اس نے کہا تھا‘: ایک تبصرہ ـ سفینہ بیگم

اشعر نجمی کا ناول "اس نے کہا تھا” اردو ناول نگاری کی تاریخ میں موضوع اور فن دونوں اعتبار سے ایک نیا تجربہ ہے۔ جس میں LGBTQ کو موضوع بناتے ہوئے پیش کش کے جس طرز کو ملحوظ رکھا گیا ہے اس میں ہر واحد متکلم راوی جنسی عمل کے تحرک، عمل ،ردعمل یا اس سے پیدا ہونے والے تاثر میں active ہونے کے باوجود passiveness کی صورت اختیار کرگیا ہے اور جنسی عمل میں انسانی کیفیات، ہیجان انگیزی اور نفسیاتی کشمکش active form میں ہمارے سامنے آتی ہیں ۔اپنے پہلے ناول میں اس سطح کا بیانیہ خلق کرنا مشکل عمل ہے۔ ناول کا مرکزی کردار جو سائکیٹریسٹ ہونے کے ساتھ LGBTQ کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے اور خودکشی کی کوشش میں سترہ مالے سے کود جاتا ہے جس کے باعث دماغ کے علاوہ اس کا پورا جسم paralyze ہوجاتا ہے ۔ ناول میں واقعات کی تشکیل کردار کی ڈائری میں درج LGBTQ کی کیس ہسٹری ہے اور بقول انسپکٹر(ناول کا کردار) سایکیٹرسٹ نے کیس ہسٹریز کو ڈرامائی انداز سے اپنے طور پر بیان کیا ہے جس میں بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار کا رویہ LGBTQ سے تعلق رکھنے والے افراد کے تئیں مثبت ہے اور یہ کہ ناول نگار قصداً ان کی سماجی شناخت کو پائیدار بنانے کے لیے کوشاں ہے جو شاید واقعات کی تخلیقی جہت کو مجروح کرتا ہےـ مثال کے طور پر صفحہ نمبر 98 پر محسوس ہوتا ہے کہ اخلاقیات پر محمول باتوں کو ارادتاً ان کی زبان سے ادا کرایا جارہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ناول کی قرأت کے بعد قاری خوبیوں اور خامیوں کی بنیاد پر ان کے سماجی مراتب کے متعلق غوروفکر کرے جبکہ ناول کے واقعات کے پیش نظر قاری کو ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک ،جو ناول کا حاوی پہلو ہے، سے محض افسوس ہوتا ہے، اس ضمن میں جابجا کلاسیکی کرداروں کے واقعات مصنف کے موقف کی تائید بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ بعض مقامات پر بیان غیر فطری معلوم ہوتا ہے مثال کے طور پر کردار کی ہم جنس ماؤں کا کردار کو اس کی پیدائش کے عمل سے واقفیت فراہم کرنا۔

واقعات کی تنظیم میں جملوں اور فقروں کی سطح پر powerfulبیانیہ خلق کیا ہے اور فلم کی تکنیک کو مدنظر رکھتے ہوئے کرداروں کے مکالموں کے ذریعے telling کے پس پردہ showing کا عمل حاوی ہے جو ناول کی بڑی خاصیت ہے اور فنی سطح پر یہ تکنیک بیانیہ اسلوب سے اہم آہنگ ہوکر تاثر قائم کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے جہاں زمان و مکاں کی پابندیوں سے آزاد ناول کے کردار کبھی حال میں گردش کرتے ہیں تو کبھی ماضی میں۔
ناول میں بعض مقامات پر LGBTQ کے متعلق معلوماتی بیانیہ نے تقریری انداز اختیار کرلیا ہے عام طور پر تقریری انداز ، تخلیقیت پر ضرب لگاتا ہے لیکن اس ناول کی ایک خوبی یہ ہے informative narration کو آفاقی اصولوں کے پیش نظر منطقی جواز فراہم کیا گیا ہے۔ ناول کے اختتام میں جب انسپکٹر کہتا ہے کے اس نے خودکشی نہیں کی تھی بلکہ اس کا قتل کیا گیا ہے استعاراتی صورت اختیار کرلیتا ہے جس میں کردار کا بذات خود اپنے آپ کو قتل کرنا حقیقیت میں LGBTQ کے نظریات کا قتل ہے جو اپنے بیان "چلو اب مرتے ہیں” کو معنی عطا کرتا ہے۔ اس ناول کے لیے اشعر نجمی کو بہت مبارکباد۔