استاد شاعر ظفر نسیمی کی رحلت

بھوپال: (رضوان الدین فاروقی) بھوپال سے تعلق رکھنے والے بزرگ و کہنہ مشق شاعر ظفر نسیمی رضائے الٰہی سے وفات پا گئےـ ظفر نسیمی بیگمات و جھیلوں کے خوبصورت شہر بھوپال کی بزرگ اور مقتدر شخصیت تھےـ ان کا شعری سفر طویل ہے اور ان کا شمار بھوپال کے استاد شعرا میں ہوتا تھاـ
ظفر نسیمی کی ولادت ٢٤ ستمبر ١٩٣٤ کو بھوپال کے ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں خالص دینی ماحول تھاـ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور ذہنی نشو و نما ایسے ماحول میں ہوئی جہاں شعر و ادب کا ذکر نہیں تھاـ کالج میں بھی آپ کامرس اور اقتصادیات (اکانومکس) کے طالب علم تھے لیکن آپ کو ذوق شعر فطرت کی طرف سے ودیعت ہوا تھا اور آپ لڑکپن میں ہی بغیر کسی استاد کے موزوں شعر کہنے لگے تھےـ آپ بھوپال میں عصری تعلیم کی پہلی درس گاہ گورنمنٹ حمیدیہ کالج کے قیام کے نہ صرف یہ کہ گواہ ہیں بلکہ پہلے بیچ کے طالب علم ہیں ـ آپ نے وہیں سے بی کام اور ایم اے کیاـ کالج کے دوران تعلیم ہر میگزین میں آپ کی تخلیقات شائع ہوتی تھیں ـ حمیدیہ کالج کا وہ دور سنہرا دور تھاـ دنیائے اردو کے آفتاب و ماہتاب جاں نثار اختر، صفیہ اختر، ڈاکٹر گیان چند جین، ڈاکٹر ابو محمد سحر اور ڈاکٹر سلیم حامد رضوی اس دوران کالج کے اساتذہ رہےـ
جاں نثار اختر کالج کے میگزین کے نگراں تھےـ ظفر نسیمی اپنی غزلیں بغرض اصلاح اور پھر اشاعت کے لیے انھیں دیا کرتے تھے جو ویسی ہی شائع ہوجایا کرتی تھیں ـ بعد میں کچھ غزلیں ویسے ہی جاں نثار اختر کی خدمت میں بغرض اصلاح پیش کیں لیکن انھوں نے یہ کہہ کر کہ اصلاح کی ضرورت نہیں ہے، واپس کردیں ـ اس طرح آپ جاں نثار اختر کے فارغ الاصلاح شاگرد ہیں ـ
ظفر نسیمی کی شاعری محض تفریح طبع کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ اس میں ہمارے عہد کے زخموں کی نشاندہی ایک مخصوص شعری انداز میں کی گئی ہےـ آپ کے کلام میں اکثر ایسا لطیف طنز ہوتا ہے جو غم کو خندہ پیشانی سے سہہ لینے کے بعد ہلکی ٹیس کی شکل میں ظاہر ہوتا ہےـ ظفر نسیمی واقعی بڑے شاعر ہیں اور مشاہیر ادب نے ان کے شاعرانہ کمال کا اعتراف کیا ہےـ