ اللہ تعالی قبول فرمائیں۔
اب ضرورت ہے کہ حضرت کے اب تک شائع نہ ہونے والے افادات کو امت کے سامنے لایا جائے۔ سنا تھا کہ آپ نے "اختلاف امت اور صراط مستقیم” کی بھی تعریب کر لی تھی، لیکن وہ شائع نہ ہوسکی۔ اسی طرح حضرت کے نام آنے والے خطوط یا حضرت کے لکھے ہوئے خطوط غرض سبھی پوشیدہ خزانے منظر عام پر آئیں گے تو افادہ عام ہوگا۔ اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے۔
(جاری )