استاد کا نوحہ- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

"پہلے میں تمھارا استاد تھا ، لیکن اب تم میرے استاد ہو ” کسی شاگرد کے سامنے اگر استاد اس انداز سے اس کی تعریف کرے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شاگرد اپنے آپ کو کتنا بڑا خوش نصیب سمجھنے لگے گا ۔ وہ تو اپنے آپ کو آسمان میں اڑتا ہوا محسوس کرے گا ۔ دنیا میں ایوارڈس کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ اسے کسی شخص کی قابلیت اور عظمت کو ناپنے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کسی شخص کے لیے اس سے بڑا اور کوئی ایوارڈ نہیں ہوسکتا ۔ افسوس کہ مجھے اتنا بڑا ایوارڈ مرحمت فرمانے والے میرے محبوب استاد جناب رونق علی (رام پور) مختصر علالت کے بعد آج صبح تقریباً 10 بجے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
پچاس برس کا عرصہ بیت گیا ، لیکن ابھی کل کی بات معلوم ہوتی ہے ۔ میری عمر کوئی چھ سات برس رہی ہوگی ۔ میرے ابّا، جو جماعت اسلامی ہند کے رکن تھے ، گھر پر میری تعلیم کا انتظام کرکے ، جماعت کے تیار کردہ نصاب کے مطابق درجہ چہارم تک کی کتابیں پڑھواکر مجھے درس گاہ جماعت اسلامی ہند رام پور میں چھوڑ آئے۔ مجھے اب بھی یاد ہے ، میرا قد اتنا چھوٹا تھا کہ ٹیسٹ لینے کے لیے جب مجھے بلیک بورڈ کے سامنے کھڑا کیا گیا تو میرا ہاتھ بلیک بورڈ تک نہیں پہنچا تھا ۔ چنانچہ مجھے اسٹول پر کھڑا کردیا گیا تھا ۔ مجھے درجہ پنجم کے لائق سمجھا گیا ، لیکن محض بہت کم عمر ہونے کی وجہ سے درجہ چہارم میں داخلہ دے دیا گیا۔ مجھے جو اساتذہ ملے وہ سب جماعت اسلامی کے مشن سے وابستہ اور اس کے سرگرم کارکن تھے ۔ جناب رونق علی ، جناب عرفان خلیلی ، جناب ابو المجاہد زاہد ، مولانا محمد ایوب اصلاحی جیراج پوری ، مولانا محمد سلیمان قاسمی ، جناب منظور فاخر ، جناب یونس عثمانی ، جناب اسلام اللہ پریمی ، جناب اقبال حسین خاں اور پرنسپل جناب منظور الحسن ہاشمی (حیدرآباد) وغیرہ سب نے نہ صرف مجھے زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا ، بلکہ بہترین اخلاقی تربیت کی ۔ میں ان سب کا احسان زندگی کی آخری سانس تک نہیں بھول سکتا ۔
رونق علی صاحب نے مجھے ریاضی (Mathematics) پڑھائی ۔ ان کی تعلیم سے میں ایکسپرٹ ہوگیا تھا ۔ ایک واقعہ یاد آتا ہے ۔ جونیر ہائی اسکول کا بورڈ کا امتحان رضا انٹر کالج رام پور میں ہورہا تھا۔ ایک سوال لڑکوں سے حل نہیں ہوپارہا تھا ۔ انھوں نے نگرانی کرنے والے ایک استاد سے پوچھا ۔ استاد نے آکر میری کاپی دیکھی ۔ اس نے کہا :” تم نے جواب غلط لکھا ہے ۔” میں اتنا پُر اعتماد تھا کہ میں نے جواب دیا : "میرا جواب درست ہے ۔ آپ رہنے دیں ۔ “ رزلٹ آیا تو مجھے ریاضی کے پیپر میں امتیازی نمبر ملے تھے ۔

علی گڑھ میں ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی سے وابستگی کے کچھ عرصہ کے بعد ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی میں ‘رسائل و مسائل’ کا کالم میرے حوالے کیا گیا ۔ میں قارئین کے فقہی سوالات کے جوابات قرآن و حدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں دیا کرتا تھا ۔ میرا یہ کالم بہت پسند کیا گیا ۔ ان پسند کرنے والوں میں استاد محترم رونق علی صاحب بھی تھے ۔ ایک مرتبہ انھوں نے بتایا کہ زندگی نو ہاتھ میں آتے ہی میں سب سے پہلے تمھارا کالم پڑھتا ہوں ۔ وہ جملہ جس سے میں نے اس تحریر کا آغاز کیا ہے ، انھوں نے اسی پس منظر میں کہا تھا۔
استاد مرحوم کے صاحب زادے قاسم سید (چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں نئی دہلی) میرے کلاس فیلو ہیں۔ استاد زادہ ہونے کی حیثیت سے میں انہیں عزیز رکھتا ہوں اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ استاد محترم جب بھی دہلی آتے ، مجھ سے ملنے کے لیے مرکز جماعت اسلامی ہند ضرور تشریف لاتے ۔ دیر تک باتیں کرتے ، کچھ سوالات کرکے ان کے جوابات چاہتے۔ جماعت کی سرگرمیاں بھی زیرِ بحث آتیں۔ میرے علمی کاموں پر وہ بہت زیادہ خوشی کا اظہار کرتے اور میری خوب ہمّت افزائی کرتے ۔ ان کی باتیں سن کر میرا سینہ خوشی اور فخر سے پھول جاتا تھا۔
ایک مرتبہ استاد محترم رام پور سے آئے تو میرے لیے دو ٹوپیاں لائے ۔ رام پور مخملی اور اونی ٹوپیوں کے لیے مشہور ہے ۔ میں نے ان کی خواہش میں ان کی دی ہوئی ٹوپی پہن تو لی ، لیکن اسے جاری نہ رکھ سکا ۔ دراصل رام پور میں پانچ برس رہنے کے زمانے میں رام پور کی ہر طرح کی ٹوپی پہن کر جی بھر گیا ہے ۔ علما ، خطبا اور واعظین اونچی ٹوپی کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ اس طرح اپنا قد حقیقی قد سے مزید اونچا کرلیتے ہیں ۔ میں یوں بھی چھوٹے قد و قامت کا ہوں ۔ اونچی ٹوپی لگاکر مجھے مصنوعی طور پر اپنا قد بڑھانا اچھا نہیں لگتا ۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہوں کہ میرا قد لوگوں کی نظروں میں چاہے چھوٹا ہو ، لیکن اس کی نگاہ میں بڑا ہوجائے ۔
استاد محترم نے رام پور کی درس گاہ میں طویل عرصہ تک تدریسی خدمت انجام دی ۔ان کے ہزاروں شاگرد پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ وہ جماعت اسلامی ہند کے رکن تھے ۔ انھوں نے امیر مقامی ، ناظم ضلع اور دیگر حیثیتوں سے بھی خدمات انجام دیں اور آخر تک سرگرم رہے ۔ انھوں نے تحریک سے وابستگی کے وقت جو عہد کیا تھا اسے پورا کردکھایا ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*