ارطغرل سے عبدالحمیددوم تک:سلطنتِ عثمانیہ کاشاندارآغازاور افسوسناک انجام -غوث سیوانی

سلطنت عثمانیہ جس کی حدود افریقہ، ایشیا اور یوروپ تک پھیلی ہوئی تھیں،مغرب کے اقتدار پرستوں پر لرزہ طاری کرنے کے لئے کافی تھی۔ یہ سلطنت یوروپ اور ایشیا ہی نہیں بلکہ اسلام اور عیسائیت کے بیچ بھی ایک خط تفریق کھینچا کرتی تھی۔ اس کا قیام تب عمل میں آیا جب منگولوں کے حملوں سے پریشان ارطغرل کانومسلم قائی قبیلہ عیسائی قلعوں کے قریب آکر آباد ہوا۔ ارطغرل کے تعلق سے تاریخی شواہد کی کمی ہے مگر ترک روایات کے مطابق ایک طویل مدت تک صلیبیوں اور مغلوں سے جنگ کرکے ارطغرل نے کچھ علاقے اپنے ماتحت کرلئے تھے۔وہ اپنے قبیلے کا سردار تھامگر اپنی سمجھداری اور بہادری سے اس نے کچھ علاقوں اورقلعوں پرحکمرانی کا پروانہ سلجوقی حکومت سے حاصل کرلیا تھااور ایک ایسا جاگیرداربن گیا، جسے اپنے نام کا سکہ جاری کرنے اور خطبہ میں نام شامل کرنے کی اجازت تھی۔ارطغرل کے بعد اس کا بیٹا عثمان 1288ء میں تخت نشیں ہوا۔ اس کو بھی ایسے ہی مشکل حالات کا سامنا کرناپڑا مگر اس کے حدودحکومت میں بھی اضافہ ہی ہوتا رہا اور جب سلطانِ وقت کی موت ہوئی تو مخصوص سیاسی حالات کے پیش نظراس نے خود کو ایک خودمختار حکمراں اعلان کردیا۔بعد کے دور میںعثمان کے جانشینوں نے اس سلطنت کو قوت بخشی اور جب خلافت عباسیہ کا اثر واقتدار ختم ہوا تو’علامتی خلافت‘ (جو اصل میں ملوکیت تھی)کو بھی عثمانیوں نے اپنے نام کرلیا۔
چونکہ عثمانی سلطنت کی سرحدیں یوروپ سے ملتی تھیں لہٰذا صلیبی طاقتیں اس کے خلاف ایک مدت تک لام بند رہیں اور اسے ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی مگر کلی طور پر کامیاب نہ ہوسکیں اور اس کام کو انھوں نے کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھا۔دھیرے دھیرے دنیا کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونے لگا اور جہاں ایک طرف یوروپ میں صنعتی انقلاب نے برطانیہ کو عالمی طاقت بنا دیا، وہیں دوسری طرف ترکی ہی نہیں پورا عالم اسلام کمزور ہوتا گیا۔ اسی بیچ امریکہ بھی عالمی نقشے پر ایک قوت کے طور پر ابھرنے لگا جو کہ ابتدا میں برطانیہ کی ہی ایک نوآبادی ہوا کرتا تھا۔ سائنسی ترقی اور روز روز کی نئی دریافتیں جہاں یوروپ کو ایک غالب طاقت کے طور پر عالمی نقشے پر لارہی تھیں وہیں برطانوی سامراج دنیا میں ایک ناقابل تسخیراکائی کے طور پر ابھرا تھا جس کی حدود میں کبھی سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ اگر عیسائی آبادی دنیا کی سب سے بڑی آبادی تھی اور اس کے پاس سب سے بڑی فوجی وسیاسی قوت تھی تو یہودی بھی دولت اور اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے بے حد اہمیت کے حامل تھے۔عیسائیوں کی فوجی قوت کا راز ان کی مسلسل جد وجہد میں پوشیدہ تھا جس نے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کے کوکھ سے جنم لیا تھا۔اس کے برعکس مسلمان کمزور، بے علم اور اپنے ماضی پر نازاں تھے اور مستقبل کے لئے ان کے پاس کوئی لائحۂ عمل نہ تھا۔ وہ غیر منظم تھے اور اخوت اسلامی کا ان کے اندر فقدان تھا۔ عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں نے سازشوں کا جال بچھا ر تھا رکھا تھاجس میں الجھ کر مسلمان برادر کشی میں مصروف ہوگئے تھے۔ عرب میں ایک نیا مذہبی گروہ ابھر رہا تھا جس کی فکر سے انگریزوں کے وظیفہ خوار ابن سعود متاثر ہوچکے تھے۔ اس دوران عربوں کے ایک طبقے نے اخوت اسلامی کے بجائے عرب قومیت پر زور دینا شروع کردیا۔ اہل مغرب نے تیل کی دریافت کے بعد سمجھ لیا تھا کہ مستقبل میں اس کی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور اس پر قبضہ کے لئے عرب پر باالواسطہ یا بلا واسطہ قبضہ ضروری ہے۔یہی وہ حالات تھے جن سے متاثر ہوکر خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور مسلمانوں کی برائے نام مرکزیت بھی ہمیشہ کے لئے تباہ وبرباد ہوگئی۔ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ اصل میں اس شکست کا بدلابھی تھا جو اہل یوروپ بار بار مسلمانوں کے ہاتھوں جھیلتے رہے تھے اور صلیبی جنگوں میں ہزیمتوں کا سامنا کرتے رہے تھے۔
عرب میں سازشوں کا جال:
پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اور جرمنی کی ہار کے بعد اتحادیوں نے اس کے حصے بخرے کر ڈالے۔ایک عظیم الشان سلطنت ایک چھوٹے سے خطے میں سمٹ کر رہ گئی۔نجد وحجاز کا وہ علاقہ جسے آج سعودی عرب کہاجاتا ہے، اس پر ترکی کی حکومت تھی، جسے ختم کرنے اور اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے لئے انگریزوں اور یہودیوں نے سازشوں کاجلا بچھا دیا۔ لارنس نامی ایک انگریز جاسوس کو عربوں کے بھیس میں اتارا گیا جو ابتداً آثار قدیمہ کی تلاش کے بہانے یہاں آیا مگر پھر اس نے عرب مسلمانوں کے اندر قومیت کا جذبہ پیدا کیا اور انھیں ترکوں کے خلاف لاکھڑا کیا۔ لارنس کو خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور اسرائیل کے قیام کے مشن پر بھیجا گیا تھا۔ وہ اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس کے بزرگوں نے سات سو سال قبل رچرڈ کی ہمراہی میں مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں میں حصہ لیا تھا۔اس کے اجداد میں سے دو بھائیوں سر ہنری اور سر جان لارنس نے ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی1857ء کو ناکام کرنے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ شریف حسین جو کہ ترکی کے خلیفہ کی طرف سے ہی حجاز پر حکمراں تھا،اسے ترکی کے خلاف لاکھڑا کیا گیا اور اس سے بغاوت کرائی گئی مگر جلد ہی اس کے مقابلے میں ابن سعود کے خاندان کو لایا گیا،جس کے ساتھ انگریزوں نے دوستی اور معاونت کا معاہدہ کیا اور اسی کے نتیجے میں سعودی عرب کا وجود عمل میں آیا۔ 26,دسمبر1915ء کو عمل میں آئے معاہدہ داران کے تحت ابن سعود اور اس کی اولاد کو برطانیہ نے نجد کا حکمراں تسلیم کرلیا اور کسی بھی حملے کی صورت میں اس کی حفاظت کا وعدہ کیا۔ ابن سعود نے تسلیم کیا کہ برطانیہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر وہ کسی کو اپنا علاقہ نہیں دینگے۔ اسی کے ساتھ ہر سال برطانیہ سے ابن سعود کو 60,000پونڈ کی امداد ملنے لگی اور آگے چل کر اس رقم میں اضافہ بھی کردیا گیا۔ سعودی عرب کا وجود برطانیہ کا مرہون منت ہے جس نے ترکی کی خلافت کے خلاف اپنا وفادار یہاں پیدا کرنے کے لئے اسے وجود بخشا تھا۔ پہلی عالمی جنگ میں سعودی عرب نے برطانیہ کا ساتھ دیا تھا اور اس کے بعد سے آج تک وہ برطانیہ اور امریکہ کاحلیف رہا ہے۔ اس کے حدود سلطنت میں مکہ ومدینہ آتے ہیں، اس لحاظ سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس کا احترام کیا جاتا ہے،اس کا فائدہ ہمیشہ اسلام مخالف مغربی قوتوں نے اٹھایا۔ عراق اور افغانستان کی جنگ ہو یا حال ہی میں مصر میں اخوان المسلین کی حکومت کے خاتمہ کی کوشش،ہر مشکل وقت میں سعودی عرب نے برطانیہ اور امریکہ کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ مغربی قوتوں نے عرب کے قلب میں یہودی ملک اسرائیل قائم کیا اور پھر اس کی حفاظت کی جو جو تدبیریں کیں ان میں سعودی عرب کا خاص رول رہا۔ اسی طرح خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں بھی سعودی عرب کا خاص کردار رہا جو برطانیہ کا باقاعدہ معاہد اور تنخواہ دار ایجنٹ تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ مغرب نے جہاں سعودی عرب اور اپنے پٹھوعرب امراء کی حمایت واستعانت کی، وہیں ایران سے برسرپیکار رہے جو اسرائیل کے لئے خطرہ تھا اور اب ترکی بھی نشانے پر ہے جو مغربی اثرات سے باہرنکلنے میں لگ بھگ کامیاب ہوچکا ہے۔
اسرائیل کے قیام کی کوششیں:
ایک طرف مغرب کی قوت اور دوسری طرف پہلی عالمی جنگ میں ترکی کی شکست نے اسے کمزور کردیاتھا۔ ادھر حجاز ونجد میں ابن سعود کو انگریزوں نے پیدا کرکے تخت وتاج کا مالک بنا دیاتھا تاکہ وہ مغرب کے مفاد کا نگہبان رہے۔ ترکی کو کمزور ہوتے دیکھ یہودیوںنے اسرائیل کے قیام کی کوششیں تیز کردیں۔ چونکہ یہودی مالدار اور بارسوخ تھے۔ برطانیہ و امریکہ ہی نہیں پورا یوروپ ان کی دولت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور ان کی سازشوںکے زیر اثر تھا لہٰذا انھوں نے فلسطین کی سرزمین پر اپنے لئے ایک ملک کے قیام کے لئے جد جہد میں اضافہ کردیا، حالانکہ اس کے لئے فری مسن تحریک صدیوں سے جاری تھی ۔ یہودیوں نے سب سے پہلے ترکی کے عثمانی خلیفہ سے اجازت چاہی کہ انھیں یہاں بسنے کی اجازت دے دی جائے مگر خلیفہ نے اجازت نہیں دی۔جب یہودیوں کو احساس ہوا کہ یروشلم پر اتحادیوں کا قبضہ ہوگا تو انھوں نے برطانیہ اور فرانس سے قربت بڑھانا شروع کردیا تھا تاکہ ان کا مقصد کامیاب ہوسکے ۔لندن میں یہودی لیڈر خائم وائز مین اس وقت سرگرم تھا جب مشرق وسطیٰ کے لئے ماسٹر پلان تیار کیا جارہا تھا۔وہ ممتاز سائنسداں اور کیمسٹ تھا مگریہودی سیاست میں گہرا میلان رکھتا تھا۔دسمبر1914ء میں یہودیوں نے برطانوی پارلیمنٹ کے طاقتور اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کی تھی اور پھر ہوم آفس کے انڈر سکریٹری ہربرٹ سموئیل کے ذریعے اپنا کیس کابینہ کے سامنے پیش کیا۔ انڈر سکریٹری نے مبالغہ آمیز طریقے سے یہ کام انجام دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ابھی آزاد اور خودمختار صیہونی ریاست کے قیام کا وقت نہیں آیا ہے مگر برطانیہ کے ساتھ فلسطین کے الحاق کا یہودی خیر مقدم کریں گے۔ اس نے فلسطین کے لئے پانچ متبادل راستے پیش کئے جن میں سے ایک تھا فرانس سے الحاق۔ (2) ترکوںکی تحویل میں رہنے دیا جائے۔ (3) بین الاقوامی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ (4) خودمختار اسرائیل قائم ہو۔ (5) برطانوی مداخلت کے ذریعے یہودیوں کی آباد کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اسی تحریک کا نتیجہ تھا کہ پہلے خلافت کا خاتمہ ہوا اور پھر آزاد و خود مختار اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔
خلافت کا خاتمہ:
خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازشیں صدیوں تک جاری رہیں۔ انگریز بھی چاہتے تھے کہ اس کا خاتمہ ہوجائے اور اس کی جگہ کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنایاجائے جو ان کا وفادار اور پٹھورہے۔ ایک تجویز یہ تھی کہ شریف حسین کو مسلمانوںکا خلیفہ بنایا جائے جو ترکی کی طرف سے عرب پر حکمراں تھا مگر بعد میں اس کی جگہ انگریزوں نے ابن سعود کو پسند کیا۔ دوسرا شخص جمال الدین افغانی تھاجو مہدی ہونے کا دعویدار تھا اور اس کی حیثیت ویسی ہی تھی جیسی کہ ہندوستان میں غلام احمد قادیانی کی تھی۔ خود خلیفہ عبدالحمید دوئم اسے ایک خطرناک آدمی سمجھتا تھا اور اس کا ذکر اس نے اپنی یاد داشت میں کیا ہے۔انگریز وںکو لگتا تھا کہ آج خلافت خواہ کمزور ہوگئی ہے مگر پھر بھی ایک علامتی خلافت ہے جس سے مسلمانوںکا ربط باقی ہے اور ممکن ہے کبھی اس کے پاس حقیقی طاقت آجائے یا خلیفہ کی اپیل پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا اتحاد ہوجائے۔باوجود اس کے انھیں یہ بھی خوف تھا کہ اگر انھوں نے خلافت کا خاتمہ کیا توہندوستان جیسے ملکوں میں کروڑوں مسلمان ہیں جو ان کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور پھر ان کو کنڑول کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ان کے اس مسئلے کو حل کردیا اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا نے جو کہ ایک یہودی نومسلم خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور عربوں کا سخت مخالف تھا۔ اس نے خلافت کا خاتمہ کر کے خلیفہ کے اختیارات پارلیمنٹ کو تفویض کردیئے اور خود ملک کا صدر بن گیا۔ 3مارچ1924ء کو اس نے خلافت کا خاتمہ کیا اور ترکی کو ایک سیکولرجمہوری ریاست قراردے دیا۔ اس کے بعد سے ابتک دنیا میں کبھی خلافت قائم نہ ہوپائی اور مسلمان کا سیاسی و مذہبی مرکز ختم ہوگیا۔