اسے قبول نہیں یہ بھی آئینہ دیکھے ـ راکب مختار

اسے قبول نہیں یہ بھی ،آئینہ دیکھے
بس ایک میں اسے دیکھوں یا پھر خدا دیکھے

میں چاہتا ہوں کہ اس سے ملوں تو مر جاؤں
وہ میری آخری خواہش کا معجزہ دیکھے

نکل کے آنکھ سے روئے زمیں پہ پھول بنے
یہ موتیا بھی اگر تیرا دیکھنا دیکھے

وہ دیکھتا تھا سمندر میں ڈوبتے ہوئے لوگ
اور آج مجھ میں سمندر کو ڈوبتا دیکھے

جو آنکھ حسن کے رنگوں سے فیض یاب نہ ہو
وہ اندھی نیند کے بستر پہ خواب کیا دیکھے

یہ آنکھ اتنی بھی منہ زور تو نہیں مری جان
کہ تو بھی پاس ہو اور کوئی دوسرا دیکھے

جو تسمے باندھنے والی ہے خود بھی بندھ گئی ہے
یہ لڑکی اب مرے پاؤں سے سر اٹھا دیکھے

اب اس سے بڑھ کے تجھے اور بد دعا کیا دوں
خدا کرے کہ تو بجھتا ہوا دیا دیکھے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*