اردوگان نے ترکی کو مطلق العنان ریاست میں بدل دیا:داؤد اولو کا الزام

انقرہ:ترکی کے سابق وزیر اعظم اور فیوچر پارٹی کے سربراہ احمد داؤد اولو کا کہنا ہے کہ 2016میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد کیے گئے فیصلوں نے ترکی کو مزید مطلق العنانیت کی طرف دھکیل دیا۔پیر کے روز یونانی اخبا ر سے گفتگو کرتے ہوئے اولو نے کہا کہ انقرہ حکومت کی موجودہ روش ترکی کو یورپ کے جمہوری اور انتظامی ماڈل سے دور لے جا رہی ہے۔سابق وزیر اعظم نے توجہ دلائی کہ یونان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے مگر بحیرہ ایجہ میں مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ اولو کا کہنا تھا کہ ہم کسی حل تک پہنچنے کی توقع نہیں کر سکتے۔داؤد اولو کے مطابق آج ترکی میں خوف کے ماحول کی ذمے دار موجودہ حکومت ہے۔ پہلے ان لوگوں نے خوف پھیلایا اور پھر انسانی حقوق کے حوالے سے عملی منصوبے کی بات کی۔فیوچر پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ زیر بحث آنے والے شہری آئین کے تعین میں واضح موقف رکھے ، ہم بنیادی طور پر 12 ستمبر کے آئین (موجود آئین) کے مخالف ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ کہتے ہیں کہ میں موجودہ آئین کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر ان پر اس بات کا تعین لازم ہے کہ شہری آئین کے عناصر کیا ہیں۔ بہتر ہے کہ لوگوں کی توجہ دیگر ایجنڈوں کی طرف مبذول نہ کرائی جائے ۔