ارطغرل دیکھنے سے اختلاف کیوں؟

علی عثمانی (اخيار الہي)

ارطغرل دیکھنے کو مستحسن اور جائز سمجھنے اور اس کی ترغیب دینے کی مثال ایسی ہی ہے کہ آپ کسی سے کہیں کہ بھائی شراب تو حرام ہے لیکن آپ ایسا کریں کہ شراب میں تھوڑا سا زمزم ملا کر پی لیا کریں ـ خالص شراب سے اچھا یہ ہے کہ آپ زمزم ملی ہوئی شراب پئیں، اس سے آپ کو زمزم کی برکت بھی حاصل ہوگی اور آپ کا شراب نوشی کا شوق بھی پورا ہوجائے گاـ
یہ بات تو سب جانتے اور مانتے ہیں کہ اگر پاک چیز میں ایک جز بھی ناپاک چیز کا شامل کردیا جائے تو پھر اس پوری چیز کو ہی ناپاک کہا جاتا ہے، ورنہ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ بھائی دو چار قطرے اگر گو متر کے مل گئے تو کیا برا ہوا کھانا تو اچھا ہے، مزے دار ہے، ذائقے میں بھی کچھ کمی اور فرق نہیں آیا ، اس لیے مزے سے کھاؤ، صحت بناؤ.
ایک لطیفہ بھی ذہن میں آگیا:
” ایک صاحب کسی خاتون کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے تو ایک صاحب نے ان سے کہا کہ بھائی نامحرم کو دیکھنا گناہ ہے، تو ان صاحب نے جواب دیا کہ بھائی میں تو اللہ کی تخلیق میں غور کررہا ہوں، جس سے اس کی قدرت پر ایمان تازہ ہو رہا ہے کہ اللہ نے کس قدر خوبصورت شئ بنائی ہے "ـ
خیر! آجکل ایک مفتی صاحب کی کلپ بھی سننے کو ملی جس میں وہ ایک طرف تو فرما رہے ہیں کہ میں ڈرامے دیکھنے کو جائز نہیں کہتا اور دوسری طرف فرما رہے ہیں کہ دیگر فلمیں ڈرامے دیکھنے سے اچھا ہے کہ ارطغرل ہی دیکھ لیا جائے، یعنی ایک طرف ناجائز اور دوسری طرف دیکھنے کی بھی اجازت ؟
اجازت دینی ہے تو کھل کر اجازت دیجیے،یہ گول مول بات کرنا کہاں کی شریعت ہے؟ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ "حلال بالکل واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے”ـ
میوزک اور غیر محرم عورتوں کو دیکھنا تو سب کے نزدیک حرام ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں.
(ارطغرل میں خواتین کا کردار موجود ہے، جس کو دیکھ کر بہت سے نوجوانوں کے جذبات بھی بدل گئے ہیں، جس کا اظہار بھی کررہے ہیں، ارادہ تو تھا کہ جہاد کا جذبہ پیدا کریں گے لیکن وہ اب کنفیوز ہیں)
اب کوئی یہ بھی کہے گا کہ بھائی ان کے بغیر ڈرامہ ہی کیا رہا، یہ چیزیں تو ڈرامے کے لیے ضروری ہیں ـ
بہر حال اگر کوئی (ارطغرل) دیکھ رہا ہے تو اس پر کوئی زبردستی نہیں، وہ جانے، کوئی اس کو نہیں روک سکتا، لیکن بات شریعت کی ہے اگر آپ دین و شریعت کو درمیان سے ہٹا دیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں پھرـ
شریعت کا کوئی بھی حکم ہو، اس کو ہلکا بناکر پیش کرنا، اس کو ہلکا سمجھنا اور اس سے بڑھ کر اس گناہ میں اچھائیاں تلاش کرکے ان کو بیان کرنا اور لوگوں کو ترغیب دینا صریح گمراہی ہےـ
جب اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا تو لوگ کہنے لگے کہ سود اور بیع میں کیا فرق ہے دونوں ایک جیسی چیزیں ہیں، "إنما البيع مثل الربا”ـ جس طرح کسی چیز کو بیچ کر نفع کمایا جاتا ہے اسی طرح سود کے ذریعے بھی نفع کمایا جاتا ہے، لیکن قرآن نے بیع اور سود کے درمیان فرق کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک حاکمانہ جواب دیا اور کہا کہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا اور سود کو حرام (بس اب اس حکم پر عمل کرو)
حضرت اسماعیل کی قربانی کا واقعہ بھی اس کی روشن مثال ہے، انہوں فرمایا تھا کہ ابا جان جس چیز کا آپ حکم ملا ہے اس کو انجام دیجیے، ایک مرتبہ بھی انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ ابا جان اس حکم کا کیا مقصد ہے، یہ حکم کیوں دیا گیا؟ آپ اپنے بیٹے (مجھ) پر چھری کیوں چلا رہے ہیں؟
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب شریعت کا حکم آجائے تو پھر اس کو ماننا ضروری ہے، اس کی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اس لیے کہ اسلام کا مطلب ہی تابع داری، اور خود سپردگی کے ہیں ، اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دینا، یہی شیوہ ہے مسلمان کا اور یہی حکم ہے اللہ اور رسول کاـ
یقیناً ہر انسان سے گناہ ہوتے ہیں،ان کی معافی کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے، لیکن توبہ کی کچھ شرائط ہیں:
(1) جس گناہ میں مبتلا ہے اس کو فوراً چھوڑ دیا جائےـ
(2) جو گناہ ہوا ہے اس پر دل سے نادم اور شرمندہ ہوـ
(3) آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ ہو.ـ (اگر ہوجائے تو پھر توبہ کرے)
اگر ہمارے دل میں کسی کام کے گناہ ہونے کا یقین ہوگا تبھی تو شرمندگی اور ندامت بھی ہوگی اگر احساس ہی ختم ہوجائے اور ہم اس عمل کو برا ہی نہ سمجھیں تو پھر توبہ کیسے کریں گےـ
اِنَّمَا التَّوۡبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ فَاُولٰٓئِكَ يَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞
ترجمہ:
اللہ نے توبہ قبول کرنے کی جو ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی ـ
امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ : ” امت کے آخری طبقے کی کامیابی انہی راستوں پر چلنے میں ہے، جن پر امت کا پہلا طبقہ (صحابہ کا) چلا ہے”ـ
مطلب واضح ہے کہ کامیابی کے لیے قرآن و حدیث، سیرت النبی( صلی اللہ علیہ وسلَّم) اور سیرت صحابہ (رضی اللہ عنہم اجمعین) سے استفادہ اور ان کو مشعل راہ بنانا ضروری ہےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*