ارطغرل ڈرامہ:اثرات اور اعتراضات-سمیع اللہ خان

اوغوز ترک قبائل کی عظیم تاریخ پر مشتمل ایک ڈرامہ ترکی نے 2014 میں ریلیز کیاـ یہ ڈرامہ بنیادی طورپر ۱۳ ویں صدی کے عظیم اسلامی ترک جنگجو سردارِ اعلیٰ غازی ارطغرل کی عظمتوں بھری حیات سے عبارت ہے،
یہ ڈرامہ ۵ سیزن پر مشتمل ہے اور ہر سیزن میں ساٹھ سے زائد Episode ہیں، یہ ڈرامہ استنبول ضلع کے ایک گاؤں میں فلمایا گیا،جس میں غازی ارطغرل کا کردار ترکی اداکار ‘ اینجن التان ‘ نے پیش کیا ہےـ
یہ ڈرامہ ” محمد بوزداگ ” نے تخلیق دیا اور ترکی کے صدر اور عالمِ اسلام کے محبوب رہنما رجب طيب اردوغان نے اس ڈرامے کو اپنا تعاون پیش کیا، اسے پھیلانے اور کامیاب بنانے کے لیے اردوغان نے ازخود کوششیں کی ہیں،
یہ ڈرامہ شروعات میں تقریبا ساٹھ ملکوں میں باقاعدگی سے دیکھا گیا، جن میں امریکہ، برطانیہ، وینیز ویلا، افغانستان، قطر، برازیل، آذربائیجان، بوسنیا، بنگلہ دیش، پاکستان، ہندوستان، قزاقستان، انڈونیشیا، عمان، ساؤتھ افریقہ، صومالیہ، تیونس جیسے ممالک کے نام بطور خاص لیے جاتےہیں اور ۲۰۱۹ کے ایک سروے کےمطابق غازی ارطغرل ڈرامہ 146 ممالک میں دیکھا جارہا ہےـ
گریٹر کشمیر کی ایک اشاعت کے مطابق اس ڈرامے نے ریکارڈ توڑ ہالی ووڈ سیریز ” گیمز آف تھرونس ” کی بھی برابری کرلی ہے اور کئی اعزاز یافتہ ہالی ووڈ پیشکش کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے ـ
ارطغرل غازی پر یہ ڈرامہ کامیابی کے ساتویں آسمان کا سفر کرچکا ہے یوٹیوب کی ایک رپورٹ کے مطابق جب سے یہ ڈرامہ آیا ہے خود یوٹیوب کو بھی فائدہ ہورہا ہے،کئی لاکھ یوٹیوب سبسکرائبر صرف اسی ڈرامے کی وجہ سے مل رہےہیں ـ
پاکستان میں جب اس ڈرامے کو باقاعدہ ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیا جانے لگا تو اس ڈرامہ کو دیکھنے کے لیے ۱ کروڑ ۳۰ لاکھ سے زائد ناظرین کا ریکارڈ درج کیاگیاہےـ
میں نے دیریلیس ارطغرل غازی کا تذکرہ پہلی دفعہ بھائی شہاب عالم قیامی سے محفل فکرونظر گروپ میں سنا تھا، بعدازاں میرے بےحد عزیز دوست انجینئر شفیع اللہ (بالاپور آکولہ) کے ذریعے مجھے یہ ڈرامہ ڈیڑھ سال قبل دیکھنے کا موقع ملا، پھر ہم نے اس ڈرامے کی مزید اشاعت کا فیصلہ کیا، واٹس ایپ گروپ بنائے گئے،پہلے مرحلے میں چار پھر مزید تین پھر اس طرح کر کرکے واٹس ایپ ٹیلی گرام ملا کر ڈیڑھ سال پہلےہی ایک نیٹورک بناکر یہ ڈرامہ تین ہزار لوگوں کو دکھایا تھا اور ان میں سے بیشتر مردوخواتین نے بھی آگے اس کو پہنچایا، جب ہم نے یہ کام کیا تھا تب اس کے خلاف کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوا تھاـ
جو پیغام، جو دعوت اور تاریخ کی جس جھلک کو ہم مجموعی عالم اسلام کو دکھانا چاہتے تھے اور انہیں اپنا بھولا سبق تازہ کرانا چاہتےتھے وہ تاریخی کام اس ڈرامہ نے کردیا،
یہی وجہ ہےکہ اسلام دشمن اور خدا کے منکرین کا طبقہ اس ڈرامے کے خلاف بہت ہی بدترین بدہضمی کا شکار ہےـ کیونکہ غازی ارطغرل کا یہ تاریخی ڈرامہ مسلمانوں میں جس نظریے اور جذبات کو انگیخت کررہاہے اسی سے مسلمانوں کو دور رکھنے کے لیے عالمِ کفر نے گزشتہ ۲ سو سال لگاتار محنت کی ہےـ دیریلیس ارطغرل غازی نے عالمِ عربی کے امریکہ نواز کٹھ پتلی شاہوں کے استعمار پر مضبوط چوٹ پہنچائی ہے، دیریلیس ارطغرل غازی موجودہ اسلامی دنیا پر دشمنوں کی طرف سے مسلط کردہ ” امیر بہاءالدین ” کے مانند امریکی اور اسرائیلی لابی کے غلام حکمرانوں کو بے نقاب کرتاہے، سعودیہ اور مصر کی خوفزدگی کا تو یہ عالم ہے کہ انہوں نے اس ڈرامے پر پابندی عائد کرنے اور اس سے اپنے ملک کے نوجوانوں کو بچائے رکھنے کے لیے ہزار جتن کیے کیونکہ اس ڈرامے کے نظریاتی پیغام سے مصر اور سعودی کے ڈکٹیٹر امریکہ نواز فرمانرواؤں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے چنانچہ مصر کے درباری مفتیوں نے اس کے خلاف فتوے بھی داغےـ
بہت سے ممالک کے مسلمان اس ڈرامے سے محض اسلیے خوفزدہ ہیں کہ مبادا ان کی حقیقی دوکانیں اور پردے کے پیچھے والے چہرے تلاش کرنے کی جستجو نا لگ جائے ،
کفار سے سمجھوتہ کرچکے غلامی اور محکومیت پر راضی اور زندگی خریدنے والے ہر مسلم طبقے کے نزدیک یہ ڈرامہ ناقابل قبول ہوگا کیونکہ یہ حریت، غیرت اور اپنی مطلق آزادی کا پیغام دیتاہے، یہ ظالموں کے خلاف اقدام اور مظلوموں کے حق میں قربانی دینے پر ابھارتا ہےـ
دوسری طرف کفر کے لشکر، حقوق انسانی، ڈرامہ اور فلموں کے علمبردار دیریلیس ارطغرل کی مقبولیت سے دوغلے ہوئے جارہےہیں ـ
امریکہ اور برطانیہ سے نہایت پرزور انداز میں اس کی مخالفت ہورہی ہے، نیویارک ٹائمز نے تو اس کے خلاف اشاعت کر رکھی ہے، جب نیویارک ٹائمز جیسا جریدہ کسی اسلامی تاریخ کی سیریز کےخلاف میدان میں اتر آئے، اور پھر گستاخِ خدا و رسولﷺ طارق فتح جیسا بدترین اسلام دشمن شخص بھی دیریلیس ارطغرل کےخلاف زہر اگلتا ہو، تو پھر اس سے مرتب ہونے والے اثرات کو بخوبی سمجھ لینا چاہیےـ
لبرل خدا بیزار ملحد طبقے نے اس دیریلیس ارطغرل کے خلاف آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے، بیشتر کمیونسٹ مارکسی اور مذہب بیزار ٹولہ اسے بند کروانے کا مطالبہ کررہاہے، کیونکہ اس ڈرامے نے بغیر فحاشیت، بغیر زناکے مناظر، بغیر ننگے پن کے ایک ریکارڈ توڑ کامیاب ڈرامہ فلما لیا ہے، اس سے ڈراموں اور فلموں کے ذریعے مسلمان نوجوانوں میں ان کی پھیلائی ہوئی فحاشیت اور عریانیت خطرےمیں ہےـ
کہتےہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے کچھ ایسا ہی ہے لبرل، مارکسی اور صہیوني ٹولے کے ساتھ، جب یہ لوگ کسی چیز کو ناکام یا مسلمانوں کو کہیں ڈھیر کرنا چاہتےہیں تو یہ لوگ حقوق نسواں، حقوقِ اطفال اور حقوق انسانیت کی فریاد لگاتےہیں، ایسا ہی کچھ ہورہاہے دیریلیس ارطغرل کے خلاف ان لوگوں کی طرف سے، اب یہ اعتراضات اٹھا رہے ہیں کہ اس ڈرامے میں کفار و منافقین کی گردنیں مارنے کے جو مناظر ہیں اس سے نئی نسل اور تربیتِ اطفال کے حقوق مسخ ہورہےہیں اور ایسے مناظر سے برے اثرات مرتب ہوں گےـ
اس کا جواب یہ ہےکہ: آج دیریلیس ارطغرل کے چند مناظر سے تربیت اطفال کی فکر ان لوگوں کو ستا رہی ہے جن کی تاریخ مسولینی اور اسٹالن جیسے لوگوں سے بھری پڑی ہے، جن کی اپنی فلم اور ڈرامہ انڈسٹریز میں ہارر، تشدد، Drugs and sex addict, Sexual Harassment,, Serial Killings, Violence, اور ایسے بیشمار موضوعات پر فلمیں موجود ہیں، جن کو دیکھ دیکھ کر نفسیاتی طورپر نوعمر بچے یا تو زنا کی طرف راغب ہوتےہیں، یا تشدد یا جنسی زیادتی یا منشیات نشہ آور دواؤں یا پھر ہتھیار لیکر قتلِ عام کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، مغرب میں ایسے وحشیانہ قتل عام کے کتنے ہی سانحے رونما ہوچکےہیں اور دیگر مجرمانہ معاملات سے پورا مغرب پناہ بخدا کی گہار پر ہے اور یہ صورتحال ان موضوعات کی فلموں اور ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے، یہ ہے ویسٹرن کلچراور اپنے اندر ایسا تعفن رکھنے والے جب دیریلیس ارطغرل میں غدار منافقین کے سر قلم ہونے اور صلیبی جنگجوؤں کی موت کے مناظر پر رونے لگیں اور انسانیت کی دہائی دیں تو پھر اس دوغلی نفسیات میں چھپے جذبے کو بہتر سمجھ لینا چاہیےـ
بعض مذہبی گروپس کی جانب سے بھی دیریلیس پر فتوے جاری کیے گئے ہیں جو کہ درحقیقت اہلِ افتا کے Outdated ہونے کی وجہ سے ہے، یہ بات ہم ان کےمتعلق کہہ رہےہیں جنہوں نے فتویٰ دینے سے آگے بڑھ کر اس ڈرامے کو یہودی اور نصرانی سازش باور کرانے پر پورا زور صرف کررکھاہے، اگر وہ موجودہ دنیا میں کفر و نفاق اور خدا بیزار طبقے کی سیاسی و فکشن والی دنیا سے مربوط رہتے، اس ڈرامے سے مرتب ہونے والے مثبت تعمیری اثرات اور اس میں موجود نقائص کے بے اثر ہونے کا مشاہدہ کرلیتے تو یقینًا ایسے فتاویٰ وجود میں نہیں آتے، بہتر ہوتا کہ اس ڈرامے کو بین المسلمین مذہبی بحث کے حوالے کرکے انتشار کا موقع نہ دیاجاتا، اہل افتا ہمارے محترم حضرات ہیں انہیں چاہیے کہ فتاویٰ میں نبضِ زمانہ کا لحاظ کرتے ہوئے مزاجِ شریعت کو سمجھائیں، یقینًا یہ کوئی عین شرعی تخلیق بھی نہیں ہے کہ لوگ اسے باوضو دیکھ رہےتھے؟ اگر اہلِ افتاٹکنالوجی کی اس لڑائی میں رجب طیب اردوغان کا ہدف سمجھتےاور انہوں نے جو کچھ اسلامی تاریخ اور اسلامی ہیروز کو مغربی کلچر اور الحادی ہیروز کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پیش کرنا شروع کیا ہے اگر یہ منصوبہ اور تاریخ اسلامی کا پروجیکٹ سمجھ آجاتا تو شاید فکشن کی دنیا کی اس جنگ میں آپ نادانستہ نہیں رہتےـ آپ واقف ہوجاتے کہ اردوغان کم از کم تبرائی شیعیت، اور یہودیت پھیلانے کا کام نہیں کرسکتے، جیساکہ کچھ لوگوں کے مضامین سے ظاہر ہوا ہےکہ ارطغرل سیرئیل یہودیت اور شیعیت پھیلاتا ہےـ
یہ ڈرامہ دیکھنا عبادت نہیں ہے، ناہی اسے حلال قرار دینے کے لیے کوئی مطالبہ ہے، یہ صرف ایک ذریعہ ہے جس میں عروجِ اسلامی اور غیرت ایمانی کی تاریخی جھلک ہے، بیشمار چیزوں کے لیے بیشمار ذرائع رائج ہوچکے ہیں، سب میں کہیں نا کہیں کمی رہ جاتی ہے، لیکن عقلمند لوگ یا تو اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں یا کمی دور کرکے پیش کردیتے ہیں، لیکن شومئی قسمت سے مجاہدین اور جہادِ حریت، اسلامی عروج اور اسلام پسند ہیروز کی تاریخ پر جنہوں نے صرف برائے نام کیااور کبھی نوجوانوں کو اپنے ماضی، عظمت رفتہ اور ابطالِ اسلامی سے دلچسپ بنا کر مربوط نہیں کرسکے وہ ایک دلچسپ تاریخی سلسلے کی مخالفت کرتےہیں جبکہ اس کے اثرات سے کفریہ ایوان کے پیٹ میں مروڑ ہے، یاد رکھنا چاہیے کہ صرف فتویٰ ہی مطلوب نہیں ہوتاہے، بلکہ فتویٰ کے ساتھ متبادل بھی لازمی ہے، کاش کہ فتویٰ دینے والوں کو یہی خبر پتا ہوتی کہ اسی دیریلیس ارطغرل غازی کو دیکھ کر لوگ اسلام تک قبول کررہےہیں،اہلِ افتا اپنی فہم کے مطابق جو مناسب ہو کریں لیکن فتویٰ کا اثر باقی رکھیں کہ یہ ایک قیمتی شئے ہوا کرتی تھی، اور ضروری ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مظلومیت اور ظالموں کےخلاف بھی اظہار فرمائیں، قبلۂ اول فلسطین کو واپس لینے سرزمین قدس پر اللّٰہ کا حق نافذ کرنے کے متعلق عربی دنیا پر کیا فریضہ ہے؟ اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر کیا فریضہ ہے؟ جہادِ فلسطین کے متعلق ان کا کیا فتویٰ ہے؟ سعودیہ اور مصر کی جیلوں میں قید مجاہدین اور مشائخ اسلام کے متعلق اپنے فتویٰ کا اظہار فرمائیں؟ ضروری ہے کہ اہل افتا ایسے بنیادی اسلامی قضیوں پر آج کی صورتحال کے پیش نظر فتاویٰ جاری فرمائیں تاکہ ان کے فتاویٰ میں شاہ عبدالعزیز ؒ جیسا بلند اور مجاہدانہ آہنگ بھی ہوـ
دیریلیس ارطغرل غازی ایک شاہکار نظریاتی قوت کا ثبوت دے رہا ہے،اس نے پوری دنیا میں مسلم نوجوانوں کے اندر عروج کی انگڑائی پیدا کردی ہے، اس ڈرامے نے مسلمانوں کو اپنے ماضی کے عظیم شہسواروں اور ہیروز کی جستجو میں ڈال دیا ہے، امریکہ اور برطانیہ کے پروڈکشن ہاؤز کا اثر مسلمانوں سے کم ہوگیا، مغرب، بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کے مسلط کردہ شیطانی ہیرو اپنا اثر کھو رہےہیں، اب مسلمانوں کی سوشل میڈیا شراکت اور رول ماڈل میں غازی، سپاہی، سلطان، تلواریں اور اسلامی اخوت نظر آنے لگی ہیں، اس ڈرامے نے بغیر فحاشیت کے، پاکیزہ رشتوں کے اصول بتائے ہیں، اس ڈرامے نے خواتینِ اسلام کی نظریاتی قوت اور ان کے کردار کو بھی انگیز کیا ہے، دیریلیس ارطغرل کا بنیادی نظریہ ہیکہ ہم بھوکے پیاسے رہ سکتےہیں لیکن اپنی ریاست کے بغیر نہیں رہ سکتے، یہ نظریہ مادّی دنیا پر بڑا شاق ہے، دیریلیس ارطغرل مسلم نوجوانوں کوتدبیر، تفکر، تعلق مع الله، مسلسل جدوجہد اور ہرحال میں باعزت اور باغیرت زندگی کی تعلیم دیتاہے، وہ اپنی صفوں میں موجود ایوانِ حکومت کے چاپلوسوں کی شناخت سکھلاتا ہے اور دشمنوں پر کاری ضرب لگانے کا ہنر دیتاہے، اس ڈرامے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صلیبی دہشتگردوں اور شیطانی منگولوں کو ان کی نمائندہ علامات، ان کے تاریخی لباس اور جھنڈوں سمیت بار بار اہلِ اسلام کے ہاتھوں شکست کھاتے، ہزیمت اٹھاتے اور ذلیل ہوتے دکھایاگیا، یہ سب سے بڑا درد ہے جسے مغرب سہہ نہیں پارہا ہے، کوئی بات نہیں،کل تک تم لوگ اپنی تاریخ گڑھتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ايسے ہی مناظر فلماتے تھے، آج اردوغان نے اصلی تاریخ پیش کرتے ہوئے تمہاری اصلی تاریخی حیثیت کو پیش کردیا ہے، اب آئینے پر تاؤ نہ کھاؤـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*