استاذِ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی یاد میں ـ سید محمد زین العابدین

 

بروز بدھ 19 ذی قعدہ 1442ھ 30 جون 2021ء نماز ظہر کے بعد تقریبا ڈھائی بجے یہ خبر آئی کہ استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بہت سی شخصیات جن سے میرا تعلق رہا یا جن سے غائبانہ عقیدت و محبت رہی، ان پر بڑی آسانی سے اپنی یاد داشتیں میں لکھتا رہا، اور وہ روزنامہ اسلام یا مختلف رسائل و جرائد میں تعزیتی شذرات و مضامین کی حیثیت سے شائع ہوتی رہیں۔ لیکن استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کے انتقال کو کئی دن گزر گئے ہیں، کئی باتیں ذہن میں ہیں، حضرت کی خدمت میں کئی حاضریاں ہوئیں، اپنی کتابوں پر تقریظیں لکھوائیں، زمانہ طالب علمی میں صبح شام حضرت کو دیکھا، حضرت کے بیانات سنے، بخاری شریف پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی، لیکن عجیب بات ہے کہ ان سب یادوں کو قلم بند کرنا بہت مشکل ہورہا ہے، کئی بار سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں لیکن لکھا نہیں جاتا۔ حضرت رحمہ اللہ کی محبوبیت، ان کا عمدہ اخلاق، ہر ایک کی بات محبت سے سننا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا، بہت سے انتظامی عہدوں کی مصروفیتوں کے باوجود آخر عمر تک چڑچڑاہٹ سے دوری، لوگوں کے مسائل سننے اور ان کا جواب دینے میں نرمی اور شفقت، ان سب کے ساتھ قرآن و حدیث کے گہرے علم اور علمی رسوخ کے ساتھ سالوں پر محیط عرصہ تدریس، ایک لمبا عرصہ بنوری ٹاون کا اہتمام حسن انتظام کے ساتھ چلانا اور سب کو ساتھ لے کر چلنا، وفاق کی صدارت، مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت، کتابوں کی تصنیف و تالیف، عربی زبان و ادب سے دلچسپی، جامع مسجد بنوری ٹاون میں وقتا فوقتا مختلف موقعوں کی مناسبت سے وعظ و بیان کی خدمت، پورے ملک کے کئی اداروں کی شورائی رکنیت کو سنبھالنا اور اس کو نبھانا، پھر حج و عمرہ اور ملک و بیرون ملک کے اسفار اور نہ جانے کیا کچھ جو حضرت ڈاکٹر صاحب کی ذات کے ساتھ جڑا ہے، ان سب پر اگر لکھا جائے تو بہت وقت چاہیے اور بڑی صلاحیت و لیاقت درکار ہے، اللہ نے چاہا تو ان سے فیض اٹھانے والے بہت سے مخلص احباب ان موضوعات پر لکھیں گے اور ان شاء اللہ کتابیں منظر عام پر آئیں گی، لیکن یہاں میں صرف اپنے ذمہ کا قرض ادا کرنے کی ایک ادنی سی کوشش کرنے بیٹھا ہوں اور چاہتا ہوں کہ کچھ منتشر یادیں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں یہاں پیش کر کے "خریداران یوسف” کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے، اللہ کے اس نیک بندے کا ذکر خیر کرنے والوں کی کسی صف کے کونے میں کھڑا ہوجاوں۔ اللہ تعالی سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس تحریر کو نافع بنائے۔ آمین
حضرت ڈاکٹر صاحب رحمة اللہ علیہ اس پرفتن دور میں ایک فرشتہ صفت انسان تھے، دنیا کی چالاکیاں، ہوشیاریاں ان کی سرشت میں نہیں تھیں، وہ سیدھے سادے اور معصوم سے آدمی تھے، زیادہ اٹھنے بیٹھنے اور قریب سے دیکھنے والوں کے علاوہ کبھی کبھار ملنے والا بھی ان کی ان صفات کو پہچان لیتا تھا۔ ان تک ہر شخص کی رسائی تھی، لوگ زبانی اور تحریری اپنے مسائل ان کے سامنے پیش کرتے تھے، کسی سفارش کی ضرورت ہوتی تو وہ فورا اس تحریر پر سفارش لکھ کر اپنے دستخط کردیتے۔
کوئی ضرورت مند مالی مدد چاہتا، حضرت اس کی مالی مدد فرمادیتے، میرا جیسا کوئی شخص اپنی بے وزن تحریروں میں جان ڈالنا چاہتا تو حضرت کھلے دل سے اس پر تقریظ لکھنے کی حامی بھرلیتے اور کچھ وقت بعد اسے تقریظ مل جایا کرتی۔ الغرض اور کچھ نہیں تو ہر آنے والا حضرت سے اپنی تصنیفات کا ہدیہ اور چائے کا تحفہ ضرور لیتا۔ ہزاروں روپے حضرت کے ہر مہینہ کا چائے کا بل ہوا کرتا تھا۔ گویا سخاوت کا دریا بہتا تھا اور ہر خاص و عام اس سے مستفید ہوتا۔
یہ تو وہ چیزوں ہیں جس کا بندوں کے ساتھ تعلق تھا، رب کے ساتھ تعلق یہ تھا کہ بڑھاپے اور ضعف کے باوجود ویل چئیر پر آنے سے پہلے تک لاٹھی اور ایک بندہ کے سہارے جماعت کی نماز میں شریک ہونے کے لیے مسجد تشریف لے آتے، بلکہ ویل چئیر پر بھی کئی بار نماز باجماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد آتے دیکھا۔ پھر نماز کے بعد مزید ذکر اللہ اور تسبیحات میں مشغول ہوجاتے، جمعہ کو بعد عصر جب کسی کے نکاح پڑھانے کی مشغولیت نہ ہوتی تو دورہ حدیث کی درس گاہ میں ہونے والی اجتماعی مجلس ذکر میں شریک ہوجاتے۔ 2010ء کے بعد سے خود اس مجلس تصوف کے روح رواں تھے۔
آج بہت سے نوجوان علما وفضلا مسجد کی جماعت سے کوتاہی برتتے ہیں، انہیں اس بزرگ ترین ہستی کی بڑھاپے اور ضعف کی حالت سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
الغرض علم و فن تو بعد کی چیز ہے اول درجہ میں حضرت الاستاذ ڈاکٹر صاحب حقوق اللہ اور اپنے ذمہ کے حقوق العباد کو بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرنے والے بلکہ اللہ کی مخلوق کی ہر طرح سے مدد کرنے والے انسان تھے۔ گویا کہ وہ عالم باعمل تھے۔ جن دنوں حضرت ڈاکٹر صاحب بیماری کے عالم میں داخل اسپتال تھے، اس ناچیز نے آپ کی بیماری سے متعلق خبر ایک واٹس ایپ گروپ پر شئیر کی تھی۔ اس پر معروف اسکالر جناب احمد جاوید صاحب نے حضرت کی صحت یابی کی دعا کے ساتھ ساتھ حضرت کے حق میں کیسی مبنی برحقیقت بات ارشاد فرمائی تھی۔ لیجیے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
"یا اللہ مولانا محترم کو کامل صحت نصیب فرمائیں. مجھ ایسے ناچیز کی گواہی اگر کسی قابل ہو تو گڑگڑا کر عرض کرتا ہوں کہ سلفِ صالح کی اس نشانی کو دھندلا بھی نہ پڑنے دیں. مولانا علم اور خشیت کا زندہ مجسمہ ہیں، ان کی فیض رسانی کا سلسلہ زیادہ پھیلاؤ کے ساتھ جاری رہے یا اللہ! آمین.”
اس پر میں نے عرض کیا:
"اللہ تعالی جناب کی دعا حضرت مولانا کے حق میں قبول فرمائے۔
آپ نے حضرت مدظلہ کے حق میں کتنی حقیقی بات ارشاد فرمائی ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب علم کے ساتھ ساتھ عمل کی دنیا کے آدمی ہیں۔ جب کہ آج سارا زور علم اور معلومات پر ہے، بلکہ حرف آخر یہی ہے۔ عملی زندگی کے چند لوگ رہ گئے ہیں۔ جن میں سے ایک استاد محترم مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ ہیں۔ خدا تعالی ان کو جلد صحت عطا فرمائے۔”
وہ وقت بھی گزر گیا اور آج استاد محترم کو ہم "رحمہ اللہ” کی دعا کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
ان کے انتقال کو آج پانچواں دن ہے، کون ایسا شخص ہے جو ان کو یاد کر کے غمگین نہیں ہے؟ کیا عالم دین اور کیا عامی ہر شخص افسردہ و نوحہ کناں ہے، وہ ہر ایک کے محبوب تھے، زبان کے میٹھے بول اور لوگوں کی مدد بندوں کو خرید لیتے ہیں، گویا کہ آج سب حضرت ڈاکٹر صاحب کے مقروض ہیں۔ رحمہ اللہ رحمة واسعة۔
حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی یہ صفات آج افکار و معلومات اور فنون کی دنیا میں بلکہ بہت سے حلقوں میں کوئی معنی نہیں رکھتیں، لیکن ان شاء اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ان کی بڑی قدر و منزلت ہوگی۔ اللہ تعالی مجھے بھی ان صفات کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔
میری سب سے پہلی قربت حضرت رحمہ اللہ سے اس وقت ہوئی جب استاد محترم حضرت مولانا عطاء الرحمن (سابق ناظم تعلیمات جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون) کی شہادت ہوئی، یہ 2012ء کی بات ہے۔ تو بندہ نے استاد محترم مرحوم پر لکھنے جانے والے مضامین جمع کیے اور بہت سے نئے مضامین بھی لکھوائے اور تقریبا چار صد صفحات کی کتاب تیار کر کے اس کا مسودہ حضرت الاستاذ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کیا، مقصود یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب بھی اپنے تاثرات تحریر فرمادیں، چناں چہ کتاب کی فہرست دیکھی اور فرمایا کہ میرا مضمون تو ہے نہیں، پھر فرمایا کہ میں ان شاء اللہ آپ کو مضمون لکھ کر دے دوں گا۔ چناں چہ ہفتہ عشرہ بعد سعد بھائی (مالک اسلامی کتب خانہ) کا مجھے فون آیا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب کا ہماری دکان کے لینڈ لائن نمبر پر فون آیا تھا، آپ کو یاد فرمارہے ہیں، میں حاضر خدمت ہوا تو استاد محترم مولانا عطاء الرحمن شہید پر دو صفحہ کا مضمون عنایت فرمایا جو کتاب کی زینت بنا اور کتاب میں چار چاند لگ گئے۔ کتاب تذکرة العطا (تذکرہ مولانا عطاء الرحمن شہید) کے نام سے شائع ہوئی۔
(جاری)